Wed, September 16, 2026

عدالت نے علیمہ خان کی فرد جرم چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کردی

عدالت نے علیمہ خان کی فرد جرم چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کردی

راولپنڈی : علیمہ خان نے 26 نومبر کے احتجاج کے کیس میں فرد جرم کی کارروائی کو چیلنج کرنے کے لیے درخواست دی تھی، جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی نے مسترد کر دیا۔ عدالت میں سماعت جج امجد علی شاہ کی زیر صدارت ہوئی، جس میں علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ساتھ پیش ہوئیں۔

علیمہ خان کے وکیل نے عدالت میں یہ موقف اپنایا کہ فرد جرم ملزمہ کی موجودگی میں عائد نہیں کی گئی، اور قانون کے مطابق فرد جرم پر ملزم کے دستخط ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان اور ان کے وکلاء کو فرد جرم کے بارے میں میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا، جس سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں بتایا کہ فرد جرم 15 اکتوبر کو عائد کی گئی تھی، اور اس دوران وکلاء صفائی کو اس پر اعتراض نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تاخیر کا مقصد صرف ٹرائل کو التوا میں ڈالنا ہے، اور فرد جرم قانون کے مطابق درست طریقے سے عائد کی گئی ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سنے اور علیمہ خان کی درخواست کو مسترد کر دیا، ساتھ ہی فرد جرم کی کارروائی کو بھی درست قرار دے دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ علیمہ خان کی گزشتہ سماعت پر تاخیر سے عدالت پہنچنے کے باعث جو احکامات جاری کیے گئے تھے، وہ واپس لے لیے گئے اور ان کی حاضری کو قبول کر لیا گیا۔اس کے علاوہ، گزشتہ سماعت پر علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے اور توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

ٹیگز: