Wed, September 16, 2026

فلسطینیوں کا غزہ: فیصلہ ہو گیا؟

فلسطینیوں کا غزہ: فیصلہ ہو گیا؟


اسرائیل پھیل رہا ہے، وہ عربوں کی زمینوں پر بالجبر قبضہ کر رہا ہے اس مہم جوئی کا آغاز 2 نومبر میں ایک بیان سے ہوا۔ برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور نے برطانوی حکومت کی طرف سے برطانوی یہودی کمیونٹی کے سربراہ لارڈ والٹرروتھ چائلڈ کے نام ایک ڈکلیئریشن جاری کیا جس میں ”فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک قومی گھر“ کے قیام کے لئے برطانوی حکومت کی سپورٹ کا عندیہ دیا گیا۔ 67 الفاظ پر مشتمل اس بیان /خط نے 1948ءمیں ریاست اسرائیل کے قیام کی راہیں ہموار کیں۔ اسی دن سے عرب اسرائیل/فلسطین اسرائیل تنازع کا آغاز ہوا اور یہ ہنوز جاری ہے۔ غزہ اس تنازع کا سب سے خونخوار اور خوفناک باب ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس قبضے کو حتمی شکل میں نمٹانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ کرسچن ممالک اور اقوام بشمول امریکہ و برطانیہ و غیر ہم اسلحے کے جہاز بھر بھر کر اسرائیل کے حوالے کر رہے ہیں اور اسرائیلی بمبار ٹنوں کے حساب سے بارود غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں پر انڈیل رہے ہیں۔ ویسے تو غزہ اب مکمل طور پر ناقابل رہائش ہو چکا ہے، وہاں اس قدر بمباری کی جا چکی ہے کہ کوئی بھی عمارت سلامت نہیں بچی ہے۔ اسرائیلی بمبار خیموں میں پناہ گزین بچوں، عورتوں اور لاچار نہتے مردوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکمران، آخری مزاحمت کے خاتمے تک ملٹری آپریشن جاری رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ حماس کے مکمل خاتمے اور آخری اسرائیلی شہری کی رہائی تک آتش و آہن کی بارش جاری رہے گی۔ گزشتہ دنوں اسرائیل کی جنگی کابینہ نے غزہ پر قبضہ کرنے کی منظوری دے کر دنیا کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب غزہ، فلسطین کا حصہ ہرگز ہرگز نہیں ہو گا۔ یہاں پر اسرائیلی فوج حکمران ہو گی، یہودی آبادکاری ہو گی۔ ریاست اسرائیل کو محفوظ اور مامون بنانے کے لئے ہر وہ قدم اٹھایا جائے گا جو ضروری ہو گی۔ غزہ کی مکمل تباہی اور فلسطینیوں کی بربادی کے بعد اسرائیلی افواج غزہ پر قبضہ کرنے کی پلاننگ میں مشغول ہیں۔ تباہ کن بمباری اور فلسطینیوں کی بربادی کے بعد لشکر کشی کے دوران اسرائیلی فورسز اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ زمینی حملے/لشکر کشی کے ذریعے قبضے کے بعد غزہ کو ضم کرنے کا مرحلہ آئے گا۔۔ یہ کس طرح ہو گا، اسرائیلی وزیراعظم نے پلان واضح کر دیا ہے۔ 1948ءمیں فلسطین کی 52 فیصد زمین پر اسرائیل قائم کیا گیا تھا۔ اگلے 19سال کے دوران فلسطین کا جغرافیہ سمٹتے سمٹتے 22 فیصد زمین تک محدود 
ہو گیا جبکہ 2011ءمیں یہ رقبہ صرف 12فیصد تک گھٹ گیا۔ آج 2025ءمیں ہم سوچ سکتے ہیں کہ یہ کتنا رہ گیا ہو گا۔ ایسے لگتا ہے کہ غزہ میں آخری معرکہ برپا ہے۔ صیہونی ریاست اپنے طے شدہ ایجنڈے پر کامل یکسوئی کے ساتھ گامزن ہے۔ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کا مجوزہ نقشہ دنیا کے سامنے لا چکا ہے۔ اس نقشے کے مطابق اسرائیل کا جغرافیہ تشکیل پا رہا ہے۔ 1917ءمیں بالفور ڈکلیئریشن سے لے کر 1947ءمیں تقسیم فلسطین کے یو این او پلان اور 1948ءمیں اسرائیل کے قیام تک صیہونی ایک لمحے کے لئے بھی اس نقشے کو نہیں بھولے۔ انہوں نے عربوں کو مکمل طور پر، فکری و عملی طور پر عسکری طور پر بانجھ کر دیا ہے۔ عسکریت کے ذریعے عرب علاقے ہتھیائے جاتے رہے ، کئی علاقے بڑی خاموشی سے بھی سمیٹے جاتے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جب شامی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اسرائیل نے چپ کر کے شام کے کئی علاقے ہتھیا لئے۔ اپنی سرحدی پوسٹیں اٹھا کر شامی سرحدوں کے اندر لے جا کر قائم کر لیں۔ نئی حکومت سنبھل ہی نہیں پا رہی ہے کہ اسے کچھ ہوش ہو کہ اسرائیل اس کے جغرافیے کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کر گیا ہے۔ اسرائیل کچھ معاہدوں کے ذریعے بھی حاصل کر لیتا ہے وہ بڑی یکسوئی کے ساتھ اپنے طے شدہ اہداف کا پیچھا کر رہا ہے۔ ہر آنے والا دن اس کے جغرافیے کو اسی طرح ترتیب دے رہا ہے جس طرح صیہونیوںنے پلان کر رکھا ہے۔ اقوام عالم یروشلم کو ایک کھلا شہر قرار دے چکی ہیں کہ یہ شہر تینوں مذاہب کے ماننے والوں یعنی یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے قابل رسائی ہو گا۔ اس کا کسی ملک سے تعلق نہیں ہو گا لیکن صیہونی ریاست نے یہ بات کبھی نہیں مانی، جس طرح ہم کہتے ہیں کہ ”کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے“اسی طرح صیہونی کہتے ہیں ”یروشلم ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے“ انہوں نے یہ نعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا ہے۔ انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں سلطنت داﺅدی و سلیمانی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک یروشلم اس کا دارالحکومت نہ ہو۔ گریٹر اسرائیل کا دارالحکومت یروشلم ہی ہو گا اور انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت ڈکلیئر کر دیا ہے۔ کئی ممالک بشمول امریکہ اپنے اپنے سفارتخانے بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کر چکے ہیں۔ ویسے ہم مانیں یا نہ مانیں، اسرائیل ایک زمینی حقیقت ہے۔ تھیوڈورھرزل کی صیہونیت نے 2500 سال کے بعد اسرائیل کو ایک ریاست کی شکل دی ہے۔ صیہونی اسے یعنی ریاست اسرائیل کو ایک روحانی حقیقت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کیا ہے؟ یہ وہی ریاست ہے جو داﺅد ؑ نے قائم کی جسے سلیمان علیہ السلام نے عظمت سے ہمکنار کیا۔ بنی اسرائیل کا یہ سنہری دور کہلاتا ہے، اس دور میں نعمتیں و برکتیں اسرائیلیوں پر برس رہی تھیں۔ ہیکل سلیمانی اس ریاست کا محور اور بنی اسرائیل کی وحدت کا مرکز تھا۔ یہ عظمت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 586 قبل مسیح شاہ بابل بخت نصر نے ریاست اسرائیل پر حملہ کر کے ریاست تباہ کر ڈالی اور ہیکل سلیمانی برباد کر دیا۔ بنی اسرائیل کی عظمت کا سورج غروب ہو گیا۔ گریٹر اسرائیل ختم ہو گیا۔ اس تباہی کے 50 سال بعد سائرس اعظم کے دور میں ہیکل کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اسے دوسرا ہیکل کہتے ہیں۔ بنی اسرائیل کو یروشلم میں رہنے کی اجازت مل گئی لیکن ان کی عظمت رفتہ لوٹ کر نہ آ سکی، حتیٰ کہ مسیح ابن مریم ؑتشریف لائے یہودیوں نے ان کی تکذیب کی، انہیں صلیب پر چڑھانے کی کوشش کی۔ اللہ نے 70 عیسوی میں یروشلم کو تباہ کر دیا اور دوسرا ہیکل بھی تباہ و برباد ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل کا طویل دور انتشار شروع ہوا جو 1948ءمیں ریاست اسرائیل کے قیام تک جاری رہا۔
اب یہودی صیہونی قیادت میں گریٹر اسرائیل کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں۔ گزرے 77 سال کے دوران وہ اس خواب کو حقیقت کی شکل دینے میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ گریٹر اسرائیل جغرافیائی طور پر حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ یروشلم اس ریاست کا دارالحکومت بھی بن چکا ہے۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے، اس کے نقشے بنائے جا چکے ہیں، یہاں رکھے جانے والے برتن اور دیگر لوازمات بھی تیار ہو چکے ہیں۔ یہاں پر یعنی تیسرے ہیکل میں عبادات کرانے والے مذہبی رہنماﺅں (ربیوں) کی ترتیب بھی کی جا چکی ہے، ان کے خصوصی لباس بھی تیار کئے جا چکے ہیں۔ یہ سب کچھ مذہبی کتابوں میں درج معلومات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ عہدنامہ قدیم کے مطابق گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل کا عمل جاری ہے۔ صیہونی قیادت، کسی بھی عالمی دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تخلیق میں لگی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا سلامتی کونسل کی قراردادیں ، امریکی برطانوی سربراہوں کے مشورے، اسرائیلی قیادت انہیں خاطر میں نہیں لا رہی ہے۔ فلسطینی پہلے ہی مہاجر ہیں۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے، اب رہی سہی زمین بھی صیہونی چھین رہے ہیں، چھین لیں گے۔ لگتا ہے غزہ بھی اب تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ حماس تباہ و برباد ہوئے جا رہی ہے۔ صیہونی حماس کو نہیں چھوڑیں گے۔ گریٹر اسرائیل کی تخلیق کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ نیست و نابود کر دی جائے گی۔

ٹیگز: