Thu, September 17, 2026

(ن) لیگ انڈر پریشر کیوں؟

 (ن) لیگ انڈر پریشر کیوں؟

پانچ دہائیاں ہوئی ہیں صحافتی تجربہ اور تھوڑی بہت فہم و دانش کی روشنی میں جائزہ لیتا ہوں تو مجھے ن لیگ خاصی انڈر پریشر نظر آتی ہے اور اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ،پر غور کرتا ہوں تو کوئی خاص وجہ بنیاد نہیں بلکہ محض ایک نفسیاتی کیفیت کا ادراک ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بلاول سے شازیہ مری تک ہر چھوٹا بڑا رہنما اور کارکن مسلسل یہ تکرار کر رہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت ہماری وجہ سے قائم ہے۔، یہ بات مسلسل کرنے سے ن لیگ کے لیڈروں پر ایسا نفسیاتی اثر ہوا کہ وہ بھی ایسا ہی سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے ٹی وی ٹاکس میں شرکت کرنے والے ن لیگ کے وزراء ہوں یا لیڈر ، بہت مدافیعانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً پیپلز پارٹی والے ہمارے اتحادی ہیں۔انہیں منا لیں گے۔ ان کے تحفظات دور کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ، ان جملوں سے اس کے سوا کوئی دوسرا نتیجہ اخذ ہی نہیں کیا جا سکتا کہ اپنی حکومت برقرار رکھنے کیلئے یہ پیپلز پارٹی کو راضی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ ن لیگ کے سینیٹر افغان اللہ خان نے لٹیا ہی ڈبو دی فرمایا’’کولیشن گورنمنٹ میں یہ نہیں ہو سکتا کہ پیپلز پارٹی کی بات نہ سنی جائے کیونکہ ان کے بغیر حکومت چل نہیں سکتی‘‘
 اس جملے کو جو سنے گا یہی نتیجہ اخذ کرے گا موصوف اپنی حکومت کی لاچارگی کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا سن کر ہی ن لیگ کی حکومت بچ سکتی ہے۔ 
حالانکہ ن لیگ کے لیڈروں کے پاس اس کا شافی علاج موجود ہے۔ وہ جواب دے سکتے ہیں کہ بلاشبہ ہماری حکومت تمہاری حمایت کی مرہون منت ہے لیکن تم نے بھی ملک کا سب سے بڑا منصب یعنی صدر مملکت کا عہدہ ہماری وجہ سے حاصل کیا دوسرا بڑا منصب چیئرمین سینیٹ بھی ہماری حمایت کی دین ہے۔ قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں گورنروں کے عہدے ہماری حمایت کے طفیل ہی ملے ہیں۔ ن لیگ کی حمایت سے ہی بلاول کے والد محترم کو صدارتی استثنیٰ ملا ہے ورنہ آج اومنی گروپ کے حوالے سے جعلی اکاؤنٹس کے مقدمات میں نیت عدالتوں میں چکر لگا رہے ہوتے۔ میرا دعویٰ ہے اگر کبھی ن لیگ کے لیڈروں نے ایسی جرات گفتار کا مظاہرہ کر دیا تو بلاول سمیت پوری پیپلز پارٹی کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ 
اسی طرح جہاں تک 6 نہروں کا معاملہ ہے ن لیگ کے کسی ایک لیڈر نے اس معاملہ کی مکمل آگاہی حاصل نہیں کی۔ بلاول سمیت پوری پیپلز پارٹی نے ان پر چڑھائی کر رکھی ہے۔ ن لیگ کے لیڈروں سے میری مراد وہ لیڈر ہیں جو آئے روز ٹی وی ٹاکس میں ن لیگ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان سے بہتر تو پی ٹی آئی کے نثار جٹ نے رانا مبشر کے پروگرام میں سندھ میں پانی ، دریاؤں ، نہروں اور غیر قانونی موگوں وغیرہ کی تفصیل بیان کر دی ہے۔ 
ن لیگ کی قیادت نے کسی خاص مصلحت کی بنا پر سندھ میں ن لیگ کو عضو معطل بنا کر رکھا ہوا ہے اس سے پیدا شدہ خلاء میں جماعت اسلامی اور اہل حدیثوں کی سیاسی جماعت مرکزی مسلم لیگ کو سندھ میں خوب پاؤں پھیلانے کے مواقع مل رہے ہیں۔ اتحادی ہونے کے باعث ن لیگ سندھ میں سیاسی میدان میں پیپلز پارٹی کیلئے مشکلات پیدا نہ کرے لیکن اپنے سیاسی وجود کی نشو و نما پر تو خود ہی روک نہ لگائے۔ یہ میرے نہیں ن لیگ کے دیرینہ مخلص وابستگان کی سوچ اور خواہش کا مظہر ہے۔ 
جہاں تک نہروں کا معاملہ ہے اس کی مخالفت پیپلز پارٹی کی سیاسی ضرورت بن گئی ہے کیونکہ قوم پرست جماعتوں نے اسے بڑا سیاسی معاملہ بنا کر سندھ میں پیپلز پارٹی کو قوم پرستوں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر بات کرنی پڑ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) مقبول باقر رضوی کے ذریعے اختلاف کا ڈول ڈلوا کر ضرورت پڑنے پر وفاق کو زیر دباؤ لانے کی جو پیشگی حکمت عملی تیار کر رکھی تھی قوم پرستوں نے بڑی ہوشیاری سے اسے اچک لیا ہے۔ یاد رہے جسٹس (ر) مقبول باقر رضوی کے آصف زرداری سے قریبی تعلقات سے ہر کوئی آگاہ ہے۔
بلاول نے نوڈیرہ میں قومی بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ دینے کو مشاورت سے مشروط کیا ہے کیا یہ چھ نہروں کی تعمیر رکوانے کے لئے ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ پیشگی دھمکی ہے وفاقی بجٹ منظور کرانا ہے تو یہ مطالبہ تسلیم کرو اور یہ مطالبہ کیا ہے۔ پنجاب میں سپیس دو اور پنجاب میں سپیس دو کا مطلب ہے جنوبی پنجاب پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کچھ کے نزدیک یہ دور کی کوڑی ہو، بس ایک ماہ انتظار کر لیا جائے۔ کیا قومی بجٹ منظور کروانے کیلئے ن لیگ قیادت یہ کڑوا گھونٹ بھرے گی۔ ایسا ہوا تو 4 مارچ 2025 ء کے کالم کا اقتباس غور طلب ہے۔ اس سلسلے میں میاں نواز شریف کو اس بنیاد پر قائل کرنے کوشش کی جا سکتی ہے کہ پنجاب میں ہم نے بہت کام کر لیا ہے پیپلز پارٹی کو تھوڑی سی سپیس دینے سے کیا فرق پڑے گا۔ اگر میاں نواز شریف اس پر قائل ہو گئے تو یہ اونٹ کو خیمے میں گردن ڈالنے کی اجازت جیسا ہوگا۔ نیب قوانین میں ترمیم کے موقع پر پیپلزپارٹی بلاول کے ذریعہ یہ حربہ آزما چکی ہے جب بلاول نے اس بل کی حمایت کیلئے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو گھر تعمیر کر کے دینے کیلئے 22 ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ بلاول کو یہ رقم مل گئی تھی یا نہیں لیکن پورے ملک کی طرح یہ ضرور معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی نے نیت قوانین ترمیمی بل کی حمایت کی تھی اور اس وقت سے بلاول نے 22 ارب روپے نہ ملنے کی بات بھی نہیں کی ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں اگر یہ رقم مل گئی تھی تو سندھ میں سیلاب سے متاثرہ کتنے لوگوں کو کہاں، کہاں گھر بنا کر دیئے ہیں اور اگر یہ رقم نہیں ملی تھی تو سندھ کے سیلاب سے متاثرہ غریب لوگوں کیلئے اٹھنے والی آواز کیوں بند ہوگئی ہے۔ یہ کیا راز ہے۔ 
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے اس بیان کے حوالے سے کہ چھ نہروں کی منظوری صدر زرداری نے ایوان صدر میں منعقدہ اجلاس میں دی تھی، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن اور ترجمان سعدیہ جاوید نے عظمیٰ بخاری کو آئین پڑھنے کا طعنہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں صدر کو ایسا اختیار کہاں ہے پنجابی کی ایک ضرب المثل ’جیسا منہ ویسی چپیڑ ‘ کے مصداق عظمیٰ بخاری جو چھوٹی بہن کی طرح ہے یہ جواب بھی دے سکتی تھی کہ جس آئین کے تحت صدر زرداری ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کے اجلاس اس وقت تک بلاتے رہے جب تک عدالت عالیہ نے اس کا نوٹس نہیں لے لیا تھا۔
کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ سولہ ماہ کی مخلوط حکومت کے دوران میاں نواز شریف نے شہباز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کے بعد عام انتخابات کا اعلان کر دیا جائے اگر میاں شہباز شریف یہ مشورہ مان لیتے تو آج ملک کا سیاسی منظر نامہ کتنا مختلف ہوتا۔

ٹیگز: