Wed, September 16, 2026

سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا! بھارت ملوث

سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا! بھارت ملوث

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ نے گذشتہ سال دسمبر 2024ء میں بلوچستان میں سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تین ماہ کے دوران 924 سوشل میڈیا اکائونٹس کی نشاندہی کی گئی جو مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد پھیلا رہے تھے۔ ان میں 487 فیس بک، 190 ٹک ٹاک، 147 ٹوئٹر (ایکس)، 88 انسٹا گرام اور 12 دیگر پلیٹ فارمز کے اکائونٹس شامل تھے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ان میں 312 اکائونٹس کو بلاک کر دیا تھا، جبکہ باقی پر کارروائی جاری ہے۔ جبکہ یہ چاہ ماہ قبل کی رپورٹ ہے، اس وقت ان کے علاوہ بلوچستان میں بی ایل اے، بی ایل ایف، بی آر پی جیسی دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو پرموٹ کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر کئی اکائونٹس موجود ہیں جن کو بھارت سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔ 11 اگست 2021ء میں ایک پریس کانفرنس میں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بتایا تھا کہ کس طرح بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکائونٹس پاکستان کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ اکائونٹس ایک مخصوص تھیم کے تحت پاکستان اور خاص طور افواج پاکستان کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں خصوصاً سی پیک، سینڈک اور ریکوڈک مائننگ جیسے بڑے منصوبوں کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ 14 اگست 2020 کو بھارت کی جانب سے ’’بلوچستان یک جہتی ڈے‘‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ 1,50,000 ٹوٹیس کی گئیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے بھارت کی مدد سے پاکستان کے خلاف 150 ٹرینڈز چلائے۔ بھارت نے وکی پیڈیا کے کئی صفحات میں ترمیم کر کے پاکستان کے خلاف غلط معلومات پھیلائیں۔ یورپی یونین ڈس انفولیب کی جانب سے جاری کردہ انڈین کرونیکلز نامی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ کیسے 845 ویب سائٹس جو صرف پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلاتی ہیں اور ان کا براہ راست تعلق انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے تھا۔ دسمبر 2020ء میں کالعدم تنظیم بی ایس او کی کریمہ بلوچ کی ہلاکت پر (جس کی ذمہ دار بھارتی خفیہ ایجنسی را ہے، کریمہ بلوچ بھارت کی ایجنٹ تھی، راز اگل دینے کے ڈر سے بھارت نے اسے کینیڈا میں اپنی خفیہ ایجنسی را کے ہاتھوں قتل کرا دیا تھا) پر بھارت کی جانب سے 20 ہزار ٹویٹس کی گئیں اور یہ ٹرینڈ چلایا گیا تھا کہ ریاست نے کریمہ بلوچ کو ہلاک کیا ہے۔ اس وقت بھارت بلوچستان میں بی ایل اے، بی ایل ایف، بی آر پی سمیت دیگر شدت پسند عسکریت پسند تنظیموں کو ہر طرح کا تعاون فراہم کر رہا ہے جس میں مالی مدد، ہتھیار اور ٹریننگ شامل ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اقرار جرم اس کا زندہ ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کی جانب سے ریاستی اداروں پر حملوں کی جھوٹی اور من گھڑت خبروں اور دعوئوں کو سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کو ’’بلوچ آزادی‘‘ کی جنگ سے جوڑ کر تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے۔ ماما قدیر اور ماہ لانگو جیسے غداروں کو بلوچ عوام کا ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ بھارت نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بلوچستان کو نشانہ بنایا، اس صوبے کو پاکستان سے الگ کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی گئیں اور کی جا رہی ہیں۔ 2014ء میں سی پیک معاہدہ کے بعد بھارتی ریشہ دوانیوں میں شدت آئی ہے۔ کیونکہ بھارت جو پہلے ہی ایٹمی طاقت بننے کے بعد دفاعی حوالے سے پاکستان کو چیلنج نہیں کر سکتا تھا، اس کو معلوم ہو گیا کہ سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان نہ صرف داخلی طور پر مستحکم ہو گا، بلکہ اس کی اہمیت و حیثیت بڑھے گی اور ترقی کی دوڑ میں وہ بھارت کو پیچھے چھوڑ دے گا، اسی وجہ سے سی پیک منصوبہ بھارت سمیت دیگر دشمن ممالک کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ بھارت ایک طرف بلوچستان میں دہشت گرد حملے کرا رہا ہے تو دوسری طرف میڈیا اور سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ جس کی حالیہ مثال جعفر ایکسپریس حملے پر بھارتی اور ملک دشمن میڈیا نے سوشل میڈیا اکائونٹس پر مسلسل گمراہ کن جھوٹا پراپیگنڈا کیا، پرانی ویڈیوز اور اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، پرانی تصاویر، فیک واٹس ایپ پیغامات اور پوسٹرز کے ذریعے ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ دہشت گردوں سے جڑے سوشل میڈیا اکائونٹس نے بھی پاکستان مخالف زہر اگلنے میں بھارتی میڈیا کا 
بھرپور ساتھ دیا۔ بھارتی میڈیا پاکستان سے باہر بیٹھے خود ساختہ بلوچ رہنمائوں کے تجزیے دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہا۔ اس سے قبل گذشتہ سال 25 اور 26 اگست کی رات بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں کے دوران بھارتی میڈیا خوشیاں مناتا رہا اور اپنی طرف سے من گھڑت کہانیاں چلاتا رہا۔ بھارتی میڈیا نے ان دہشت گرد حملوں کو غیر معمولی کوریج دی۔ بھارتی میڈیا نے اپنے ہی انٹیلی جنس سورسز کو کوٹ کرتے ہوئے کہا ’’بلوچ حملوں میں اس طرح کی توانائی اور ہم آہنگی پہلی بار دیکھی گئی ہے‘‘۔ بزدل دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کو ایک جنگجو تنظیم کے طور پر پیش کیا گیا۔ نام نہاد بلوچ یک جہتی کمیٹی اور ماہ رنگ لانگو کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور کوریج دی۔ ماہ رنگ لانگو کو بلوچستان میں کھیلے جانے والے ’’مسنگ پرسن‘‘ کے من گھڑت ڈرامے کا ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ماہ رنگ لانگو اور دہشت گرد تنظیمیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک طرف معصومیت کا رونا رویا جاتا ہے، دوسری طرف دہشت گردوں کی لاشوں کے لیے ہسپتال پر دھاوا بولا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئی ایک فرد بھی ’’جبری گمشدہ‘‘ نہیں، اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی تو ماہ رنگ لانگو ریاست کی جانب سے بننے والے کمیشن کے ساتھ تعاون کرتی۔ از خود روپوش افراد کو ’’مسنگ پرسن‘‘ بنا کر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی ہمدردی حاصل کرنا اور ڈالر بٹورنا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کا سیاسی ونگ اور ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ اور صبیحہ بلوچ بی ایل اے کی پراکسی ہیں۔ واضح رہے کہ ماہ رنگ لانگو کا سوشل میڈیا اکائونٹ بھی بھارت سے چلایا جا رہا ہے جبکہ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم (X) پر مذکوہ اکائونٹس The Jaipur Dialoguse, Frontolforce, Fazila Baloch, Baba Banaras, OsintTV, Mini Razdan, NYLAH BALOCH, India Blooms, Ramesh Tiwari, INDIA NARRATIVE, Sundram, Nerendra Bishnoi, NewsVides of india, Khushi Yadav, kreatly, kapadia CP, Ash William, Nitin singh khtoch, Nora Oslen, Chris Benoit ریاست مخالف پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور انہیں بھارت سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔

ٹیگز: