(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک دفعہ ایک بھنگی نے ڈیوڑھی میں حکیم محمداحمد خاں صاحب کے پیر پکڑ لیے اور کہا حکیم صاحب پیٹ میں آگ لگ رہی ہے، نہ بھوک ہے نہ پیاس۔ حکم محمد احمد خاں صاحب نے کہا کتے کا گوشت کھاو¿۔ سب کو حیرت ہوئی کہ یہ کیا علاج ہوا لیکن چونکہ حکیم صاحب کا حکم تھا۔ اس لیے کتے کا گوشت اس بھنگی کو کھلایا گیا۔ یہ گوشت کھاتے ہی اسے قے ہوئی اور قے میں گوشت کے ساتھ چمٹی ہوئی چچڑیاں نکلیں۔ جو شاید وہ پانی کے ساتھ پی گیا تھا۔ اور وہ چچڑیاں پیٹ میں جا کر اس کی انتڑیوں میں چمٹ گئی تھیں اور جیسے ہی کتے کا گوشت اس بھنگی کے معدے میں پہنچا وہ اس مریض کی انتڑیوں کو چھوڑ کر اپنی محبوب غذا کتے کے گوشت پر لپکیں۔
ایک دفعہ ایک جلاہا پیٹ کے درد کی شکایت لے کر آیا تو حکم محمد احمد خان صاحب نے کہا کہ چنے کھاو¿ چنے۔ اور جیسے ہی اس مریض نے چنے کھائے، پیٹ کا درد جاتا رہا۔ مصاحبوں نے پوچھا پیٹ کے درد میں چنے؟ حکیم صاحب نے کہا یہ جلاہا تھا۔ ان لوگوں میں شادی بیاہ میں شکرانہ ہوتا ہے۔ شکرانہ چاولوں کا خشکا ہوتا ہے جس پر لوٹے کی ٹونٹی سے گھی ڈالا جاتا ہے اور پھر بھر بھر کر پیالے شکر۔ اور یہ گھی اور شکر ان ابلے ہوئے چاولوں پر اس وقت تک ڈالی جاتی ہے جب تک مہمان دونوں ہاتھوں سے بس بس نہ کرنے لگے۔ چنانچہ حکیم صاحب نے بتایا کہ یہ جلاہا زیادہ گھی کا شکرانہ کھا کر آیا تھا۔ یہ گھی اس کی آنتوں میں بیٹھ گیا تھا۔ چنوں نے جا کر وہ گھی جذب کر لیا اور پیٹ کا درد جاتا رہا۔ یہ سارے بَلی ماروں کے حکیم۔
ایک اور بزرگ تھے جو اس کالے خاں کی مسجد کے عقب میں رہتے تھے اور نگینہ ساز تھے۔ ان کو اپنی بیٹی کے بیاہ پر ایک ہزار روپے کی ضرورت پڑ گئی جس جوہری کے ہاں یہ کام کرتے تھے اس سے جب انہوں نے ایک ہزار روپے قرض مانگے تو اس نے کچھ آنا کانی کی۔ دوسرے دن یہ ایک ہیرا لے کر اس جوہری کے پاس گئے اور کہا کہ لو لالہ یہ ہیرا ہمارے بزرگوں کے وقت کا ہے اور ایسے ہی آڑے وقت کے لیے رکھا تھا۔ لالہ جی بولے میاں جی اب تو چاہے آپ دس ہزار روپے لے لیجیے۔ ایک ہزار تو اس ہیرے کی منہ دکھائی کیلئے بھی کم ہے۔ ان نگینہ ساز صاحب نے کہا کہ یہ ہیرا میں فروخت کرنے کی نیت سے نہیں لایا، آپ اسے صرف گروی رکھ لیجیے۔ ایک ہزار روپے میں۔ چنانچہ بیٹی کی شادی سے فارغ ہو کر جب انہوں نے کوئی ایک برس میں محنت مزدوری کر کے ایک ہزار کی رقم کر لی تو اس جوہری سے کہا یہ لیجئے اپنے روپے اور لائیے میرا ہیرا۔ لالہ جی نے ہیرا نکلوایا تو کہا اب ایک کٹوری میں پانی بھی منگوا لیجیے اور جب کٹوری میں پانی آیا تو ان نگینہ ساز صاحب نے اس جوہری سے کہا کہ اب یہ ہیرا اس پانی کی کٹوری میں ڈال دیجئے۔ ہیرا جیسے ہی کٹوری میں ڈالا وہ گھُل گیا جوہری نے حیران پریشان ہو کر پوچھا میاں جی یہ کیا تماشا ہے۔ نگینہ ساز صاحب نے جواب میں کہا کہ یہ کوزے کی مصری کا ٹکڑا تھا جسے میں نے اس طرح تراشا تھا کہ آپ جیسے جوہری کی آنکھ دھوکا کھا گئی۔ جوہری نے کہا ”اور جو اسے چیونٹیاں کھا جاتیں“ تو نگینہ ساز صاحب بولے میں تو زندہ تھا۔ لالہ جی افسوس کہ آپ نے ایک ہزار روپے کا میرا اعتبار نہ کیا اور اس دمڑی کے مصری کے کوزے کے ٹکڑے پر مجھے دس ہزار روپے دینے پر آمادہ ہو گئے۔ آپ جیسے نا قدروں کے ہاں اب میں کام نہیں کروں گا۔
ایک اور معروف بزرگ اسی محلے میں یعنی چیلوں کے کوچے میں مسجد کالے خاں کے قریب کوئی سو برس سے اوپر کی عمر کے تھے اور کہا یہ جاتا تھا کہ یہ بہادر شاہ ظفر کی گھڑ سوار فوج کے رسالدار تھے ان کے لیے بھی کھوج لگا کر ایک گورا مولانا محمد علی جوہر کے کامریڈ پریس میں آیا اور کہا ”یہاں کوئی بادشاہی وقت کا گھڑ سوار رہتا ہے جسے ہم دیکھنا مانگتا ہے“۔ مولانا محمد علی جوہر نے ان بزرگ کے گھر ڈولی بھجوائی اور جب وہ تشریف لائے تو مولانا نے کہا۔ یا حضرت یہ گورا آپ کا امتحان لینے آیا ہے۔ وہ بزرگ بولے ”میاں اب تو قبر ہی میں امتحان ہو گا“۔ اس پر گورا بولا کہ کیا آپ ہمیں گھوڑے کی سواری کر کے دکھا سکتا ہے؟ بزرگ نے کہا گھوڑا کہاں ہے؟ یہ گورا بھی لال قلعے گھڑ سوار فوج کا کوئی بڑا افسر تھا۔ اس نے لال قلعے میں جو گھڑ سوار فوج تھی اس کا ایک موٹا تازہ گھوڑا منگوایا اور ان غیر معروف بزرگ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ بزرگوار نے کہا کہ اب اس گھوڑے پر ہمیں سوار بھی کرا دو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ یہ حضرت اس طرح گھوڑے پر سوار ہو کر کوئی دس قدم دُلکی چلاتے ہوئے گئے اور پھر انہی قدموں پر گھوڑے کو واپس لوٹا لائے اور کہا کہ لو بھئی اب ہمیں اتروا لو۔ اب اس سے زیادہ کا دم ہم میں نہیں رہا۔ بڑھاپا بُرا آپا ہوتا ہے؟ گورے صاحب نے پہلے ان بزرگ کا منہ دیکھا اور پھر مولانا محمد علی جوہر کا اور پھر کہا یہ کیا بات ہوا۔ بزرگوار بولے کہ جناب والا ذرا گھوڑے کے سموں کے نشان دیکھئے۔ گھوڑا اپنے سموں سے جو نصف دائرے مٹی پر بناتا ہوا گیا تھا، جب انہی قدموں پر واپس ہوا تو وہ نصف دائرے مکمل گول دائروں میں تبدیل ہو چکے تھے۔