دوحہ: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے حالیہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور اسے عالمی قوانین، انسانی اقدار اور خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک نہایت اہم اور افسوسناک صورتحال میں اکٹھے ہوئے ہیں، جہاں اسرائیل نے قطر جیسے برادر اسلامی ملک کی خودمختاری اور سلامتی کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ حملہ اس کی مسلسل جارحیت کا تسلسل ہے، جس نے نہ صرف خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا بلکہ عالمی برادری کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔ انہوں نے سوال اٹھایا: “اگر اسرائیل واقعی مذاکرات کا خواہاں تھا، تو پھر حملے کیوں؟”
وزیراعظم نے اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے۔ "یہ مظالم صرف جنگ نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم ہیں، جن کا احتساب ناگزیر ہے،" وزیراعظم نے کہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اور اقوام متحدہ میں اس کی رکنیت معطل کی جائے۔ وزیراعظم نے غزہ کے شہریوں کے لیے فوری اور ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی پر بھی زور دیا۔