Wed, September 16, 2026

سیلاب کی لپیٹ میں کئی علاقے، گاؤں مٹ گئے، زندگی مفلوج

سیلاب کی لپیٹ میں کئی علاقے، گاؤں مٹ گئے، زندگی مفلوج

پشاور:ملک کے مختلف حصوں میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی۔ ہنستے بستے شہر ویران ہو گئے، گھر، دکانیں، بازار اور عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جبکہ متعدد قیمتی گاڑیاں پانی میں بہہ کر ناکارہ ہو گئیں۔

بونیر میں سیلابی ریلے نے پورے گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ لوئر دیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں بہہ جانے سے دیہی علاقوں کا شہروں سے زمینی رابطہ ختم ہو گیا۔ شہریوں کو خوراک، پینے کے پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

گلگت بلتستان میں شگر کو ملانے والی واحد شاہراہ بند ہو چکی ہے، جس کے باعث علاقے کے لوگ محصور ہو گئے ہیں۔ مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے۔

دوسری جانب، ہری پور میں تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھلنے کے بعد 5 ٹی پاور ہاؤس میں پانی داخل ہو گیا، جس سے مشینری اور کنٹینرز زیرِ آب آ گئے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم بعض مقامات پر راستے بند ہونے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

ٹیگز: