Wed, September 16, 2026

غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر معصوم فلسطینیوں کو نشانہ بنا دیا، 80 سے زائد شہید

غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر معصوم فلسطینیوں کو نشانہ بنا دیا، 80 سے زائد شہید

غزہ: اسرائیل اور ایران کی جنگ بند ہونے کے باوجود غزہ میں تشدد کم نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے امداد کے لیے جمع ہونے والے 80 سے زائد فلسطینیوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا، جبکہ سینکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی حالات خراب ہیں جہاں صیہونی قابضین نے چار نہتے فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ عینی شاہدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اسرائیل اب امدادی مراکز کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، جہاں لوگ خوراک کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، اب تک امدادی مراکز پر حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 500 سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق، آج صبح وسطی غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ ہوئی جس میں کئی جانیں گئیں۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خوراک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو جنگی جرم ہے۔

غزہ میں امداد فراہم کرنے والی تنظیمیں بھی اس صورتحال میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں بھوکے فلسطینی رات بھر لائن میں کھڑے رہتے ہیں لیکن انہیں خوراک کی جگہ گولیاں ملتی ہیں۔

فرانسیسی میڈیا نے جب اسرائیلی فوج سے واقعے پر تبصرہ مانگا تو فوج نے کہا کہ وہ خبروں کا جائزہ لے رہی ہے۔

اب تک غزہ میں 56 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں ہزاروں بچے اور خواتین شامل ہیں، اور عالمی میڈیا بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے۔

ٹیگز: