وسطی پنجاب کے بعد جنوبی پنجاب میں سیلابی ریلوں سے تباہ کاریاں جاری ہیں۔ پنجاب کی تاریخ کے بدترین سیلاب نے بہاولپور، بہاولنگر، ملتان اور مظفر گڑھ کو جکڑ لیا ہے۔ ہر طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے ۔ سیلاب میں پھنسے لوگ درختوں اور چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ سیلاب متاثرین کی اتنی بڑی تعداد ایک انسانی المیہ کا روپ دھارنے کو ہے۔ لوگ روکھی سوکھی روٹی کو بھی ترسنے لگے ہیں۔ اس سیلاب نے کئی جانیں نگل لی ہیں۔ بچے، بڑے، بزرگ خوفناک سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ ابھی تو ابتدا ہے اور ریسکیو سمیت دیگر ادارے کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو پانی سے نکال کر خشکی پر لایا جائے اور کچھ نہیں تو جانی نقصان کو ہی کم کیا جا سکے۔ اس خوفناک سیلاب کے تباہ کن اثرات تو ابھی آنا باقی ہیں۔ ویسے تو مملکت خداداد میں سیلابوں کا آنا جانا کوئی تعجب کی بات نہیں، ہر سال ہی سیلاب آتے ہیں۔ مگر انتظامیہ کی لاپروائی اور کوتاہیوں نے اس قدرتی آفت کو عوام کے لیے وبال جان بنا دیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جاتی اور جب سر پر پڑتی ہے تو وسائل کا رونا روتے یہی انتظامی ادارے بے بسی کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔ ریلیف کے ادارے صرف فوٹو سیشن تک محدود ہیں انتظامیہ کی پھرتیاں بھی کاغذوں پر دکھائی دیتی ہیں۔ اس بار سیلاب سے بہت ساری جانیں تو ریسیکیو کرنے والی غیر معیاری کشتیوں کی وجہ سے ضائع ہو گئیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر ریسیکیو کرنے کیلئے کشتیوں کی ایک بڑی تعداد درکار تھی اور اس کیلئے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ جو چند دستیاب تھیں وقت آنے پر وہ بھی اکثر خراب نکلیں۔ کشتیوں کی کمی اور اوور لوڈنگ کے باعث مزید حادثات نے جنم لیا۔ حالات یہ ہیں کہ مناسب کشتیوں، لائف جیکٹس اور عملے کی کمی جیسے مسائل امدادی کاموں میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ابھی جو تباہی نظر آ رہی ہے اس کے دور رس نتائج انتہائی بھیانک دکھائی دے رہے ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں موسمیاتی تغیرات سے ڈیل کرنے کے لیے اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق شدید سیلاب کے باعث پنجاب میں 45 لاکھ 70 ہزار لوگ اور 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں۔ گھر، مویشی اور فصلیں سب تباہ ہو گئیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے اب تک زرعی رقبہ کو پہنچے والے نقصانات پر ایک رپورٹ نظر سے گزری جس میں بتایا گیا ہے کہ 4.3 فیصد زرعی رقبہ سیلاب سے متاثرہوا ہے، 13 لاکھ ایکڑ زمین زیرِ آب آئی ہے۔ سیلاب سے چاول کی 9 فیصد، گنے کی 7 اور کپاس کی 2 فیصد فصل متاثر ہوئی ہے جب کہ سب سے زیادہ نقصان دریائے راوی، چناب اور ستلج کے کنارے آباد 28 اضلاع میں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ یہ ابتدائی تخمینہ ہے۔ اصل صورتحال کا اندازہ سیلاب اترنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق سیلاب سے معاشی نقصان 409 ارب روپے ہے جوجی ڈی پی کا اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔ زرعی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد کمی سے شرحِ نمو مزید اعشاریہ پانچ سے ایک فیصد تک کم ہونے کا خدشہ ہے۔ کسان تو ایک بار پھر رل گیا ہے۔ اس کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں گھر بار، مال مویشی سب سیلاب کی نذر ہو گئے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مناسب منصوبہ بندی نہ کی گئی تو سیلابوں کا یہ سلسلہ آئندہ برسوں میں بھی اسی طرح تباہی و بربادی کا سبب بنے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی اور ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان تو کر دیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ان اعلانات کا فائدہ کسان تک پہنچتا ہے یا ایک بار پھر بات صرف اعلانات اور دعووں تک ہی محدود رہے گی۔ چھوٹے کسانوں کا کل سرمایہ فصل اور مال مویشی ہوتے ہیں جو سیلاب کی نذر ہو گئے۔ اب نئی فصل کی کاشت کیلئے سرمایہ کہاں سے آئیگا؟ حکومت کو چاہیے کہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے تمام قرضے فوری طور پر معاف کیے جائیں۔ اگر حکومت حقیقی طور پر کسانوں کی مدد کرنا چاہتی ہے تو آئندہ کاشت کیلئے مفت بجلی، بیج، کھاد اور بلاسود قرضے فراہم کرنا ہونگے۔ بڑے پیمانے پر زرعی
رقبہ زیر آب آنے سے اشیا خورو نوش کی قیمتوں پر سیلاب کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان چھونے لگیں ہیں۔ ابھی تو ماہرین نے غذائی اجناس کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ہم تو پہلے سے ہی اربوں ڈالر گندم، چینی، تیل اور دالوں کی امپورٹ پر خرچ کر رہے ہیں۔ اب چاول اور چینی کی برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ مزید تقریباً 2 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ہم نے سونا اگلنے والی زرعی زمینیں کاٹ کاٹ کر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا دیں۔ قدرتی راستوں پر تجاوزات نے نقصان بڑھا دیا، دریا کے کنارے تعمیرات سے ان کے بہاؤ کا قدرتی راستہ روکا گیا جسے اب قدرت نے واپس لے لیا ہے۔ زرعی زمینوں پر مشروم کی طرح اگنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے فوڈ سکیورٹی پہلے ہی خطرے سے دو چار تھی اب یہ خطرہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی نے سیلاب کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ 2010 کا سیلاب آیا تو لگا کہ شاید اتنی بڑی تباہی کے بعد کوئی بہتر منصوبہ بندی کی جائے گی مگر افسوس کہ کچھ نہ یوا۔ اس وقت بھی لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے اور معیشت کو تقریباً 10 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد بھی سیلاب آتے رہے مگر معاملہ جوں کا توں رہا۔ حالیہ سیلاب سے ملکی معیشت کو 1.4 ارب ڈالر نقصان کا ابتدائی تحمینہ شاید معمولی لگے مگر جیسے جیسے وقت گزرے گا حتمی نقصان کا تخمینہ کہیں زیادہ ہو گا۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ سیلاب سے 25 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اصل تباہی کا اندازہ تو سیلاب تھمنے کے بعد ہی ہو گا۔ سیلاب کے منفی اثرات کسانوں اور غریب عوام کی اکثریت کو جھنجھوڑ دینے والے ہونگے۔ اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی حکومت کی جانب سے ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے کی امید نہیں۔ سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات سے بچنا تب تک نا ممکن ہے جب تک حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق سٹرکچرل ریفارمز نہیں کرتی۔ بنیادی ڈھانچے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ شہروں میں نکاسی آب کی منصوبہ بندی، فلیش فلڈنگ والے علاقوں میں ڈیم بنانا اور دریاؤں میں طغیانی سے نمٹنے کے لئے نہریں اور نالوں کی تعمیر کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔ اگر ان اہم معاملات پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنا دیوانے کے خواب جیسا ہو گا۔