سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں دو ڈرونز مارگرائے ہیں۔اس واقعے کے بعد فیک نیوز کا طوفان آگیا ، کئی حلقے اس حملے کو لے کر من گھڑت باتیں پھیلانے لگے جس کے بعد وزارت اطلاعات کو میدان میں آنا پڑا اور فیک نیوز کے پراپیگنڈے کو توڑنا پڑا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت کے دعوؤں کے حق میں کوئی قابل تصدیق شواہد موجود نہیں۔ طالبان رجیم کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ کسی فوجی یا دیگر تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا۔ ڈرونز کے ملبے سے معمولی نقصان ہواہے۔ فورسز نے فتنہ الخوارج کے ڈرونز کو جدید تکنیک سے ناکارہ بنادیا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم دہشت گردی کی ماسٹرپراکسی ہے۔ اس کا کردار بے نقاب ہو گیا ہے۔ دعویٰ اس بات کو ظاہرکرتا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردتنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں میں بھارتی حمایت یافتہ گروہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج شامل ہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ طالبان کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹی خبروں اور پراپیگنڈے میں ملوث ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاک فضائیہ کا طیارہ گرانے اور پائلٹ گرفتار کرنے کے دعوے بھی کیے گئے تھے لیکن حقیقت آخرکار جھوٹ پر غالب آجاتی ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں،پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک مخلص اور ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک کی طرف سے دکھایا جانے والا تحمل اور ایرانی صدر کی طرف سے خلیجی ممالک پر حملے کے ضمن میں کی گئی معذرت ، در اصل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اپنی تعمیری اور متوازن سفارتکاری کی بدولت خطے کو درپیش کشیدگی کے پھیلاؤ کے خطرات کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے اس تنازعے کے اہم سٹیک ہولڈرز سے ایک مثبت رابطہ یقینی بنا رہا ہے۔ ایران کے صدر کا حالیہ ٹویٹ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا ایک شاندار ثبوت ہے، جس میں انہوں نے پاکستان اور روس کی تعریف کی۔ یہ پاکستان کی متوازن اور دانشمندانہ خارجہ پالیسی کی بین الاقوامی سطح پر توثیق بھی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات دونوں ممالک کے دیرینہ مذہبی اور جذباتی وابستگی کی بنیاد پر ہیں۔ SMDA جیسے معاہدے ان تعلقات کو جیو سٹرٹیجک تناظر میں مزید گہرا کرتے ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کا کوئی بھی اسلامی ملک حرمین شریفین کے تقدس کے پیش نظر سعودی سرزمین پر جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پاکستان نے اپنے مذمتی بیانات میں علی خامنائی کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا اور اسکی واضح الفاظ میں مذمت بھی کی۔ اسکے ساتھ ساتھ ایران کی طرف سے خلیجی ممالک پر کیے جانے والے حملوں کو بھی قابل مذمت قرار دیا۔ بیرونی جارحیت کے جواب میں ایران کی جانب سے کی گئی مزاحمت اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کسی ملک کی فوج طاقتور اورمنظم ہو، تو وہ اسے اپنے اصولی موقف پر وقاراور ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب خاصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ان حالات میں یہ واضح ہو رہا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر ایک کلیدی پوزیشن پر بیٹھا ہے اور اس جنگ کو رکوانے کے لئے کچھ کرنے کے لئے تیار ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی اہمیت دیکھیں تو روس اور پاکستان ہی دو ایسے ممالک ہیں جو اپنے اثر رسوخ کی بنیاد پر جنگ بندی بھی کرا سکتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ برادر ملک سعودی عرب کی سکیورٹی بھی پاکستان کے لئے بہت اہم ہے جس کا برملا اظہار پاکستانی وزرا کے بیانات سے ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں ملک دشمنوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی اور پاکستان کا بڑا دشمن بھارت ہے اور اس کا آلہ کار افغانستان جس نے اسلام آباد کے محفوظ ترین دفاعی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈرون بھیجے جو راکھ کا ڈھیر بنا دیئے گئے۔