مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے جہاں جنگ کی آگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ خطے کی معیشت، عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ خطہ ایک وسیع تر تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کے آغاز اور اس کے ردعمل میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جوابی کارروائیوں نے حالات کو نہایت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لبنان میں موجود حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر بیک وقت دو سو راکٹ داغے جانا محض ایک علامتی کارروائی نہیں بلکہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ یہ جنگ اب کئی محاذوں پر پھیل سکتی ہے۔
اس کشیدگی کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں حزب اللہ کا اثر و رسوخ طویل عرصے سے قائم ہے اور جہاں کسی بڑے فضائی یا زمینی آپریشن کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسرائیل کے وسطی علاقے قیصریہ کے قریب واقع فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، جو اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اسی خطے میں اسرائیلی وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ بھی واقع ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے ان حملوں کے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ واضح ہے کہ اس کارروائی کا مقصد اسرائیل کے اندر نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا تھا۔
دوسری جانب ایران نے بھی محاذ کو صرف اسرائیل تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس نے خلیجی خطے میں موجود امریکی مفادات کو براہ راست نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ اسی دوران خلیج فارس میں امریکی جہازوں اور دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بصرہ کے قریب دو تیل بردار جہازوں پر حملے کے بعد عراقی آئل ٹرمینلز پر کام عارضی طور پر روک دیا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
خلیج کے کئی ممالک میں اس صورتحال کے فوری سماجی اور معاشی اثرات بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں میں عید کی تقریبات اور عوامی اجتماعات منسوخ کر دیئے گئے، جبکہ بحرین میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تیل کے ذخائر میں آگ لگنے کی خبر نے خطے میں مزید تشویش پیدا کر دی۔ دبئی کے مرکزی علاقے میں دھماکوں کی اطلاعات نے عالمی میڈیا کی توجہ بھی اس بحران کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ اگرچہ ان واقعات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن اس امر میں شبہ نہیں کہ خلیجی خطہ براہ راست اس کشیدگی کے دائرے میں آتا جا رہا ہے۔
عالمی معیشت پر اس بحران کے اثرات بھی تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دوبارہ ایک سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی یا بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی تو تیل کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے عزم نے عالمی منڈیوں میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسی دوران ایک غیر متوقع واقعہ امریکی بحریہ کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ میں پیش آیا جہاں آگ لگنے کے باعث عملے کے دو افراد زخمی ہوئے۔ اگرچہ اس واقعے کی مکمل وجوہات ابھی واضح نہیں ہو سکیں، تاہم ایسے حساس ماحول میں اس قسم کے حادثات بھی عسکری توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکی سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ مغربی عراق میں امریکی فضائیہ کا ایک ری فیولنگ طیارہ کے سی 135 گر کر تباہ ہوگیا جس میں چھ اہکار سوار تھے چار اہلکار ہلاک جبکہ دو کی تلاش جاری ہے، بتایا جارہا ہے کہ امریکی طیارے کا نقصان جارحیت یا فرینڈلی فائر کے سبب نہیں ہوا، تاہم واقعے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔
سیاحت اور سفر کی صنعت بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے سیاحتی شعبے کو روزانہ کم از کم چھ سو ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے خطے کے بعض راستوں پر پروازیں محدود کر دی ہیں جبکہ سیاحوں کی بڑی تعداد نے اپنے سفر منسوخ یا مؤخر کر دیئے ہیں۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو خطے کی معیشتوں کو شدید مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی اس بحران نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ تہران سفارتی سطح پر بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکا کے لیے فائدہ مند ہیں، عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات بحران کو کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔یہ صورتحال صرف ایک علاقائی جنگ کا خطرہ نہیں بلکہ ایک ایسے وسیع تر تصادم کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے جس میں عالمی طاقتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو جائیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے الزامات کی تردید کی ہے، تاہم عملی طور پر خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات دنیا کے ہر خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، مہاجرین کے نئے بحران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی کشیدگی یہ سب ایسے عوامل ہیں جو اس خطے کے کسی بھی بڑے تصادم کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔
موجودہ حالات میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ کشیدگی ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کرے گی یا عالمی سفارت کاری اسے کسی حد تک قابو میں لے آئے گی۔ فی الحال صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں جانب بیانات اور کارروائیوں کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتا ہے جس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی گونج محسوس کرے گی۔