اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے نام پر راولپنڈی اور کراچی سمیت بعض شہروں میں غیر ملکی فوڈ چین ریسٹورنٹ پر حملوں کے افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں،گو کہ پولیس نے ان حملوں میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے مقدمات درج کر لئے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی شدت پسندی بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ہم من حیث القوم ’’ڈنڈے کے زور‘‘پر اپنی بات کیوں منوانے پر بضد ہیں؟کیا حکومت اور کیا عوام،ہر کوئی اپنے منہ سے نکلنے والے الفاظ کو ’طاقت ‘کے ساتھ مسلط کرنے کیلئے ہر حد کراس کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ہم مکالمے اور دلیل سے بات کرنا جیسے بھول چکے ہیں۔۔شدت پسندی اور جہالت ہماری نس نس میں جیسے رچ بس چکی ہے۔۔۔۔ہم یہ بات سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں کہ شدت پسندی ایک ایسا رویہ ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔۔۔یہ صرف ایک فرد کے ذہنی رویے کی بات نہیں بلکہ ایک پورے سماج کی اجتماعی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔۔۔شدت پسندی کا مطلب ہے کہ کسی بھی بات یا نظریے کو انتہائی حد تک لے جانا،دوسروں کے نقطہ نظر کو نہ سننا اور صرف اپنے عقیدے،رائے یا طرزِ فکر کو درست اور باقی سب کو غلط سمجھنا ۔ ۔ ۔ جب ایک معاشرہ اس کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف اختلافِ رائے تک محدود نہیں رہتے بلکہ رفتہ رفتہ یہ جذباتی اور جسمانی تشدد،قتل و غارت اور معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔۔۔شدت پسندی کی جڑیں انسان کی نفسیاتی، معاشی،سماجی اور تعلیمی محرومیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔۔۔ایک فرد جب خود کو غیر محفوظ، محروم یا بے بس محسوس کرتا ہے تو وہ انتہا پسندی کی طرف راغب ہو سکتا ہے۔جب ایک شخص کے پاس تعلیم نہیں ہوتی،معاشی مواقع کم ہوتے ہیں،سماج میں انصاف ناپید ہوتا ہے یا اس کی آواز کو دبایا جاتا ہے تو وہ بغاوت کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔۔۔یہی بغاوت اگر منفی انداز میں ظاہر ہو تو شدت پسندی کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ ۔اکثر اوقات یہ شدت پسندی مذہب ، قوم،زبان یا مسلک کی بنیاد پر سامنے آتی ہے،جس سے معاشرے میں مزید تقسیم اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ ۔۔معاشرے میں عدم برداشت کی بڑھتی ہوئی روش ایک ایسا ناسور ہے جو آہستہ آہستہ انسانیت ، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو ختم کر دیتا ہے۔۔۔عدم برداشت کا مطلب ہے کہ ہم دوسروں کی بات سننے، سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ جب ایک معاشرہ مکالمہ،رواداری اور افہام و تفہیم کی روایت کو ترک کر دے تو وہاں صرف شور، الزام تراشی اور انتقام باقی رہ جاتا ہے۔عدم برداشت اس وقت مزید خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے جب اسے ریاستی ،مذہبی،سیاسی یا نظریاتی جواز فراہم کیا جائے۔پھر یہ محض نظریاتی اختلاف نہیں رہتا بلکہ دشمنی،نفرت اور قتل تک جا پہنچتا ہے۔۔۔۔عدم برداشت کے بڑھنے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔سب سے پہلی وجہ تعلیم کا فقدان ہے۔۔۔وہ تعلیم جو صرف کتابی علم تک محدود ہو اور انسان کو سوچنے، سوال کرنے اور مختلف رائے کو برداشت کرنے کا ہنر نہ سکھا سکے،وہ معاشرے کو صرف جاہل ہی نہیں بلکہ شدت پسند بھی بنا دیتی ہے۔۔۔جب نصاب میں تنقیدی سوچ،اخلاقی اقدار اور انسان دوستی کو شامل نہیں کیا جاتا تو نوجوان ایک خاص فکر میں بند ہو جاتے ہیں،جو بعد میں عدم برداشت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔۔۔۔دوسری بڑی وجہ معاشی ناہمواری اور بیروزگاری ہے ۔ ۔ ۔ جب ایک نوجوان کے پاس روزگار کے مواقع نہیں ہوتے ،اس کے خواب بکھر جاتے ہیں اور وہ سماج میں خود کو بے وقعت محسوس کرتا ہے تو وہ آسانی سے شدت پسند گروہوں کا شکار بن جاتا ہے،یہ گروہ اسے ایک مقصد ، شناخت اور انتقام کا جواز فراہم کرتے ہیں ۔ ۔۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شدت پسندی زیادہ تر ان طبقات میں پروان چڑھتی ہے جو معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ تیسری وجہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے، آج کے دور میں جھوٹی خبریں،افواہیں اور نفرت انگیز مواد لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچتا ہے ،لوگ بغیر تصدیق کیے ان باتوں کو سچ مان لیتے ہیں اور پھر اسی بنیاد پر ردعمل دیتے ہیں ،جب ہر شخص کو صرف اپنی آواز بلند کرنے کی آزادی اور دوسروں کو سننے کی عادت نہ ہو تو سوشل میڈیا ایک جنگ کا میدان بن جاتا ہے،جہاں صرف الزامات ، توہین اور نفرت کی سیاست ہوتی ہے۔۔۔۔چوتھی وجہ مذہب اور نظریات کا غلط استعمال ہے۔جب مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور اختلاف کو کفر قرار دیا جائے تو شدت پسندی کو نظریاتی پناہ مل جاتی ہے،مختلف فرقوں،مسالک اور نظریات کو دشمن کے طور پر پیش کرنا اور اپنی بات کو واحد حق قرار دینا،معاشرے میں وہ نفرت پیدا کرتا ہے جسے ختم کرنا ایک نسل کی قربانی مانگتا ہے۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ریاستی پالیسیاں اور حکومتی رویہ بھی شدت پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔۔۔جب ریاست خود انصاف فراہم نہ کرے،جب قانون کا اطلاق سب پر برابر نہ ہو ، جب مظلوم کی دادرسی نہ ہو اور طاقتور کو کھلی چھوٹ دی جائے تو عوام قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگتے ہیں۔۔۔یہ رجحان آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو ایک جنگل کی صورت دے دیتا ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول رائج ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ شدت پسندی اور عدم برداشت کے اثرات صرف وقتی نہیں ہوتے بلکہ یہ نسلوں کو متاثر کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اس سے معاشرے میں خوف،بے یقینی اور نفسیاتی دباو جنم لیتا ہے ۔ ۔ ۔ تعلیمی ادارے،عبادت گاہیں ، بازار اور گلیاں سب غیر محفوظ ہو جاتے ہیں ۔۔ ۔ خواتین،اقلیتیں اور کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ایسے معاشرے ترقی نہیں کر سکتے،کیونکہ ترقی کے لیے امن،رواداری اور ہم آہنگی لازمی عناصر ہیں۔۔۔۔شدت پسندی کا مقابلہ صرف قانون یا طاقت سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ایک ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔۔۔سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو ایسا بنانا ہوگا جو سوال کرنے،سوچنے اور برداشت کرنے کا سلیقہ سکھائے،نصاب میں انسانی اقدار ، رواداری ، اختلافِ رائے کا احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے موضوعات شامل کرنے ہوں گے۔۔۔معاشی ترقی کو عوامی سطح پر پہنچانا ہو گا،نوجوانوں کو روزگار اور مقصد دینا ہوگا تاکہ وہ گمراہ نہ ہوں۔۔۔میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا،نفرت انگیز بیانیے کو روکنے کے لیے سخت قوانین کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔۔۔ مذہبی رہنماوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی اور شدت پسندی کے خلاف کھل کر آواز بلند کرنی ہو گی۔آخر میں، سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم بطور فرد اپنی ذات سے آغاز کریں۔۔۔ہمیں دوسروں کی بات سننے،ان سے سیکھنے اور اختلاف کو برداشت کرنے کی تربیت دینی ہو گی،ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر انسان کی رائے کا احترام، معاشرتی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔جب ہم ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا سیکھ جائیں گے تو شدت پسندی اور عدم برداشت خود بخود ختم ہو جائیں گے،معاشرہ تب ہی خوشحال ہو سکتا ہے جب اس میں محبت، رواداری اور امن کی فضا قائم ہو۔۔۔۔