یوم آزادی قریب آتے ہی ہمارے شہروں کی فضا بدل جاتی ہے۔ سبز ہلالی پرچم گھروں، دکانوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر لہرانے لگتے ہیں۔ بازاروں میں جھنڈیوں اور بیجز کی دکانیں سج جاتی ہیں، اور نوجوانوں میں ایک عجیب سا جوش دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہی کہ اگر ان منچلے نوجوانوں کو روک کر اس تمام سرگرمی کی وجہ پوچھیں تو اکثر اس بات کا جواب دینے سے قاصر رہیں گے۔ معلومات اور شعور کی اسی کمی کی وجہ سے اکثر مقامات پر یہ جوش ایک ایسی صورت بھی اختیار کرلیتا ہے جس پر کچھ سنجیدہ غور و فکرر ضروری ہے۔
نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم اور شعور دیا جائے کہ وہ اس دن کو ہلڑ بازی، بے ہنگم موٹرسائیکل ریلیوں اور بدنظمی میں ضائع کرنے کے بجائے اپنی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا عہد کریں، شجرکاری اور ماحول دوستی کو اپنا معمول بنائیں ، قانون پر عملداری کا وعدہ کریںاوریوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی اور تقریبات کے ساتھ ساتھ کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں۔اس کے ساتھ ساتھ آزادی کی اصل روح تو تب ہی مکمل ہو گی جب ہم خود کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک رکھیں اور دوسروں کو بھی اس لعنت سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔
اصل مسئلہ تربیت کا فقدان اور نظام کی کمزوری ہے۔ اگر ہر سال یومِ آزادی سے پہلے واضح انتظامات کیے جائیں، سائلنسر نکلی ہوئی موٹر سائیکلوں کو ضبط کیا جائے، بازاروں میں خواتین کی ہراسانی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ہو،اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گھروں اور بازاروں میں لگائی گئی جھنڈیوں کی بے حرمتی نہ ہو اور جو جھنڈے لہرائے گئے ہیں انہیں احترام کے ساتھ اتار کر سنبھال دیا جائے تو صورتحال بہت بہتر دکھائی دینے لگے گی ۔
اب بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جن کے کاندھوں پر اصل ذمہ داری عائد ہوتی ہے، یعنی ہمارے قائدین اور حکمران طبقہ۔ ہر سال چودہ اگست پرایون صدر سے لے کر چھوٹے شہروں کے سرکاری دفاتر تک، تقریبات کا ایک طویل سلسلہ چلتا ہے۔ کیک کاٹے جاتے ہیں، جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، تصویریں کھینچی جاتی ہیں، اور خطاب ہوتے ہیں جن میں قوم کی ترقی اور یکجہتی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ اگلے دن یہ تصویریں اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیادت کا کام صرف ایک دن کی رسمی تقریبات میں شرکت کرنا ہے؟ کیا وطن سے محبت کا اظہار صرف کیک کاٹنے اور تصویریں بنوانے میں مضمر ہے؟
حقیقی قیادت کی پہچان توایک دن کی تقریر میں نہیں بلکہ سال بھر کی کارکردگی میں ہوتی ہے۔ اگر ملک میں مہنگائی کم نہیں ہوتی، روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے، تعلیم اور صحت کی سہولیات ہر شہری تک نہیں پہنچتیں، انصاف کا نظام کمزوروں کا ساتھ نہیں دیتا، تو ایسی صورت میں یومِ آزادی کی تقریبات محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں۔
جب تک لیڈر خود ڈسپلن اور قانون کی پاسداری کی مثال نہیں بنتے عوام سے اس قسم کے رویہ کی توقع کیونکررکھی جا سکتی ہے؟
کیا ہی اچھا ہو کہ ہر سال چودہ اگست کے موقع حکومت اور پرائیوٹ ادارے مل کر عوامی بہبود کے کچھ ٹھوس اقدامات کا اعلان کریں، مثلاً کسی نئے تعلیمی ادارے کا سنگ بنیاد، صحت کی سہولیات میں توسیع، یا کسی ایسے منصوبے کا آغاز جس سے عام آدمی کی زندگی میں حقیقی بہتری آئے، تو یہ دن محض رسمی جشن کے بجائے قوم کے لیے امید کا دن بن سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں طلبہ کو صرف تقریری مقابلوں اور ملی نغموں تک محدود رکھنے کے بجائے، انہیں شہری ذمہ داریوں، ماحول دوستی، قانون کی پاسداری اور نظم و ضبط کی اہمیت پر باقاعدہ آگاہی دی جائے۔
میڈیا کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ اگراخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے زریعے نوجوانوں کو آگاہی فراہم کی جائے کہ ون ویلنگ اور بے ہنگم ہلڑبازی کے بجائے وہ تعلیم، ٹیکنالوجی، آرٹ اور کھیل کے شعبوں میں ملک کا نام روشن کریں، تو نوجوان نسل کے سامنے ایک بہتر آپشن آئے گی۔
پولیس اور انتظامیہ کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ محض جشن کے دن سختی دکھانے کے بجائے، سال بھر ٹریفک قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائیں تاکہ چودہ اگست کوئی استثنائی دن نہ رہے بلکہ معمول کا تسلسل ہو۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے صوبہ بھر میں ڈسپلن کے حوالہ سے بہت اچھے انتظامات ہیں لیکن ان میں مزید بہتری لانے کی گنجائش موجود ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم یوم آزادی کو احتساب، عزم اور عملی اقدامات کا دن بنا ئیں اور اپنی حد تک کوششیں کرنے کے ساتھ ساتھ اربات اختیار کو بھی یہ باور کروانے کی کوشش کریں کہ وطن عزیر میں ہرشہری کو مکمل تحفط کا احساس ہونا چاہیے اور اس کے حقوق کا احترام ہونا چاہیے، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، میرٹ کو یقینی بنایا جانا چاہیے ، قیادت کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے اور وسائل کی تقسیم منصفانہ ہونی چاہیے۔