Wed, September 16, 2026

بھارت کا انکاری بیانیہ

بھارت کا انکاری بیانیہ

جنوبی ایشیا کی سیاست میں اگر کسی ایک رویے نے وقت کے ساتھ ایک مستقل پالیسی کی شکل اختیار کر لی ہے تو وہ بھارت کا انکاری بیانیہ ہے۔ نئی دہلی ہر اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی آئی ہے جو اس کے سرکاری موقف، داخلی سیاست یا قوم پرستانہ بیانیے سے متصادم ہو۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بھارت ثالثی نہیں چاہتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ دنیا اسے اب محض ایک دوطرفہ فریق کے طور پر نہیں دیکھتی۔
حالیہ دنوں میں چین کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران بیجنگ نے ثالثی میں کردار ادا کیا۔ چین نہ صرف خطے کی ایک بڑی طاقت ہے بلکہ پاکستان کا قریبی شراکت دار اور بھارت کا براہِ راست ہمسایہ بھی ہے۔
 ایسے میں اگر وہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ خطے کی جیوپولیٹیکل حقیقت کا فطری نتیجہ ہے۔ مگر بھارت نے حسبِ روایت اس بیان کو بھی فوراً مسترد کر دیا، جیسے وہ سچ کو نہیں بلکہ صرف اپنے بیانیے کو بچانا چاہتا ہو۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے عالمی سطح پر سامنے آنے والے دعوو¿ں کو یکسر جھٹلا دیا ہو۔ 2019 میں پلوامہ حملے اور بالاکوٹ بحران کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا کہا کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں ثالثی کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ بھارتی قیادت نے خود مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کی تھی۔ مگر نئی دہلی نے ان بیانات کو بھی سختی سے رد کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ جیسی سپر پاور جھوٹ بول رہی تھی، یا پھر بھارت داخلی سیاست کی خاطر حقیقت ماننے سے انکاری ہے؟۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ انکاری رویہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں۔ 1947 کے بعد مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود ان پر عمل سے انکار، 1962 میں چین کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد طویل عرصے تک زمینی حقائق کو چھپانا، 1971 میں مشرقی پاکستان کے بحران میں عالمی کردار کو کم تر ظاہر کرنا، یہ سب اسی ذہنیت کی علامت ہیں۔ بھارت نے اکثر عالمی دباو¿ کو قبول تو کیا، مگر اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا۔
بین الاقوامی تعلقات میں اصل اہمیت سچائی سے زیادہ مستقل مزاجی کو دی جاتی ہے۔ اگر مختلف اوقات میں مختلف عالمی طاقتیں.... کبھی امریکہ، کبھی چین ایک ہی نوعیت کے دعوے کریں، اور ایک ہی ملک ہر بار انکار کرے، تو سوال دنیا کی ساکھ پر نہیں بلکہ اس ملک کے رویے پر اٹھتا ہے۔ بھارت کا مسلسل انکار دراصل یہ تاثر مضبوط کرتا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی زمینی حقائق کے بجائے داخلی سیاست اور قوم پرستانہ جذبات کے زیرِ اثر ہے۔
بھارت میں “تیسرے فریق کی عدم مداخلت” کو قومی وقار اور اسٹریٹجک خودمختاری کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ نعرہ داخلی سیاست میں تو کارگر ہو سکتا ہے، مگر سفارتی دنیا میں اس کی کوئی خاص وقعت نہیں۔ عالمی سیاست میں ثالثی اکثر خاموشی سے ہوتی ہے۔ امریکہ نے کیوبا میزائل بحران میں ثالثی کی، ناروے نے مشرقِ وسطیٰ میں کردار ادا کیا، اور خود بھارت نے ماضی میں سری لنکا میں ثالثی کی کوشش کی۔ سوال یہ ہے کہ جو کردار بھارت دوسروں کے لیے جائز سمجھتا ہے، وہی کردار اپنے لیے ناقابلِ قبول کیوں ہو جاتا ہے؟۔
یہ مسلسل انکار بھارت کی سفارتی ساکھ کو براہِ راست نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایک ذمہ دار علاقائی طاقت وہ ہوتی ہے جو پیچیدہ حقائق کو تسلیم کرے اور سفارتی لچک دکھائے، نہ کہ ہر ناپسندیدہ حقیقت کو جھٹلا دے۔ اگر بھارت واقعی خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے تو اسے یہ ماننا ہوگا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی محض دوطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی اثرات رکھتی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کا موقف نسبتاً واضح رہا ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی کو کبھی اصولی طور پر رد نہیں کیا بلکہ اسے ایک ممکنہ سفارتی راستہ سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی بیانیے میں اکثر پاکستان کو بات چیت کے لیے آمادہ اور بھارت کو انکار کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ فرق محض بیانات کا نہیں بلکہ رویّوں کا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ چین یا امریکہ نے واقعی ثالثی کی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بھارت کیوں ہر اس حقیقت سے انکار کرتا ہے جو اس کے کنٹرولڈ بیانیے سے باہر ہو۔ یہ انکار وقتی طور پر داخلی سیاست کو فائدہ دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ خود بھارت کے اس دعوے کو کھوکھلا کر دیتا ہے کہ وہ ایک بالغ، ذمہ دار اور شفاف عالمی طاقت ہے۔
اگر بھارت واقعی عالمی برادری میں سنجیدگی سے لیا جانا چاہتا ہے تو اسے سچ سے فرار کے بجائے حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلسل انکار نہ صرف بیانیوں کو کمزور کرتا ہے بلکہ بالآخر سفارتی تنہائی کو جنم دیتا ہے اور یہی وہ خطرہ ہے جو آج بھارت کے دروازے پر کھڑا ہے۔

ٹیگز: