Wed, September 16, 2026

فیض نیازی ایجنڈا تار تار.... !

فیض نیازی ایجنڈا تار تار.... !

فیض عمران گٹھ جوڑجمہوریت پسندوں کو بہت پہلے ہی سمجھ آچکا تھا۔ دبے الفاظ میں سرگوشیاں شروع ہوئیں، پھر آہستہ آہستہ سوالات ہونا شروع ہوئے۔ مختلف کردار سامنے آنا شروع ہو گئے۔ یہی نہیں اس کھیل میں نئے سے نئے کردار بھی بے نقاب ہوتے چلے گئے۔ یوں لگ رہا تھا کہ پاک فوج جیسے پروفیشنل ادارے کو بدنام کرنے کے لئے ایک بڑا افسر دانستہ یہ کھیل کھیلنا چاہتا تھا۔ حساس اور اہم پوسٹ پر بیٹھا یہ افسر کبھی سیاسی رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کرتا پایا جاتا تو کبھی یہ ظاہر کرتا کہ پورا ملک اسی کے رحم و کرم پر چل رہا ہے۔ یہ افسرمعمول سے ہٹ کر چل رہا ہے۔ یا یہ بھی عین ممکن تھا کہ یہ افسر بھی اپنے باس کی طرح ملک کو "عملیات "کے سہارے چلانے کا سوچ رہا تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ کھل کر سامنے آنا شروع ہوگیا۔ یہ شخص ملک کے سربراہ کے ساتھ مل کر آئندہ دس سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے کا پلان بنا رہا تھا۔ "ستاروں کی چال " شاید اس وقت اس کے ساتھ تھی۔یہ سمجھ رہا تھا کہ ملک میں اقتدار اور ہر فیصلے کو اپنے ہاتھ میں لینا بہت آسان ہے۔ پاکستان جمہوری قوتوں سے کبھی خالی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ نہ ہی یہ ممکن ہے کہ دنیا کی مضبوط ترین افواج میں سے ایک پاک فوج اپنے ایجنڈے سے ہٹ جائے۔ پس قانون کی حاکمیت کا پرچم پھر سے بلند ہوا اور ثابت ہو گیا کہ ایک کرکٹر ملک کو کرکٹ ٹیم کی طرح چلانا چاہتا تھا جبکہ دوسرا اس کا نائب کپتان بن کر طویل المدتی کھیل کے چکر میں تھا۔ یہ منصوبہ فلاپ ہو چکا ہے۔ فیض ،نیازی کی ٹیم تشکیل نہ پا سکی۔ ایک بڑا منصوبہ، اور پاکستان کو عدم استحکام کی سازش یہ سب کچھ تار تار ہو چکا۔ افواج پاکستان نے فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی دی۔ یہی فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ عمران خان اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ محض ایک “سیاسی تعلق” نہیں تھا بلکہ ریاستی نظم بدلنے اور فوج کو سیاست کے دائرے میں گھسیٹنے کا ایک بڑا کھیل تھا۔عمران خان بطور وزیرِاعظم فیض حمید کے ساتھ افواج پاکستان کی کمان زنجیر کو توڑتے ہوئے ایک براہ راست چینل بھی چلا رہے تھے۔یہ افواج پاکستان کی چین آف کمانڈ کی کھلی خلاف ورزی تھی، جس نے ایک چھوٹے عرصے کے لیے پورے سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا۔دونوں کی سیاسی بقا اور طاقت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔ عمران خان کو سیاسی کنٹرول چاہیے تھا اور فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی سے آگے بڑھ کر پورے سسٹم پر گرفت۔مئی انہی دونوں کے “مشترکہ ڈیزائن” کا کلائمیکس تھا۔ ریاستی اداروں پر منظم حملہ ایک قدرتی حادثہ نہیں تھا۔ یہ Politicization of Pakistan Army کا عملی مظاہرہ تھا۔ عمران خان واقعی فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یعنی یہ معاملہ اب “رائے” نہیں رہا۔ یہ سٹیٹ کا شواہد پر مبنی قانونی فیصلے کی پہلی کڑی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان یہ سب کیوں کر رہا تھا؟ اس کا جواب بظاہر یہ ہو سکتا ہے کہ یا تو عمران خان بھارت کی ایما پر سب کچھ ہو رہا تھا۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ بیرونی دنیا میں بیٹھی مضبوط یہودی لابی عمران کے ساتھ تھی ، اسی کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اسی یہودی لابی نے پراجیکٹ عمران خان لانچ کیا جو پکڑا گیا۔۔ فیض حمید اور عمران خان دونوں ایک Win-Win کھیل رہے تھے۔ عمران خان سیاسی مذہبی ہیرو بنتا، اور فیض حمید وہ فوجی بن جاتا جسے سویلین حکومت اور درپردہ عالمی لابیز دونوں سپورٹ کریں۔ دونوں کی پارٹنر شپ انہی دونوں کو تو فائدہ دے رہی تھی مگر یقینی طور پر اس کھیل میں نقصان وطن عزیز کا تھا۔۔ فیض کی قید کا فیصلہ صرف ایک فرد کی سزا نہیں یہ اس پوری Faiz-Imran Political engineering کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی افواج پاکستان میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی یا اس کو سیاست میں گھسیٹنے کی سازش کی اس کا انجام برا ہی ہوا۔ نیازی کی تباہ کاریاں ملک کو بہت پیچھے لے جا چکیں اور فیض کی پارٹنر شپ نے فوج میں بھی نظم و ضبط خراب کرنے کی سازش کی۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ پاک فوج نے ایک ایسے بڑے افسر کو سزا دی ہے جو اختیارات سے تجاوز کر چکا تھا۔ اس کے پاس عہدہ تھا مگر اس نے اپنے اس عہدے کا غلط استعمال صرف اس لئے کیا کہ نام نہاد کپتان سہانے خواب دکھا چکا تھا۔ جیسا کہ میں نے لکھا کہ یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ یہودی لابی اس کرکٹر کو سپورٹ کر رہی تھی۔ مگر جو کچھ بھی ہوا بتانے کا مقصد یہی ہے کہ وطن عزیز ایک اور گہری سازش سے بچ گیا اور پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ کپتان اور نائب کپتان اب ٹیم سے ہمیشہ کے لئے آو¿ٹ ہو چکے۔

ٹیگز: