Wed, September 16, 2026

ہمارا نوجوان اپنا کاروبار کیوں نہیں کرتا؟

ہمارا نوجوان اپنا کاروبار کیوں نہیں کرتا؟

پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد نوجوانوں خواتین و مردوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 30 سال سے کم ہے جس میں 29 فیصد 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد ہیں۔ماہرین معیشت کے مطابق ہم اس وقت ایسے دَور سے گزر رہے ہیں جس میں شدید بے چینی کے علاوہ انتہائی تیزی سے معاشی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ مالی وسائل میں کمی کے باعث نوجوانوں میں شدید مایوسی اور احساس محرومی جنم لے رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 20 لاکھ نوجوان یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کر کے نوکریاں تلاش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ملک میں 21 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح نو فیصد سے زائد ہے۔ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ نصاب تعلیم کا ’اپ ٹو ڈیٹ‘ نہ ہونا بھی ہے، ’’ہماری یونیورسٹیاں جس طرح کے تعلیم یافتہ افراد پیدا کر رہی ہیں ان کی مارکیٹ میں کوئی کھپت نہیں ہے۔‘‘
 ہمارے ہاں ابھی تک پبلک اور نجی سطح پر کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں ہو سکا جو بچوں کو ابتدائی ایام سے ہی ان کے ذہنی رجحان کے مطابق انہیں راہنمائی فرام کر سکے۔ بچپن سے الجھی بکھری سوچ لئے یہ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں میٹرک ایف اے میں اچھے نمبر لیتے ہیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں یہاں تک آنے میں انہیں کم سے کم دو دہائیاں لگ جاتی ہیں اپنی زندگی کا بہترین وہ تعلیم کے حصول میں صرف کر دیتے ہیں لیکن ۔جب وہ مارکیٹ میں اپنی تعلیمی ڈگریاں لے کر جاتے ہیں تو ناکامی ان کا منہ چڑھاتی ہے۔ملکی اداروںکے مطابق ہر دسواں پاکستانی نوجوان بے روزگار ہے،دیکھا جائے تو پاکستان اپنی بہت زیادہ افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا میں دسویں نمبر پر ہے لیکن روزگار کی مقامی منڈی میں اتنی بڑی افرادی قوت کی خاطر خواہ کھپت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس سے نوجوانوں مایوسی کا شکار ہو کر جرائم، منشیات اور مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا کر تے ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندوں اور مذہبی تنظیموں میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ پاکستان میں مذہبی عدم برداشت ، رواداری اور انتہا پسندی دونوں 
میں اضافہ ہورہا ہے، جس کا شکار زیادہ تر نوجوان ہو رہے ہیں۔ نپولین نے کہا تھا کہ کوئی قوم اتنی دیر تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے نوجوان ارادوں کے مضبوط نہ ہوں اور شعوری طور پر بیدار نہ ہوں۔
 مہنگی توانائی اور حکومتی توجہ نہ ہونے کی بنا پر صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور صنعت لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کر پا رہی۔ اس لیے جو نوجوان خود اپنے چھوٹے کاروبار کرنا چاہتے ہیں یا آئی ٹی میں کوئی فری لانس ورک کرنا چاہتے ہیں ان کی حکومت کی طرف سے حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور انہیں مالی مدد فراہم کی جانی چاہیے اس ضمن میں حکومت کو چاہیے کہ بینکوں سے آسان شرائط پر نوجوانوں کو قرضوں کے حصول میں مدد کرے۔ پاکستان میں نوجوانوں کو کاروبار سمیت مختلف شعبوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں۔پاکستانی نوجوانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 'سی وی لے کر نوکریاں ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں، بدقسمتی سے ملک میں چھوٹے پیمانے پر بزنس، میڈیم سکیل انٹرپرائزز، یا سول سروس کی کوشش ہی نہیں کی جاتی، مینوفیکچرنگ کا چھوٹا یونٹ کھولنا، یا ملک میں انڈسٹریل کلچر کو فروغ دینا، یہ سب نظر نہیں آتا، مائیکروفنانسنگ موجود ہے، مگر کوئی اس جانب نہیں آتا'۔ طلبا کو بتانا ضروری ہے کہ 'صرف نوکری ہی سب کچھ نہیں بلکہ پھیلتی ہوئی گلوبل مارکیٹ میں خود کو منوانا ضروری ہے'۔
دوسری جانب ان نوجوانوں کی بھی کمی نہیں جو اعلیٰ تعلیم یا ہنر حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ پاکستان اپنے نوجوانوں کو انسانی سرمایہ یا ہیومن کیپیٹل کے طور پہ بھی استعمال کر سکتا ہے۔ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو چاہیے کہ وہ ہنر مند افراد تیار کرنے اور ان کو ملازمتوں کی فراہمی کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔' دوسری جانب ' کیوبا ہر سال میڈیکل کالجوں میں غریب ممالک کے طلبہ کے لیے سکالرشپ کا اعلان کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین اور دنیا کے کئی اور ممالک بھی مختلف شعبہ جات میں نوجوانوں کے لیے سکالرشپ کا اعلان کرتے ہیں۔ حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر یہ سکالرشپ دلوانے میں نوجوانوں کی معاونت اور کائونسلنگ کرنی چاہیے۔
آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں بہت سارے ہنر مند افراد کے لیے روزگار میسر ہے۔ ''اس کے علاوہ کووڈ کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں طبی عملے کی بھی شدید کمی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے شعبوں میں اپنے نوجوانوں کو تیار کر کے ان ممالک سے بات چیت کریں اور اس ہیومن کیپیٹل کو ایکسپورٹ کریں۔‘‘پاکستان میں صنفی عدم مساوات ایک اہم مسئلہ ہے، اور نوجوان اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کو اکثر تعلیم اور صحت کے مواقع تک یکساں رسائی حاصل نہیں، اور انہیں امتیازی سلوک ہراسانی اور تشدد کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کثیر الجہت ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہوگی، جو ان مسائل کی بنیادی وجوہات کو حل کرے۔ تعلیم، ملازمت کے مواقع، ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا، غربت اور صحت کے مسائل سے نمٹنا، صنفی مساوات کو فروغ دینا، اور منشیات کے استعمال اور مذہبی انتہا پسندی کے مسئلے کو حل کرنا وہ تمام اہم اقدامات ہیں جن کو یقینی بنانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں نوجوان اپنی پوری صلاحیت کا مثبت استعمال کرسکیں۔ 
 پاکستان اوور سیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں بیس لاکھ سے زائد افراد بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں،جن میں ڈاکٹرز، انجینئر اور اساتذہ کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بھی مختلف پیشوں کی بنیادی تربیت میسر نہ ہونے کے باعث مجموعی قومی پیداوار میں اپنا مؤثر حصہ ڈالنے سے قاصر ہے۔ ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی رہنمائی اور ملازمت اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں موڑا جائے۔ ان کی تعلیم اور ملازمت وغیرہ پر توجہ دی جائے تاکہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کی طرح پاکستان کے جوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکے۔

ٹیگز: