کائنات میں کہیں بھی لوگ ایک جیسے نہیں ہیں، حتیٰ کہ کسی شعبے اور خاندان میں لوگ ایک جیسے نہیں ہوا کرتے۔ انسانی جبلت، فطرت، خاندانی پس منظر، ماحول اور تربیت، انسانوں کے رویے ایک دوسرے سے ہمیشہ مختلف پائے جاتے ہیں۔ یہ مختلف طرز زندگی کے لوگ مل کر ایک معاشرت قدرتی طور پر ترتیب دیتے ہیں۔ جس سے کسی معاشرت کی روایات جنم لیتی ہیں جب یہ برس ہا برس قائم رہیں تو تہذیب کہلاتی ہے لہٰذا شعبہ کوئی بھی ہو اس میں مختلف قسم کے لوگ مگر اس شعبے کے مربوط تمدن اور روایات میں جکڑے ضرور ملیں گے۔ جس طرح کسی فلم ڈرامہ میں بہت سے کردار ہوتے ہیں مگر چند کرداروں کے گرد پوری کہانی گھومتی ہے۔ وہ مضبوط کردار آپ کو معاشرت اور اداروں میں بھی ملیں گے گوجرانوالہ بار پر کالم لکھا تو دوستوں نے اپنی بات کے اظہار کے لیے پیغام دئیے۔ جیسے کیپٹن (ر) منظور نے کہا ”بار کے تین ممبر جو اپنی بذلہ سنجی میں ثانی نہیں رکھتے تھے ان میں پال بھی شامل تھے دیگر ارشد میر اور شیخ اسلم تھے اور اس وقت کے نوجوان سلمان کھوکھر بھی کسی سے پیچھے نہیں! سلمان کھوکھر ایک ایسی باکمال اور لاجواب شخصیت ہیں کہ ان کے حوالے سے لکھیں تو کالم ناکافی ہے، ان پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ جبکہ صاحب اسلوب معروف شاعر اور ممتاز قانون دان حافظ انجم سعید نے کہا ”اب جب کہ یہ سب سہانا سپنا خود خواب ہو چکا ہے، کچھ دنیا خود بدل گئی ہے اور کچھ دنیا نے ہمیں بدل کر رکھ دیا ہے۔ لیکن ایسے میں آصف صاحب نے ان خوابوں کو جو حقیقی تھے اور ان حقیقتوں کو جو اب خواب ہو چکی ہیں ، پھر سے رنگ بھر دیا ہے۔ شکریہ آصف صاحب آپ نے ماضی کے جھروکوں سے جھانکا۔ اور کچھ دیر کے لیے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ لیکن ایسے سہانے اور خوشگوار وقت کے گزر جانے پر محض حیرانگی ہی نہیں پریشانی بھی ہے۔ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ انسان کو ہی بالاخر وقت کے پاس لوٹ کر جانا ہوتا ہے۔ سو لوٹ جائیں گے۔
یہ بھی اب یاد نہیں ہے مجھ کو
کون ہوں میں ، کہاں ہوں، کیسا ہوں“
پھر گوجرانوالہ بار کے حوالے سے چودھری محمد حسین بھنڈر، چودھری انور بھنڈر، چودھری رفیق تارڑ (سابق صدر) اور بہت سے لوگوں کا تذکرہ باقی رہ جانے کی بات کی۔ میرے مشاہدے میں گوجرانوالہ بار میں چودھری غلام رسول باٹھ اور خواجہ جاوید صاحبان کی محنت، ذہانت، شرافت، صداقت، شہرت کے گرد گوجرانوالہ بار کی فوجداری وکالت کی کہانی عصر حاضر کی تاریخ گھومتی ہے۔ آج تک ان کا نام آنے پر لوگ تعریف کرنے میں، تعلق بتانے میں سبقت لے جانے کے درپے ہوتے ہیں۔ مال و متاع جائیداد بھی وراثت ہے لیکن اصل وراثت کردار کی وراثت ہوا کرتی ہے۔ خواجہ صاحب کے بیٹے تو وکالت میں نہ آئے مگر چودھری غلام رسول باٹھ صاحب کے بیٹے چودھری امتیاز رسول باٹھ اپنے والد کے کردار کی وراثت کے ساتھ آج پیشہ وکالت سے منسلک ہیں۔ گلزار بھائی (گلزار احمد بٹ صاحب سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل موجودہ کوآرڈینیٹر وفاقی محتسب لاہور) نے کہا کہ کالم پڑھ کر آنکھوں میں زمانے گھوم گئے۔ جناب عاشق پرویز، بابو شاہزیب، ارشد میر صاحب دلدار پرویز بھٹی کے والد گرامی افتخار بھٹی جیسی مرنجاں مرنج شخصیات اور اس دور کے مناظر آنکھوں میں بس گئے۔ شیخ محمد اسلم صاحب بار کی رونق اور طاقت تھے۔ نئی نسل میں اب جو سینئر ہیں ان میں چودھری اختر حسین، محمد صدیق انجم، شیخ اعجاز الرحمن، میاں محمد افضل، طاہر مسعود گل، خادم عبداللہ سوہی وغیرہ نے روایات کو آگے بڑھایا۔ سینئر وکیل جناب محمد اسحاق اولکھ اور ان کے بیٹے پیشہ وکالت سے منسلک ہیں، بار کا اثاثہ ہیں۔ بہرحال چودھری غلام رسول باٹھ، خواجہ جاوید، ارشد میر شخصیات ہی نہیں، اُن کے نام کے ساتھ اُن کا زمانہ منسوب ہے۔ ایک وکیل صاحب (نام نہیں لکھوں گا) وہ بار روم میں آئے تو سر پر معمولی سا زخم اور تھوڑا سا خون جیسے بہہ کر جم گیا ہو۔ بار میں ڈی ایس پی کے خلاف درخواست دی۔ بار کے صدر سید حسن جعفری صاحب تھے، انہوں نے فوراً اجلاس بلا لیا۔ صدر صاحب نے جب شکایت کرنے والے وکیل صاحب کی بات سنی تو فوراً تین وکلا کی کمیٹی بنا دی کہ ابھی جائیں اور پتہ کریں کہ ڈی ایس پی نے چھڑی سر پر ماری ہے یا سر جا کر چھڑی سے لگا ہے۔ شکایت کنندہ وکیل نے غصے سے کہا میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں اور ناراض ہو گئے۔ دراصل ان کا مزاج دیکھ کر صدر بار نے یہ فیصلہ کیا۔ گویا آج کی طرح نہیں تھا کہ جہاں کسی سے مڈبھیڑ ہوئی وہیں موبائل گھما دئیے، وکلا اکٹھے ہوئے اور ایک عجیب سا منظر بن گیا۔ لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا واقعہ اور دیگر پُرتشدد واقعات میں پرانی بنچ اور بار کی روایات کہیں گم ہو گئیں۔ پاکستان تو ترقی کر جائے گا مگر وہ روایات شاید آئندہ نسلوں کو کبھی دیکھنے کو نہ ملیں۔ ہر شعبہ میں کیا کیا نگینے لوگ تھے پھر وکلا بار میں تو لاجواب نگینے تھے۔ جو رہ گئے رب سلامت رکھے جن کا وصال ہو گیا اللہ مغفرت فرمائے۔
کچھ وکلا کا تذکرہ رہ گیا دراصل وہ اپنا تذکرہ خود ہی کرتے رہتے ہیں، کچھ کا انداز زندگی اور معمول ایسا ہے کہ پوری پوری زندگی اپنا تعارف ہی کراتے رہتے ہیں کہ میری عادت یہ ہے، میں نے فلاں کیا، میں نے وہ کیا، کچھ زندہ پیر ہوتے ہیں اور کچھ زندہ لاشیں اور کچھ مر کر بھی زندہ، یادوں کے دریچے کھلیں تو پھر زمانے ایک آدھ کالم میں سمیٹنا مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا میرا کالم کچھ معنی نہیں رکھتا، یہی صورتحال لاہور، ہر بار بلکہ ہر شعبہ میں ہے۔ میں نے معراج محمد خان اور جناب پرویز صالح کو بار میں مدعو کر رکھا تھا۔ ارشد میر صاحب کے دفتر جہاں میری زیادہ بیٹھک ہوتی۔ احباب وہیں پر بیٹھے، اس دن میں اکیلا کچھ پیپر ورک کر رہا تھا۔ ”السلام علیکم، ساتھ ہی میر صاحب ہیں یعنی آج موجود ہیں“۔ میری کچھ مزاح کی عادت بھی ہوا کرتی تھی۔ میں نے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھتے ہی کہا، سر! آپ بولے ہیں تو مجھے لگا کہ بی بی سی ریڈیو آن ہو گیا ہے۔ وہ صاحب بولے میں بی بی سی لندن سے رضا علی عابدی ہوں سیربین پروگرام کرتا ہوں۔ میں نے بہت پُرجوش ویلکم کیا۔ وہ ان دنوں جی ٹی روڈ پر کتاب لکھ رہے تھے۔ میر صاحب کا حلقہ احباب شعر و ادب کے لوگوں سے تھا، خط کا انتظار کرتے رہتے تھے روزانہ ڈاکیے کا انتظار کرتے۔ ایک دن مجھے کہتے ڈاکیا نہیں آیا اس کو بلاو¿، میں نے بلایا کہ شاہ جی کا کوئی خط ہے۔ اس نے کہا ، نہیں۔ میں نے کہا، میر صاحب کو کسی کا خط ہی پڑھا دیں، کہنے لگے ”آہو کسے دا ای پڑھا دے“۔