Wed, September 16, 2026

فیری میڈوز کو کیسے بچائیں

فیری میڈوز کو کیسے بچائیں

ہم آٹھویں عجوبے قراقرم ہائی وے پر ایستادہ سندھ دریا کے پل کے قریب کھڑے دو حیرت کدوں کو دیکھ رہے تھے۔ ایک حیرت رائے کوٹ پل پر جھلسا دینے والی گرمی تھی اور دوسری حیرت تین گھنٹے کی مسافت پر منتظر شدید سردی تھی۔ ایک ملک، ایک خطہ اور ایک لمحہ دو مختلف انتہائی موسم لیے انسانی عقل کو قدرت کے سامنے معزول کرنے کے لیے کافی تھے۔ جیپیں سیاحوں کو اٹھا کر تاتو گاؤں لے جانے کے لیے پرچی سسٹم پر جا رہی تھیں۔ کرایہ دس سال میں دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکا تھا۔ ریٹرن کرایہ سولہ ہزار فی جیپ تھا اور ایک جیپ میں چھ لوگ بٹھائے جاتے تھے۔ جیپوں کا انداز اور دھول و دھوپ والا ماحول پرانا تھا مگر ڈرائیور انتہائی کمرشل ہو چکے تھے۔ یہاں پر موجود فیری میڈوز کمیٹی سیاحوں کے حقوق سے زیادہ اپنے مفاد میں کام کرتی تھی، اسی لیے شہر کے لاری اڈوں پر پھیلی روایتی تیزی رائے کوٹ پل پر بھی دیکھنے کو ملتی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ ڈرائیوروں کے مزاج میڈ ان مری ہیں۔ ہمارا میزبان چلاس کی ضلعی حکومت کا افسر اور مقامی معزز عرفان اللہ تھا اس لیے ہمیں کچھ استثنا حاصل تھا۔
رائے کوٹ پل کی پارکنگ میں اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے ہم جیپ پر سوار ہوئے اور جیپ زگ زیگ راستوں پر اوپر اٹھنے لگی۔ دس منٹ کی دھول اڑاتی مسافت ہمیں وہاں لے گئی جہاں سے قراقرم ہائی وے ایک لکیر دکھائی دیتی تھی اور شیر دریا بل کھاتا ناگ۔ نصف گھنٹے کے بعد جیپ اس بلند پہاڑی پگڈنڈی پر دھاڑنے لگی جس کے دائیں جانب تو چٹانوں کی دیوار تھی اور بائیں جانب گہری کھائی۔ گزشتہ ایک دہائی کی نسبت یہ ٹریک کھلا کر دیا گیا تھا مگر کئی موڑ اب بھی موت کی دستک تھے، ذرا سی غفلت یا ٹائر کے نیچے پڑے پتھر کی بے وفائی ہزاروں فٹ گہرائی میں بہتے رائے کوٹ نالے تک پہنچا سکتی تھی۔ چار پانچ بار کراسنگ کے عمل سے پالا پڑا تو احساس ہوا کہ جیپ کا ریورس ہونا کس قدر خطرناک عمل ہے۔
دو گھنٹے کے اعصاب شکن سفر نے ہمیں تاتو جیپ سٹاپ پر پہنچا دیا۔ یہاں پر پہاڑی درہ وسعت اختیار کیے ہوئے تھا اور درجن بھر جیپیں اپنے دھوئیں سے وادی کے ماحول میں زہر گھول رہی تھیں۔ ایک کینٹین یہاں بھی بن چکی تھی۔ سیاح دھواں، دھول، دھوپ پھانکنے پر مجبور تھے۔ عرفان اللہ کے فرزند نعمان نے ہمارا والہانہ استقبال کیا اور سامان پورٹر کے حوالے کر دیا۔ ایک سو روپے فی کلو کے حساب سے ہمارا سامان تولا گیا اور پھر گدھے پر باندھ کر فیری میڈوز روانہ کر دیا گیا۔ نعمان اللہ ہمارے ساتھ تھا اور ہم ایک اترائی کے بعد جھولتے پل کو عبور کر گئے۔ سامنے ایک اور کینٹین بن چکی تھی، ایک طرف ٹائلٹ تھا اور انتظار گاہ میں لکڑی کے بنچ تھے۔ بچوں اور کمزوروں کے لیے گھوڑے لائے گئے۔ پانچ ہزار دو طرفہ کرایہ سوار کے وزن سے مشروط تھا۔ ایک سو کلو گرام سے زائد وزن والے سیاح کو صرف پیدل جانے کی اجازت تھی کیونکہ مسلسل چھ کلومیٹر کی منحنی چڑھائیاں گھوڑے کے بس کی بات نہ تھی۔
تاتو میں لگے لکڑی کے دروازے سے ہم  پندرہ سال پہلے گزرے تھے۔ طاقوں کے بغیر صرف چوکھٹ کا فریم تھا اور اوپر گڈ بائے لکھا تھا۔ ایک مدت گزر جانے کے باوجود وہ چوکھٹ فریم سمیت موجود تھی اور اس پر لکھا ہوا جملہ بھی۔ ان پندرہ سال میں صرف لکڑی کا رنگ میلا ہوا تھا۔ اسی سے لکڑی کی پائیداری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تاتو تک تو فطرت اپنی اصل حالت میں موجود تھی مگر یہاں سے آگے  پندرہ سال پہلے اور دو ہزار پچیس کے ماحول میں بہت فرق تھا۔ گھوڑے خواتین، بچوں اور کمزوروں کو لے جانے کے لیے ایک ضرورت ہیں اور مقامی لوگوں کا روزگار بھی، مگر ان کی لد جو پیدل ٹریک پر پھیلی تھی اسے صاف کرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ہر جانب بدبو پھیلی تھی یہ داغ پریوں کی چراگاہ کے دامن میں انسان نے لگایا تھا۔ نانگا پربت کا چاندی جیسا بدن لاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا تھا اور یہاں پر آباد قبائل کی روزی کا بندوبست کرتا تھا مگر یہاں کی انتظامی کمیٹیاں صفائی پر توجہ دینے سے قاصر تھیں۔ مری اور ناران کو گندگی سے اجاڑنے والوں نے شائد فیری میڈوز کے باشندوں کو سکھا دیا تھا کہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی کا پیٹ پھاڑ کر ایک ہی بار تمام انڈے نکال لیے جائیں۔
چند سال پہلے فیری میڈوز کی جانب جانے والا راستہ پھولوں سے بھرا ہوتا تھا مگر اب وہ تمام پھول آلودگی کی نذر ہو چکے تھے۔ مڈ وے کینٹین پر اوور چارجنگ شائد وقت کی ضرورت تھی۔ راستے میں بنے ہٹس درخت کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ قدرتی طور پر اُگے اس جنگل میں کمال کی تازگی اور ٹھنڈی ہوا تھی۔ آبشار کا صاف پانی سفر کی تھکن اتارتا تھا۔ سامنے نانگا پربت کا جادو بھرا حسن تھا اور پشت پر راکا پوشی کے مناظر تھے۔

ٹیگز: