Wed, September 16, 2026

خوشی کی نئی لہر، شکریہ فیلڈ مارشل

خوشی کی نئی لہر، شکریہ فیلڈ مارشل

اچھی خبروں کو ترسی کاروباری برادری کے لیے نئے سال کا آغاز اگر محض ایک خبر نہیں بلکہ امید، اعتماد اور خود مختاری کے کسی ٹھوس اشارے کے ساتھ ہو تو وہ سمت متعین کرتا ہے۔آذربائیجان ،میانمار ،نائجیریا سے سودے ہوچکے ۔بنگلہ دیش،سعودی عرب ،عراق ۔ایران اورلیبیا کے بعد برادر ملک انڈو نیشیا بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا خواہشمند ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یکے بعد دیگرے آنے والی خبروں، بیانات اور پیش رفت نے یہ احساس مضبوط کیا ہے کہ پاکستان محض دفاعی محاذ پر نہیں بلکہ معاشی میدان میں بھی ایک نئے عہدمیں داخل ہو رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں دہشت گردی، سیاسی عمل اور ریاستی بیانیے پر جس دوٹوک، غیر مبہم اور سخت لہجے میں بات کی گئی، اس نے قومی اعتماد کو تقویت دی۔ یہ پیغام واضح تھا کہ ریاست اب تذبذب کے دائرے سے باہر آ چکی ہے، اور یہی وضاحت سرمایہ اور صنعت کے لیے سب سے قیمتی اشارہ ہوتی ہے۔
اس سے پہلے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ پاکستان کو لڑاکا طیاروں کی خرید کے ایسے آرڈرز مل رہے ہیں جن کے نتیجے میں آئندہ چھ سے سات ماہ میں آئی ایم ایف پر انحصار کم ہو سکتا ہے، محض سیاسی جملہ نہیں بلکہ ایک معاشی امکان کی طرف اشارہ ہے۔ اگر اس تصویر میں بنگلہ دیشی ایئر فورس کے سربراہ کی قیادت میں آنے والے وفد اور انڈونیشی وفد کی خبر شامل کر لی جائے تو دفاعی صنعت کا ایک ابھرتا ہوا، متحرک اور بااعتماد چہرہ سامنے آتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قومی سلامتی کی زبان، معیشت کی زبان بننے لگتی ہے۔
پاکستانی قوم دہائیوں سے قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ بیرونی قرضہ اور واجبات کا حجم سو ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ سالانہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پر خرچ ہونے والی رقم وفاقی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ بن چکی ہے۔ یہ بوجھ محض ریاستی خزانے تک محدود نہیں رہتا، اس کی قیمت براہِ راست تاجر، صنعت کار اور برآمد کنندہ ادا کرتا ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں گزشتہ چند برسوں میں دو سے تین گنا اضافہ ہوا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح اب بھی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم مگر کاروبار کے لیے کہیں زیادہ بوجھل ہے اور نتیجتاً پیداواری لاگت اتنی بڑھ چکی ہے کہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کھو بیٹھتی ہیں۔ ایک صنعت کار کیسے مقابلہ کرے جب اس کی لاگت ویتنام، بنگلہ دیش یا بھارت سے نمایاں طور پر زیادہ ہو؟۔
اسی لیے کاروباری برادری ہر اس خبر کو غیر معمولی سنجیدگی سے دیکھتی ہے جو قرض سے نجات، زرمبادلہ میں اضافے اور قومی خود مختاری کی نوید دے۔ دفاعی صنعت کے ممکنہ برآمدی آرڈرز اسی تناظر میں امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئے ہیں۔ عالمی سطح پر دفاعی برآمدات کی منڈی سالانہ سیکڑوں ارب ڈالر کی ہے۔ اگر پاکستان اس میں محض ایک سے دو فیصد حصہ بھی حاصل کر لے تو یہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف کرنٹ اکاو¿نٹ پر دباو¿ کم کرے بلکہ صنعتی سرگرمیوں کو نئی جان دے۔
پاکستان اکنامک موومنٹ ابتدا ہی سے اس بات پر زور دیتی آ رہی ہے کہ معاشی بحالی کا راستہ قلیل المدتی مالیاتی بندوبست یا مسلسل آئی ایم ایف پروگراموں سے نہیں نکلے گا۔ پائیدار حل قومی پیداواری صلاحیت، برآمدات کے تنوع اور صنعتی فروغ میں پوشیدہ ہے۔ اس پس منظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دفاعی صنعت کو فعال، منظم اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کی کوششیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ دفاعی صنعت محض اسلحہ یا طیارے بنانے کا نام نہیں، یہ ایک مکمل ویلیو چین ہے جس میں میٹل ورکس، الیکٹرانکس، ایوی ایشن انجینئرنگ، سافٹ ویئر، لاجسٹکس اور تحقیق و ترقی شامل ہیں۔ عالمی تجربہ بتاتا ہے کہ دفاعی صنعت میں پیدا ہونے والی ہر ایک ملازمت کے ساتھ معاون شعبوں میں دو سے تین اضافی ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔جب دفاعی صنعت فروغ پاتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست مقامی صنعت کاروں تک پہنچتے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سپلائی چین کا حصہ بنتے ہیں، تکنیکی ہنر میں اضافہ ہوتا ہے اور ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت بلند ہوتی ہے۔ وزیرِ دفاع کا یہ کہنا کہ دنیا پاکستان کے ساختہ لڑاکا طیاروں کی کارکردگی دیکھ چکی ہے، ایک تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے اور ایک خوش آئند اعتراف بھی۔ بھارت کے ساتھ حالیہ برسوں میں پیدا ہونے والی عسکری توازن کی صورتِ حال نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف دفاع کر سکتا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دفاعی پیداوار کے شعبے میں پاکستان ایک خریدار نہیں بلکہ فروخت کنندہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار غیر معمولی طور پر نمایاں ہو جاتا ہے۔ انہوں نے قومی سلامتی کو محض سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشی سلامتی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا۔ عسکری قیادت کی سطح پر یہ فکری تبدیلی کہ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط دفاع ممکن نہیں، ریاستی سوچ میں ایک اہم موڑ کی علامت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف سخت موقف، ریاستی رٹ کی بحالی اور قومی بیانیے میں وضاحت نے وہ ماحول پیدا کیا ہے جس میں سرمایہ کار کم از کم یہ یقین کر سکتا ہے کہ ریاست اپنے فیصلوں میں سنجیدہ اور واضح ہے۔تاہم یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایک فرد، چاہے وہ کتنا ہی مضبوط، باصلاحیت اور مخلص کیوں نہ ہو، اکیلا نظام نہیں بدل سکتا۔ اگر حکومت اور بیوروکریسی میں بیٹھا پورا ڈھانچہ اس تبدیلی کو دل سے قبول نہ کرے تو بہترین نیتیں بھی فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ کاروباری برادری کی خوشی اس لیے دوچند ہے کہ دفاعی صنعت کے ذریعے معیشت کو سہارا دینے کا عملی راستہ دکھائی دے رہا ہے، مگر اس خوشی کے ساتھ ایک سنجیدہ مطالبہ بھی جڑا ہے: رفتار، تسلسل اور پیش بینی۔ اگر دفاعی صنعت کے آرڈرز سے پیدا ہونے والے مواقع کو بروقت صنعتی پالیسی، برآمدی سہولتوں، توانائی لاگت میں کمی اور ٹیکس اصلاحات سے نہ جوڑا گیا تو یہ موقع بھی جزوی فائدے تک محدود رہ جائے گا۔پاکستان اکنامک موومنٹ کا مو¿قف واضح ہے کہ دفاعی صنعت کی کامیابی کو دیگر شعبوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ ایوی ایشن، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، کمیونیکیشن سسٹمز اور جدید مینوفیکچرنگ وہ میدان ہیں جہاں پاکستان خطے میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کاروباری برادری کو محض ٹیکس دہندہ نہیں بلکہ شراکت دار سمجھے۔ آج بزنس کمیونٹی میں خوشی کی جو لہر ہے، اس کی وجہ یہی احساس ہے کہ شاید ریاست پہلی بار طاقت اور پیداوار کے باہمی رشتے کو سنجیدگی سے سمجھ رہی ہے۔
نئے سال کی یہ خوشخبری اسی لیے محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک امید ہے۔ امید اس بات کی کہ پاکستان قرض کے دائمی چکر سے نکل کر خود مختاری کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ امید اس بات کی کہ دفاعی کامیابیاں صنعتی ترقی میں ڈھل سکتی ہیں۔ اور امید اس بات کی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں قائم ہونے والا نظم و ضبط اگر سول نظام میں بھی سرایت کر جائے تو پاکستان معاشی کامیابی کی ایک مختلف کہانی لکھ سکتا ہے۔

ٹیگز: