Wed, September 16, 2026

بحری جنگ کا نیا دور، سمندری ڈرونز نے عالمی دفاعی حکمت عملی بدل دی

بحری جنگ کا نیا دور، سمندری ڈرونز نے عالمی دفاعی حکمت عملی بدل دی

واشنگٹن: سمندری ڈرونز یا بغیر عملے والی کشتیاں دنیا بھر میں جدید دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ امریکہ سمیت کئی ممالک ان خودکار نظاموں کو نگرانی، انٹیلی جنس معلومات کے حصول، امدادی کارروائیوں اور جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

امریکی بحریہ کے جدید سمندری ڈرون نظاموں میں کورسیئر ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ بغیر پائلٹ کشتی جدید کیمروں، ریڈار، نیویگیشن نظام اور دیگر سینسرز سے لیس ہو سکتی ہے، جس کی مدد سے دور دراز علاقوں کی نگرانی اور معلومات جمع کرنے کا کام انجام دیا جاتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق سمندری ڈرونز کا استعمال پہلے محدود نوعیت کے مشنز تک تھا، تاہم اب انہیں بحری نگرانی، سکیورٹی آپریشنز اور خطرناک علاقوں میں کارروائیوں کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

یوکرین جنگ میں بھی سمندری ڈرونز کی اہمیت سامنے آئی، جہاں بغیر عملے والی کشتیوں کے ذریعے روسی بحری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم لاگت اور انسانی جانوں کے کم خطرے کے باعث یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی بحری جنگوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے برسوں میں سمندری ڈرونز کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے بحری طاقت اور جنگی حکمت عملی کا انداز مزید تبدیل ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: