تاریخ میں مدفن، کتابوں میں زندہ لوگ گر صفحات سے گزریں تو مل ہی جایا کرتے ہیں اگلے روز قبلہ محمد صادق صاحب نے ایک لنک بھیجا جس میں ایسی چائے کی ایجاد تھی جس سے شوگر کا مرض جاتا رہتا ہے (ان کا دعویٰ) ہے فیصل آباد کے پروفیسر ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر لوگ دیسی ادویات میں موزی امراض کا بھی علاج بتاتے ہوئے پائے گئے ہیں مگر میں ان کے بارے میں مختلف نظر بلکہ برعکس نظریہ رکھتا ہوں۔ دیسی ادویات میں معمول کی غذا میں موافق چیزیں کھانا بہترین حکمت عملی ہے۔ میرے ایک رشتے دار انگلینڈ سے چند دن کے لئے آئے انہوں نے ایک آدمی کی بات سنائی کہ اس کی عمر 90 سال سے زائد ہے اور بہت عمدہ صحت کے ساتھ ہیں جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اچھی صحت کا راز (ذیابیطس) کا مرض ہے وہ بڑے حیرات ہوئے پھر اس نے بتایا کہ اس مرض نے میری زندگی کا معمول اس طرح بنا دیا کہ جن کو کوئی مرض نہیں ان سے بہتر ہوں روزانہ سیر، ورزش، موافق غذا، نیند مکمل، غیر ضروری ذہنی دبائو سے پرہیز اورغیر ضروری سوچ سے اجتناب خواہ مخواہ کی خبروں سے بے خبر رہنا اور دوا جو تجویز کی گئی اس کا اہتمام چاہے زکام ہی ہو۔ دیسی ادویات اور جڑی بوٹیوں سے علاج کے حوالے سے مجھے چند تاریخی واقعات بھی یاد ہیں اور دیگر ہنرمند لوگ بھی جو قارئین کے لیے پیش کیے دیتا ہوں۔
شریف منزل کے حکیم بھورے خان صاحب کا یہ واقعہ سنا کہ دلی سے چالیس میل دور میرٹھ میں ان کے کوئی دوست تھے جن کے ساتھ وہ شکار کھیلنے جایا کرتے تھے۔ ایک دن جب وہ اپنے ان دوست کے گھر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے سب لوگ پریشان ہیں اور دلی کے بڑے بڑے ڈاکٹر اور انگریز سول سرجن میرٹھ میں براجمان ہیں۔ ان صاحب کے لڑکوں نے حکیم بھورے خان صاحب کو بتایا کہ ہارے والد کی تو ٹانگ کٹنے والی ہے۔ سول سرجن کہتا ہے کہ اگر فوراً جڑ سے ٹانگ نہ کاٹی گئی تو سارے جسم میں زیر باد پھیل جائے گا۔ اور پھر کوئی انہیں مرنے سے بچا نہیں سکے گا۔ حکیم بھورے خاں صاحب نے فرمایا لیکن ہم تو شام کو ان کے ساتھ گھوڑے پر بیٹھ کر شکار کھیلنے کا منصوبہ بنا کر دلی سے میرٹھ آئے ہیں اور پھر سول سرجن کو بلوا کر یہ پوچھا کہ کیا ٹانگ کٹنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ اور جب سب ڈاکٹروں نے یک زبان ہو کر یہ فیصلہ سنایا کہ نہیں ہے تو حکیم صاحب نے کہا کہ اچھا آپ صرف ہمیں یہ بتا دیجیے کہ کہاں سے اور کس طرح آپ ٹانگ کائیں گے ۔ اور جب انگلی کے اشارے سے سول سرجن نے شگاف کی شکل بنائی تو حکیم صاحب نے کہا کہ روئی کی بتی بٹ کر لاؤ اور چیرا لگنے کا جو نشان انگلی کے اشارے سے اس انگریز ڈاکٹر نے بتایا ہے وہاں روئی کی بٹی ہوئی بتیاں رکھ دو اور برف کی ایک سلی منگوا کر ان روئی کی بتیوں پر برف کی ٹکور کرو اور حکیم بھورے خاں صاحب نے ان روئی کی بتیوں پر کوئی دوا بُرکی اور ایک کپڑا ان پر ڈھانک کر اور برف کی ٹکور شروع کرا کر آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے اور کہا دو گھنٹے بعد جبدو پہر ڈھل جائے تو ہمیں جگا لینا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور دو گھنٹے بعد جب ٹکور کرتے کرتے برف کی سلی ختم ہونے کے قریب ہوئی تو حکیم صاحب کو جگایا گیا۔ انہوں نے اٹھتے ہی فرمایا ان ڈاکٹروں کو بلواؤ جو ٹانگ کاٹنے کو کہتے تھے اور جب سب ڈاکٹر جمع ہو گئے تو حکیم صاحب نے کہا کہ اب ان روئی کی بتیوں پر سے کپڑا ہٹا دو۔ اور سب نے دیکھا کہ قندھاری انار کی طرح کی کوئی چیز ران پر ابھر آئی ہے جیسے کھلا ہوا انار، اور روئی کی بتیاں گوشت پھاڑ کر اندر بیٹھ گئی ہیں۔ پھر کہا کہ اب کسی جراح کو بلواؤ۔ جراح سے کہا گیا کہ اس ران پر ابھرے ہوئے انار کو زور سے دباؤ، اب جو اس جگہ کو جراح نے دونوں ہاتھوں سے دبایا تو شدید متعفن سیاہی مائل سبز گٹھلیاں سی نکلیں اتنی کہ تسلہ بھر گیا اور مریض نے آنکھیں کھول دیں جو تین دن سے بے ہوش پڑا تھا۔ حکیم صاحب نے اسی جراح سے کہا کہ اب اگر تمہارے پاس کوئی زخم پر لگانے کا مرہم ہو تو اس زخم میں بھر دو اور پٹی کر دو۔ مریض سے کہا کہ لو میاں کھڑے ہو جاؤ اور ان ڈاکٹروں کو چل کر دکھاؤ جو تمہاری ٹانگ کاٹنے کو پھر رہے تھے اور مرہم پٹی کرا کے چلو ہمارے ساتھ گھوڑے پر بیٹھ کر شکار کو۔ ڈاکٹروں نے جب پوچھا کہ کیا دوا تھی جو آپ نے روئی کی بتیوں پر برف کی ٹکور سے پہلے ڈالی تھی تو حکیم صاحب نے کہا، یہ کھانے کا کشتہ تھا جس نے ساری ٹانگ کی پیپ کھینچ کر ایک جگہ جمع کر دی اور برف نے اس پیپ کو جما دیا۔
اسی طرح حکیم بھورے خان صاحب کا ایک واقعہ یہ پڑھا کہ شاہی خاندان کی کوئی میم اپنے شوہر کے ساتھ ان کے مطب میں اپنے دائمی نزلے کے علاج کے لیے پہنچی، اس شاہی خاندان کی انگریز عورت کے ناک سے مستقل ریزش بہے جاتی تھی۔ حکیم صاحب نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ کل آنا۔ اور اس میم کے جانے کے بعد ایک پتلے سے سرکنڈے میں ایک تار کا آنکڑا بنا کر پرویا اور رکھ لیا۔ دوسرے دن جب وہ میم آئی تو حکیم صاحب نے وہ آنکڑے والا سرکنڈے کا سرا اس انگریز عورت کی ناک میں ڈالا اور کئی بل دے کر باہر کھینچ لیا اور دیکھا کہ اس تار کے آنکڑے میں ایک گھوڑے کی دم کا سخت بال کوئی چار انگل لمبا لپٹا ہوا ہے اور انگریز جوڑے سے کہا کہ بس اب جاؤ، ہو گیا علاج۔ اور فوراً اس عورت کی ناک اور منہ سے ریزش بہنا بند ہو گئی۔
حکیم اجمل خان صاحب ’’شریف منزل‘‘ سے ایک دفعہ باہر نکلے تھے کہ کیا دیکھا کہ ہندوؤں کی ایک برات چلی آتی ہے۔ حکیم صاحب برات کے جلوس کے نکل جانے کے انتظار میں رک گئے اور ان کے ساتھ ان کے مصاحب بھی۔ جب دولہا کا گھوڑا حکیم صاحب کے سامنے سے گزرا تو حکیم صاحب کی بھی نظر دلہا پر پڑی۔ فرمایا دلہا نہیں دلہا کی ارتھی جا رہی ہے۔ پتہ نہیں کس کا سہاگ اجڑا ہے اور کہتے ہیں ’’شریف منزل‘‘ سے دو پیسے ڈولی پر دلہن والوں کا گھر تھا۔ جب دلہا وہاں پہنچا اور وہاں گھوڑے سے دلہن والوں نے دلہا کو اتروایا تو وہ گھوڑے سے اترنے کی بجائے دھڑ سے زمین پر گر پڑا۔ سب کو حیرت ہوئی کہ یہ دلہا مرا کیسے۔