Wed, September 16, 2026

وفاقی بجٹ، منظم بھارتی سازش

 وفاقی بجٹ، منظم بھارتی سازش


قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے، وفاقی بجٹ بالآخر 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، 5 جون کو پیش ہونا تھا اتحادیوں کے پنگے، تحفظات، بارگیننگ کے لیے یہی موقع ہوتا ہے۔ 30 جون تک منظوری ورنہ عدم اعتماد، گھر کا راستہ لو۔ 11 جون تک تو پنگے ہی ختم نہ ہو سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی دانش مندی، وفاق این ایف سی ایوارڈ کو چھیڑے بغیر صوبوں سے 1035 ارب کی گرانٹس لینے میں کامیاب ہو گیا۔ نیک شگون، اتحادی پارٹی کی ’کلیئرنس‘ ملنے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 12جون کو کان بند کر کے 56 صفحات پر مشتمل بجٹ تقریر پڑھ کر سکھ کا سانس لیا۔ کان بند تھے اپوزیشن کے نعرے اور سخت سست بلکہ غیر اخلاقی ریمارکس نہ سن سکے۔ آنکھیں کھلی تھیں اس لیے کنکھیوں سے سپیکر ڈائس کے گھیراو¿، بجٹ کی کاپیاں پھاڑنے اور اچھل کود کے جسمانی کرتب دیکھتے رہے۔ معمول کی اچھل کود، ہر سال کی روایت اس لیے پریشانی نہیں ہوئی۔ اپنے 56 سالہ دورِ صحافت میں ایک بھی ایسا بجٹ نہیں دیکھا جس میں وزیرِ خزانہ نے پر سکون ماحول میں بجٹ تقریر کی ہو۔ عبدالحفیظ شیخ پی پی کے وزیر خزانہ تھے تو پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن ارکان نے شورِ شرابہ کیا۔ پی ٹی آئی کے وزیرِ خزانہ بنے تو پی پی نے ایوان سر پر اٹھا لیا۔ اس بار بجٹ میں نئی پیش رفت دیکھنے میں آئی سرکاری بنچوں اور اپوزیشن کے درمیان سارجنٹ ایٹ آرمز (گارڈز) کھڑے تھے گویا اسلحہ بردار گارڈز کے سائے میں بجٹ پیش کیا گیا۔ 18 ہزار 177 ارب کا بجٹ کیسا ہے؟ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا، جس میں وزارتِ خزانہ سے زیادہ آئی ایم ایف کی ہدایات اور دباو¿ شامل تھا۔ یکم جولائی کے بعد عمل درآمد کے دوران پورا سال اس کی خوبیوں اور خرابیوں پر باتیں ہوتی رہیں گی۔ ملک میں گنے چنے ماہرین معاشیات ہیں۔ ان کے اپنے تیار کردہ بجٹ بھی تنقید کا نشانہ بنتے رہے یعنی کوئی بھی آئیڈیل یا عوام دوست بجٹ پیش نہ کر سکا۔ تاہم موجودہ مشکل ترین حالات میں اس بجٹ کو قدرے متوازن کہا جا سکتا ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد دفاع کے لیے بھاری رقم کی ضرورت وقت کا تقاضا ہے۔ موجودہ بجٹ میں دفاع کے لیے 3 ہزار ارب مختص کئے گئے جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے اس سے ڈھائی گنا زیادہ یعنی 8 ہزار ارب رکھے گئے۔ قرضوں میں جکڑے ہم جیسے ملکوں کی مجبوری قرض ادائیگی وفاقی بجٹ کا 42.9 فیصد ہڑپ کر جائے گی۔ تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد، بنیادی اجرت میں 10 فیصد اضافہ، بڑوں کی تنخواہوں بڑی ریلیف بھی بڑے، 650 ارب کے ٹیکس 36 اشیاءمہنگی ہیں مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ پٹرولیم لیوی کا ہدف 1676 ارب 50 کروڑ 90 لاکھ رکھا گیا۔ یہ عوام کی جیبوں سے پھلے پھولے گا۔ وزارتِ داخلہ کے سوا تمام ترقیاتی منصوبوں پر پابندی، سرکاری ملازمین تنخواہ میں 7 فیصد اضافے سے ناخوش قومی اسمبلی کے باہر نعرے لگاتے رہے۔ ڈھائی تین کروڑ کی گاڑیوں میں بیٹھے پی ٹی آئی کے لیڈروں نے ان کی جانب تسلیوں اور دلاسوں کے پھول پھینکے اور شیشے چڑھا کر چل دئیے۔ غیر سرکاری ملازمین کی سسکیاں حسب سابق سنائی دیتی رہیں گی۔ بجٹ کے بعد بھی ہر امیر ملک کی طرح درآمدات میں اضافہ اور ہر غریب ملک کی طرح برآمدات میں کمی ہو گی، ن لیگ کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ سالوں کی نسبت بہتر بجٹ قرار دیا۔ گوہر اعجاز نے کہا ایکسپورٹرز کے لیے کچھ نہیں، تاہم بیشتر بزنس کمیونٹی نے بجٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت نے وفاقی بجٹ میں معاشی استحکام کے اقدامات کو سراہا۔ وزیر اعظم کا پانچواں بجٹ شرح نمو 4 فیصد کم، مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد، گزشتہ مالی سال کے بیشتر اہداف پورے نہ ہو سکے بنیادی وجہ ملک میں عدم استحکام، اندرونی بیرونی مفاد پرست قوتوں اور فتنہ ہندوستان و خوارج کی مسلسل تخریبی سرگرمیوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک اور بڑے سرمایہ کار خوفزدہ، حقائق سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ چار سال میں بیرونی ملکوں کے 104 دوروں میں 587 ایم او یوز پر دستخط کیے جن سے 78 سے 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان تھا لیکن سرحدی حملوں اور بڑھتے عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کار اتنے خوفزدہ ہوئے کہ 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی بجائے 33 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نکل گئی، عدم استحکام کی تازہ مثال آزاد کشمیر میں بارہ ملک دشمن بزعمِ خود لیڈر معصوم کشمیریوں کو حقوق کے نام پر بہلا پھسلا کر جتھوں کی شکل میں سڑکوں پر لائے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جسے حکومت نے تخریبی کارروائیوں پر کالعدم قرار دیا) کے بینر تلے پوری ریاست میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر دی، راولا کوٹ میں فائرنگ کے دوران 4 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد جان بحق ہوئے 9 جون کو پہیہ جام ہڑتال کشمیری عوام نے ناکام بنا دی، کمیٹی لیڈروں نے مذاکرات کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا، اداروں نے مظفر آباد کے مقام چہلہ سے را کے پانچ ایجنٹوں کو گرفتار کر کے اسلحہ بارود کا ذخیرہ، مواصلاتی آلات اور مختلف مقامات کے نقشے برآمد کئے، جس سے اس ہنگامہ آرائی میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ اسی دوران کمیٹی کے سرغنہ شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کی آڈیو اور ایک نوجوان بلال کی را کے کمانڈر پائل کمار سے چیٹ پکڑی گئی جس میں کمانڈر نے ایک پولیس اہلکار کے قتل پر 5 لاکھ معاوضہ دینے کی پیشکش کی، کالعدم کمیٹی کا منصوبہ مظفر آباد پہنچ کر اسمبلی اور دیگر اداروں پر قبضہ کر کے اسمبلی کی 12 نشستیں ختم کرنا، حلف سے الحاق پاکستان کے الفاظ حذف اور ملازمتوں کے لیے کشمیر کا ڈومیسائل ضروری قرار دینا شامل تھا، پاکستان کے مختلف شہروں میں 1947ء سے رہائش پذیر کم و بیش 45 لاکھ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیاں دے کر مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آئے پاکستان نے ہمیں تشخص دیا ملازمتیں اور زمین دی اب ہمیں 12 نشستوں سے محروم کرنا استصوابِ رائے کے پاکستانی موقف کو ختم کرنے کے مترادف ہے، کشمیری رہنماو¿ں کے مطابق ان جتھوں میں 80 فیصد تعداد پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تھی، مقام شکر پولیس اور رینجرز نے دو گھنٹوں کی کارروائی میں اس فتنہ کا صفایا کر دیا لیڈر روپوش چھاپے جاری ہیں۔

ٹیگز: