Wed, September 16, 2026

فوڈ فراڈ مافیا کے لیے انتباہ،پنجاب میں فوڈ سیفٹی رجیم نافذ

فوڈ فراڈ مافیا کے لیے انتباہ،پنجاب میں فوڈ سیفٹی رجیم نافذ

خوراک اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہی غذا انسانی زندگی، صحت اور قوت کی بنیاد ہے۔ اسلام انسان کو صرف کھانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسے حلال، پاکیزہ اور ملاوٹ سے پاک غذا اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ ہے وہی کھاؤ۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں خوراک کا معیار صرف پیٹ بھرنا نہیں بلکہ حلال اور طیب ہونا ہے، یعنی ایسی غذا جو شرعی طور پر جائز، طبعی طور پر صاف اور انسانی صحت کے لیے مفید ہو۔
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور عبادات کا مہینہ ہے مگر بدقسمتی سے اسی مقدس مہینے میں بعض صحت دشمن عناصر ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کے ذریعے عوام کی صحت سے کھلواڑ کی کوشش کرتے ہیں ایسے میں عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی اداروں اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اسی تناظر میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے رمضان المبارک کے دوران خصوصی مانیٹرنگ اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے غذائی جعلسازمافیا کو ٹف ٹائم دیا جارہا ہے تاکہ سحر و افطار کے لیے دستیاب اشیائے خورونوش محفوظ اور معیاری ہوں، حکومت پنجاب کی واضح پالیسی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے عین مطابق ڈی جی فوڈاتھارٹی پنجاب عاصم جاوید کی سربراہی میں پنجاب میں فوڈ سیفٹی کے نظام کا عملی نفاذ کیا گیا ہے،  صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹس، بیکریوں، ہوٹلوں اور سحر و افطار پوائنٹس کی چیکنگ کر رہی ہیں جہاں ناقص، ملاوٹی اور غیر معیاری خوراک تیار یا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
 صنف آہن محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پنجاب میں ایک منظم اور فعال فوڈ سیفٹی رجیم نافذ کیا، مارکیٹس، بیکریاں، ہوٹلز اور رمضان بازاروں میں روزانہ کی بنیاد پر سخت چیکنگ، دودھ اور بنیادی اشیاء خورونوش کی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور فوری کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
رمضان المبارک میں سحر و افطار کے اوقات میں عوامی رش کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں ہیں جو بازاروں، رمضان بازاروں، دسترخوانوں اور عارضی فوڈ پوائنٹس کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ان ٹیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوراک کی تیاری، صفائی ہائجین، اجزاء کے معیار اور اسٹوریج کے اصولوں کا جائزہ لیں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی پر فوری ایکشن لیں، فوڈ سیفٹی ٹیموں نے یکم رمضان المبارک سے ابتک 75ہزار فوڈ، سحر و افطار پوائنٹس کی چیکنگ کی، ماہ مبارک میں جعلسازی کرنے پر 105مقدمات درج کروا کے 177یونٹس بند کیے گئے، 5ہزار 550 سے زائد کو 7کروڑ 64لاکھ کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ سحر افطار پوائنٹس سے برآمد شدہ 1لاکھ 78ہزار 350 کلو/لٹر ناقص اشیائ، کیچپ، کولڈ ڈرنکس میونیز اور تیار کھانے تلف کیے گئے، علاوہ ازیں 19ہزار کلو سے زائد ایکسپائر اشیاء بھی ضائع کی گئیں۔
 خصوصی مانیٹرنگ، فیلڈ آپریشنز اور روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹس کی چیکنگ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غذائی تحفظ کو محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا اہم فریضہ سمجھا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق فوڈ سیفٹی نظام کو فعال بنانا دراصل ایک ایسا اقدم ہے جو عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور بازار میں معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد دے رہا ہے۔
دوسری جانب پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں نے ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والوں کے لیے واضح پیغام دیا ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ رمضان جیسے مقدس مہینے میں جہاں خوراک کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، وہاں سخت نگرانی اور فوری کارروائیوں نے نہ صرف ممکنہ خطرات کو کم کیا ہے بلکہ کاروباری حلقوں میں بھی معیار اور صفائی کے اصولوں کی پابندی کا رجحان پیدا کیا ہے۔ یہ اقدامات فوڈ سیفٹی کلچر کو مضبوط بنانے کی سمت ایک مثبت پیش رفت ہیں۔
 حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپؐ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپؐ  نے فرمایا: اے غلہ والے! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے اسے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیتے؟ پھر فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ (جامع ترمذی: 1315)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ملاوٹ صرف معاشرتی جرم نہیں بلکہ ایمان اور اخلاق کے منافی عمل ہے اور ایسا شخص دراصل لوگوں کی صحت اور جان کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی حالیہ حکمت عملی نہ صرف انتظامی لحاظ سے مؤثر دکھائی دیتی ہے بلکہ عوامی مفاد کے تناظر میں بھی قابل ستائش ہے۔ اگر اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ نگرانی، آگاہی اور قانون پر عملدرآمد جاری رکھا جائے تو نہ صرف رمضان المبارک بلکہ سال بھر عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ اقدامات دراصل ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس میں صحت مند معاشرہ اور ذمہ دار مارکیٹ کلچر دونوں بیک وقت فروغ پا سکتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب ملاوٹ انفرادی سطح سے بڑھ کر صنعتی سطح تک پہنچ گئی تھی۔ مارکیٹوں میں ایسی مصنوعات کی بھرمار تھی جن کی اصلیت اور معیار کا عام صارف کو علم ہی نہیں ہوتا تھا۔ ایسے نازک حالات میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام اللہ تعالیٰ کا فضل ثابت ہوا جس نے ملاوٹ کے خلاف منظم کارروائیاں شروع کیں اور عوامی شعور بیدار کیا۔ عدالتی نظام اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اور عبرتناک فیصلے کریں اور متعلقہ نگرانی کرنے والے اداروں کی مکمل سرپرستی کریں تاکہ معاشرہ محفوظ اور صحت مند بن سکے۔
اگر بات کریں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی حالیہ کارکردگی تو یکم اگست 2025 سے اب تک 72ہزار 419 فوڈ پوائنٹس اور یونٹس کی چیکنگ کی گئی، 75ہزار 150 سے زائد کو 1ارب 2کروڑ 5لاکھ کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 2ہزار 161مقدمات درج کروا کے 3ہزار 210 یونٹس بند کیے گئے اور 24ہزار 250 سے زائد تفصیلی لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے سیمپل بھی لیے گئے، رمضان المبارک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذاؤں میں دودھ سرفہرست ہے، مگر بدقسمتی سے یہی شعبہ اکثر ملاوٹ مافیا کا آسان ہدف بن جاتا ہے۔ پانی، کیمیکلز اور غیر معیاری اجزاء کی ملاوٹ کے ذریعے عوام کی صحت کو داؤ پر لگانے والے عناصر دراصل ایک خاموش غذائی دہشتگردی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے دودھ کی سپلائی چین پر کڑی نگرانی اور مسلسل کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ اب ملاوٹ کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کیونکہ سحر و افطار کی میز پر رکھا جانے والا ایک گلاس دودھ صرف خوراک نہیں بلکہ عوام کی صحت، اعتماد اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اس عرصہ میں 3لاکھ 60ہزار دودھ بردار گاڑیوں، سپلائرز، کولیکشن سنٹرز، ڈیری شاپس اور 15کروڑ 72لاکھ لٹر دودھ کی چیکنگ کی گئی جبکہ 20لاکھ 44ہزار لٹر ناقص و جعلی دودھ تلف کیا گیا اور 1ہزار 60مقدمات درج کروا کے 660 سے زائد یونٹ اور شاپس بند کی گئیں، معیار اور صحت بخش گوشت کی فراہمی کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بیتحاشا اقدامات کیے اور یکم اگست سے ابتک 68ہزار میٹ شاپس، سپلائرز، پروسیسنگ یونٹس اور 1کروڑ 80لاکھ کلو سے زائد گوشت کا معائنہ یقینی بنایا گیا جس میں 8لاکھ 58ہزار کلو ناقص مضر صحت گوشت تلف کیا گیا جبکہ 477مقدمات درج کروا کے 233کاروبار بند کیے گئے۔
یہاں پر یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت محمدؐ نے فرمایاجس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ ایک اور جگہ فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرماتا ہے جو خرید و فروخت میں نرمی اور دیانت اختیار کرے۔

ٹیگز: