روزنامہ ڈان کی پانچ جون 2025 ء کی اِشاعت میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ ڈنمارک کی وزیر اعظم فریڈرکسن نے کہا ہے کہ وہ مسلمان خواتین کے چہرے کے پردے پر پابندی کو سکولوں اَور یونی ورسٹیوں تک پھیلانے کا اِرادہ رکھتی ہیں۔ اْنہوں نے یہ بھی کہا کہ یونی ورسٹیوں میں موجود نماز کی جگہوں کو بھی ختم کیا جائے۔ اْن کا کہنا تھا کہ اگرچہ لوگوں کو اَپنے مذہب پر چلنے کی آزادی ہے لیکن جمہوریت کو اِس آزادی پر فوقیت حاصل ہے۔ لہٰذا خدا کو چاہیے کہ وہ ایک طرف ہٹ جائے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ نماز کی جگہیں دراصل معاشرتی کنٹرول اَور خواتین اَور بعض اَوقات لڑکوں کو دبانے کے لیے بھی اِستعمال ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ ایک خاتون ہیں اِس لیے وہ خواتین کا اِستحصال کسی صورت برداشت نہیں کریں گی۔ یاد رہے کہ اگست 2018ء میں ڈنمارک نے چہرے کے پردے یعنی برقے اَور نقاب پر عوامی جگہوں پر پابندی لگا دی تھی۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم کی باتوں سے چند نقطے واضح ہوجاتے ہیں۔ لیکن اِس سے پہلے یہ بات ہمیں تسلیم کرنی ہوگی کہ یہ بہرحال اْن کے ملک کا اَندرونی معاملہ ہے اَور ہم اْس کے بارے میں اَپنی رائے تو دے سکتے ہیں لیکن اِس سے زیادہ کچھ کرنے کا ہمیں حق نہیں ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ڈنمارک مکمل طور پر ایک سیکولر ریاست ہے۔ وہاں چرچ بھی ہیں، مساجد بھی ہیں، دیگر عبادت گاہیں بھی موجود ہیں لیکن ملک کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ اگرچہ وہاں کی آبادی کی اکثریت عیسائی ہے لیکن لوگوں میں دہریت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ چنانچہ یہی سوچ وزیر اعظم کے بیان میں بھی جھلکتی ہے جب اْنہوں نے کہا کہ خدا کو چاہیے کہ وہ ایک طرف ہٹ جائے۔
دْوسری بات یہ ہے کہ وہ مسلمان جو وہاں رہ رہے ہیں اْن کے لیے بھی یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ یہ سوچیں اَب اْنہوں نے کیاکرنا ہے۔ ڈنمارک کا اَپنا ایک کلچر ہے۔ وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے تمام رہنے والوں کو اْس کلچر کے رنگ میں رنگ جانا چاہیے۔ اَپنا الگ جزیرہ بنانے کی کسی کو اِجازت نہیں دی جائے گی۔ چنانچہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اَپنی مرضی کے لباس پہننا اَور اَپنی روایات پر سختی سے کاربند رہنا آہستہ آہستہ مشکل سے ناممکن ہوتا جائے گا۔ مزید یہ کہ اْن کے بچوں کے لیے اْس ماحول میں اَپنے مذہب سے جڑے رہنا بھی مشکل سے ناممکن ہوتا جائے گا۔ چنانچہ اگر وہاں کے مسلمانوں کے لیے یہ بات قابل قبول ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اْنہیں ڈنمارک سے کسی اَور ملک میں ہجرت کرجانے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
تیسری بات یہ ہے کہ ماضی قریب میں کچھ اَیسا ہوا ہے کہ یورپی ممالک میں اِسلامی روایات اَور تشخص ایک خطرے کی علامت بنتا جارہا ہے۔ ہم لوگ نہایت آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اْن لوگوں کے دْہرے معیار ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آج سے تیس سال پہلے یہ حالات نہیں تھے۔ تب بھی ڈنمارک ایک سیکولر ملک ہی تھا۔ لیکن تب مسلمانوں کے خلاف اِس طرح کی نفرت نہیں پائی جاتی تھی۔ یہ بھی نہیں تھا لوگ مسلمانوں کو اَپنے سے الگ کوئی مخلوق سمجھتے تھے۔ لیکن اَب مسلمان اْس سوسائٹی کا حصہ نہیں رہے ہیں۔ اِسلام سے بھی ایک خوف پیدا ہوگیا ہے۔ یورپی ممالک کے اَفراد اَپنی نجی محفلوں میں یہ باتیں عام کرتے ہیں کہ اَصل مسئلہ اِن لوگوں کے مذہب میں ہے۔ یہ مذہب اِنہیں غلط راستے کی طرف لے جاتا ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان کہ نماز کی جگہیں خواتین کے اِستحصال کے لیے اِستعمال ہوتی ہیں یہ بتاتی ہے کہ وہاں یہ سوچ عام پائی جاتی ہے کہ اَصل میں یہ مذہب ہے جو خواتین کو کم تر مخلوق سمجھتا ہے۔ نماز کی جگہوں پر جو وعظ اَور تقریریں ہوتی ہیں اْن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ خواتین کو گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے، اْنہیں برقے پہننے چاہئیں، اْن کی بات کو زیادہ اَہمیت نہیں دینی چاہیے، مرد اْن کے حکمران ہیں وغیرہ۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ یہ سوچ کہاں سے آئی ہے اَور کیوں پھل پھول رہی ہے۔ ڈنمارک کی حکومت کو صلواتیں سنانے اَور اَپنے ملک میں اْس کے خلاف جلسے کرنے یا جلوس نکالنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
مسلمانوں نے جو کام آج تک نہیں کیا ،حالانکہ وہ کرنے کی اشد ضرورت تھی ،وہ یہ ہے کہ وہ اَپنا نقطہ نظر دْنیا میں اِس طرح پھیلائیں کہ لوگ نہ صرف اْسے سنیں بلکہ اْس پر یقین بھی کریں۔ دْوسرے مذاہب اَور ممالک یہ کام نہایت تن دہی سے کرتے ہیں۔ ہم بدنصیبی سے اِس کے بالکل خلاف کام کررہے ہیں۔ ہم اَپنی بات کہنے کے بجائے دْوسروں کو گالیاں نکالتے ہیں، اْنہیں برا بھلا کہتے ہیں، اْنہیں دھمکیاں دیتے ہیں۔ اِس طرزِ عمل سے اگر بہتری آسکتی ہوتی تو آج تک آگئی ہوتی۔ لیکن اِس سے صرف ہمارا نقصان ہی ہوا ہے۔ ساری دْنیا کے لوگ مسلمانوں کو جاہل، عیاش، ہٹ دھرم، ضدی اَور ظالم سمجھتے ہیں۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم اگر نماز کی جگہوں کو خواتین کے اِستحصال کی جگہ سمجھتی ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دْنیا کو یہ بات بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ اِسلام عورت کو کتنی عزت اَور کتنا اِحترام دیتا ہے۔ ہماری ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ ہم خود خواتین کو عزت و اِحترام دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ میں نے اَپنے ایک گزشتہ مضمون میں یہ بات واضح کی تھی کہ اَب بھی پاکستان، افغانستان اَور بہت سے دْوسرے اِسلامی ممالک میں عورت ایک دْوسرے درجے کی مخلوق کی حیثیت رکھتی ہے۔ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں سب سے اْوپر مسلمان ممالک ہی ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ ترین ممالک میں ڈنمارک پہلے نمبر پر ہے، پھر سوئٹزلینڈ ہے، پھر سویڈن ہے، آئس لینڈ ہے۔ اِن میں کوئی مسلمان ملک نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں اَپنی چارپائی کے نیچے بھی جھاڑو پھیرنی چاہیے اَور اَپنا گھر بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اگر ڈنمارک کے مسلمان یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ برقہ پہنا جائے یا نقاب کیا جائے تو اْن کے لیے بظاہر ایک ہی راستہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ ڈنمارک کو خدا حافظ کہیں اَور مسلمانوں کے کسی ملک میں منتقل ہوجائیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جلوس نکال کر وہ اِس فیصلے کو بدلوا لیں گے تو یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اَصل چیز جو اَہم ہے وہ رائے عامہ کی تبدیلی ہے۔ یہ کام خود بخود نہیں ہوگا۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ آج کل سب سے زیادہ طاقت ور چیز میڈیا ہے۔ میڈیا جو بات زوروشور سے بتاتا ہے، لو گ اْسی پر اِیمان لاتے ہیں۔ ہم نے اِس جن کو قابو میں کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ہماری آدھی آبادی تو آج بھی اِسے حرام سمجھتی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے ساری دْنیا تنگ ہوتی جارہی ہے۔ جہاں ڈنمارک کی طرح کی پابندیاں نہیں بھی ہیں وہاں بھی اَب مسلمانوں کو ایک دْوسری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ دْنیا میں جو دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں اْن میں زیادہ تر مسلمانوں کا ہی نام آیا ہے۔ مسلمانوں نے اِس بات کی بھی کوشش نہیں کی وہ اِس خیال، اِس سوچ کو تبدیل کریں۔ وہ اَب بھی جہاد، شہادت، یہودیوں کا قلع قمع کرنے کا عزم، دْنیا سے عیسائیت کے خاتمے کے اِعلانات کرتے رہتے ہیں۔ جہاد کو جتنا زیادہ نقصان ہم مسلمانوں نے پہنچایا ہے ہمارے کسی دْشمن نے نہیں پہنچایا۔ دْنیا جہاد کو دہشت گردی کے طور پر دیکھنے لگی ہے۔ یہ سوچ ہماری حرکتوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوئی ہے۔
پانچویں بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو پروپیگنڈا کی اَہمیت کا اَب اَندازہ ہوجانا چاہیے۔ دْنیا اْس پر یقین کرتی ہے جو اْسے دِکھایا جائے۔ دْنیا کیا سوچتی ہے اِس بات کی بے حد اَہمیت ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم تو اَیسے ہی رہیں گے خواہ دْنیا ہمارے بارے میں کچھ بھی کہتی رہے۔ ہم جو ہیں، ہمارا جو نقطہ نظر ہے اْسے ساری دْنیا کو بہترین طریقے پر بتانے کی اشد ضرورت ہے۔ اِسلام کی سچی اَور محبت کرنے والی تصویر دْنیا کو ضرور دِکھائی جائے۔ اگر ہم ڈرامے بھی جنگ و جدل پر مبنی ہی بنائیں گے تو دْنیا ہمارے بارے میں اْسی طرح سے سوچے گی۔ پہلے ہم اَپنی سوچ تبدیل کریں پھر دْنیا میں مثبت پراپیگنڈا کریں۔