Wed, September 16, 2026

دہشت گردی ہارے گی، پاکستان جیتے گا

دہشت گردی ہارے گی، پاکستان جیتے گا

دہشت گردی صرف گولی چلانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک قوم کے حوصلے، ریاست کی رٹ اور معاشرے کے اعتماد پر حملہ ہوتی ہے۔ بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس اہلکاروں کے اغوا اور بعد ازاں ان کے بے رحمانہ قتل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ دہشت گردوں کا ہدف صرف سکیورٹی فورسز نہیں بلکہ پورا پاکستان ہے۔ جن اہلکاروں کو شہید کیا گیا، وہ کسی بیرونی سرزمین پر نہیں بلکہ اپنے ہی گاو¿ں، اپنے ہی ضلع اور اپنے ہی لوگوں کی حفاظت کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔ ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے قانون کی عملداری اور عوام کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان امن کی طرف بڑھا، دہشت گردی نے سر اٹھانے کی کوشش کی۔ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کی شہادت پوری دنیا کے لیے ایک سوالیہ نشان تھا کہ آخر کون سا نظریہ بچوں کے خون کو جائز قرار دے سکتا ہے؟ 8 اگست 2016 کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں وکلا اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ بلوچستان کے نظامِ انصاف کو مفلوج کیا جا سکے۔ 31 جنوری 2023 کو پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش دھماکے نے عبادت میں مصروف نمازیوں کو شہید کیا۔ جولائی 2023 میں ژوب گیریژن پر حملہ کیا گیا تاکہ ریاستی اداروں کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ اب زیارت کا سانحہ اسی خون آلود سلسلے کی ایک اور کڑی بن کر سامنے آیا ہے۔
ہر حملے کا ہدف الگ نظر آتا ہے، مگر مقصد ایک ہی ہوتا ہے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا، عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنا، اور خوف کی ایسی فضا پیدا کرنا جس 
میں ترقی، سرمایہ کاری اور معمول کی زندگی متاثر ہو۔ دہشت گرد ہمیشہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ خون بہا کر وہ ریاست کو جھکا لیں گے، مگر پاکستان کی تاریخ اس کے برعکس ہے۔ سوات میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو، قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں ہوں یا ملک کے مختلف حصوں میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، ہر مرحلے پر ریاستی اداروں اور عوام نے بھاری قربانیاں دے کر دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنائے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بلوچستان ایک عرصے سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں پولیس، لیویز، فرنٹیئر کور اور فوج کے جوان بارہا حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان اداروں نے اپنی ذمہ داریاں نہیں چھوڑیں۔ اگر آج زیارت، کوئٹہ، گوادر یا دیگر علاقوں میں معمولاتِ زندگی جاری ہیں تو اس کے پیچھے ان بے شمار اہلکاروں کی قربانیاں ہیں جن کے نام اکثر خبروں کی چند سطروں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اس سانحے کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ جب ریاست کے محافظوں کو اغوا کرکے شہید کیا جاتا ہے تو اصل نقصان صرف اداروں کا نہیں ہوتا بلکہ عام شہری کا ہوتا ہے۔ خوف کی فضا میں کاروبار متاثر ہوتا ہے، سیاحت رک جاتی ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور نوجوانوں کے لیے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام آدمی اٹھاتا ہے۔
اس موقع پر قومی اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتی بلکہ عوام کے اعتماد، مو¿ثر پولیسنگ، بہتر انٹیلی جنس، انصاف کے مضبوط نظام اور سیاسی استحکام سے بھی جیتی جاتی ہے۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے ریاست کی طاقت کو بڑھاتا ہے۔ اسلام کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو قرآن و سنت میں کوئی جواز نہیں ملتا، خوارجی قرآن و سنت کی نفی کر رہے ہیں۔ اسلام انسانی جان کے احترام، عدل اور امن کا مذہب ہے۔ جو لوگ مذہب کے نام پر قتل و غارت کرتے ہیں، وہ اپنی کارروائیوں سے اسلام کی تعلیمات کی نفی کرتے ہیں، نہ کہ ان کی نمائندگی۔ زیارت کے شہدا نے اپنی جانیں دے کر یہ ثابت کیا کہ وطن کی حفاظت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ان کی قربانی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے، اور یہ قربانیاں اس وقت تک یاد رکھی جائیں گی جب تک اس سرزمین پر امن، قانون اور ریاست کی عملداری قائم رکھنے کا عزم زندہ ہے۔
دہشت گردی کا ہر واقعہ قوم کے لیے ایک امتحان ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دہشت گرد حملہ کریں گے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ قوم ان حملوں کے جواب میں کتنی مضبوطی سے متحد رہتی ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی کے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کر چکا ہے اور آئندہ بھی کر سکتا ہے، بشرطیکہ ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام ایک صفحے پر رہیں۔ زیارت کے شہدا کا خون اسی اتحاد، قانون کی بالادستی اور امن کے قیام کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دہشت گردی کے تاریک باب کو ہمیشہ کے لیے بند کر سکتا ہے، پاکستان پائندہ باد۔

ٹیگز: