پہلگام / نئی دہلی / اسلام آباد :جنوبی کشمیر کے حساس علاقے پہلگام میں حالیہ دنوں میں ہونے والی ایک محدود عسکری جھڑپ نے خطے کے دفاعی توازن میں اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ دفاعی ماہرین اس واقعے کو روایتی جھڑپ سے بڑھ کر ایک اسٹریٹجک پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ چین، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی دفاعی حکمت عملیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق، اس جھڑپ میں جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص چینی اور اسرائیلی ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جن کی کارکردگی اور ناکامی نے عالمی سطح پر دفاعی ماہرین کو چونکا دیا ہے۔ چین کی ٹیکنالوجی مؤثر ثابت ہوئی جبکہ اسرائیلی ڈرونز کی کارکردگی پر کئی حلقوں میں تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
واقعے کے بعد بھارت کو خطے میں عسکری برتری کی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑی ہے، جبکہ پاکستان نے اس موقع کو ایک اسٹریٹجک برتری کے طور پر پیش کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ واقعہ کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ادھر چین کے کردار اور پاکستان سے اس کی دفاعی ہم آہنگی نے عالمی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ، کو جنوبی ایشیا میں اپنی پالیسیوں پر ازسرنو غور پر مجبور کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پہلگام میں ہونے والا محدود معرکہ، ایک وسیع عالمی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔