ایک بار میں نے اپنی والدہ سے پوچھا میرا نام (توفیق بٹ) کس نے رکھا تھا؟ اُنہوں نے بتایا ”پیدائش کے اگلے ہی روز تمہیں ایک چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس لیجانا پڑا، اُنہیں جب معلوم ہوا ابھی نام نہیں رکھا اُنہوں نے کہا ”اس کا نام توفیق رکھ دیں، یہ اس حوالے سے بڑا برکتوں والا نام ہے یہ ہر دُعا میں لیا جاتا ہے کہ اللہ ہمیں فلاں فلاں اچھے کام کی توفیق دے“، ہمارے ہاں لوگ اپنے بچوں کا ہر پُٹھا سیدھا نام رکھ دیتے ہیں، اتنا اچھا نام (توفیق) بہت کم رکھتے ہیں، لوگ اس نام کو زیادہ مانتے یا جانتے بھی نہیں، خود میرے ساتھ اکثر یہ مسئلہ ہوتا ہے کوئی مجھے توقیر سمجھتا ہے، کوئی عتیق کہتا ہے اور اکثر توصیف کہہ دیتے ہیں، میرا صحیح نام (توفیق) لکھنے اور کہنے کی توفیق کم لوگوں کو ہوتی ہے، بعض لوگ میرے منہ پر میرا غلط نام لے رہے ہوتے ہیں، جیسے اگلے روز میں اپنی بیگم کے ساتھ ڈی ایچ اے ڈولمن مال گیا ایک صاحب بڑی تیزی سے میرے قریب آ کر رُک گئے، کہنے لگے ”سر آپ صدیق بٹ ہیں؟“، میں نے کہا ”جی نہیں میں صدیق بٹ نہیں ہوں“، فرمانے لگے ”سر کیوں مجھے بےوقوف بناتے ہیں مجھے پتہ ہے آپ صدیق بٹ ہی ہیں“، میں نے پھر انکار کیا، اُنہوں نے پوچھا ”آپ کالم نویس ہیں؟“، میں نے عرض کیا ”بالکل میں کالم نویس ہوں“۔ وہ بولے ”اگر آپ کالم نویس ہیں پھر آپ لازمی صدیق بٹ ہی ہیں“، پھر اُنہوں نے اپنا موبائل نکالا اور سوشل میڈیا پر لگا میرا ایک کالم مجھے دکھا کر کہنے لگے ”یہ دیکھیں اپنا کالم، آپ کیسے کہہ رہے ہیں آپ صدیق بٹ نہیں ہیں؟“، اُس کے بعد میں نے فوراً تسلیم کر لیا میں صدیق بٹ ہی ہوں کیونکہ مجھے یقین ہو گیا تھا میں نے اُنہیں اپنا صحیح نام بتا بھی دیا پھر بھی اُنہوں نے مجھے صدیق بٹ ہی کہنا ہے، جیسے ایک سردار جی ایک دکاندار سے کہنے لگے ”مینوں جیلو جیناں (جینز کی پیلی پینٹیں) وکھاو¿“، دکاندار حیران ہوا ییلو جینیں تو ہوتی ہی نہیں، سردار جی اُس کی حیرانی بھانپتے ہوئے بولے ”آپاں اک گل یاد رکھنی ایں، جدوں آپاں جیلو کہنا تُساں بلیو ای سمجھنا ایں“، سو مجھے لگا ڈولمن مال میں ملنے والے صاحب کو میں نے اگر بتا بھی دیا میرا نام توفیق بٹ ہے آگے سے اُنہوں نے بھی یہی کہنا ہے ”آپاں اک گل یاد رکھنی ایں، جدوں آپاں صدیق بٹ کہنا تُساں توفیق بٹ ای سمجھنا ایں“، مجھے نہیں معلوم پاکستان میں کتنے لوگوں کے نام توفیق ہیں؟ ایک توفیق بٹ کو میں جانتا ہوں جن کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے، حُسن اتفاق دیکھئے میرے والد کی طرح اُن کے والد کا نام بھی رفیق بٹ ہے، اب پتہ نہیں ہماری تاریخ پیدائش مختلف کیسے ہو گئی؟ میں سوچتا ہوں اُن دنوں ہمارے والدین کا آپس میں کوئی رابطہ یا تعلق ہوتا ہماری تاریخ پیدائش حتیٰ کہ وقت پیدائش بھی باہمی مشاورت سے شاید ایک ہی ہوتا، گوجرانوالہ کے توفیق بٹ بڑے بھولے بھالے انسان ہیں، حالانکہ کسی بٹ کا بھولا بھالا ہونا ایک معجزہ ہے، کچھ نام بڑے غلط ہوتے ہیں جیسے معصوم بٹ یا بھولا بٹ وغیرہ، یا ”شیخ سخی“ وغیرہ، مجھے نہیں معلوم میرے گوجرانوالہ کے بھائی توفیق بٹ کی تعلیم کتنی ہے؟ کوئی بٹ پڑھا لکھا ہو بھی زیادہ سے زیادہ کتنا ہو سکتا ہے؟، توفیق بٹ اگر زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں یہ اچھی بات ہے کیونکہ پاکستان کو جتنا نقصان پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے اُس کا تصور بھی نہیں کر سکتے، توفیق بٹ زیادہ پڑھے لکھے ہوتے ممکن ہے آج کمشنر گوجرانوالہ وغیرہ بن کے گوجرانوالہ کی تباہی میں اپنا پورا حصہ ڈال رہے ہوتے، ہمارے ایک بٹ دوست کمشنر ہوا کرتے تھے، اب ریٹائر ہو گئے ہیں، بڑے اچھے افسر تھے، لوگوں کے بڑے بڑے کام صرف پوری حلوہ یا نان چھولے وغیرہ لے کے کر دیا کرتے تھے، وہی کام آج کل ہمارے کچھ افسران بڑی بڑی رقمیں وصول کر کے بھی نہیں کرتے، آج گوجرانوالہ کے توفیق بٹ کا ذکر مجھے اُن کی ایک خصوصیت کی وجہ سے کرنا پڑا، یہ خصوصیت ہر کشمیری چاہے وہ میر ہو، ڈار ہو، خواجہ ہو، بندہ ہو یا بٹ ہو سب میں ہوتی ہے، یہ خصوصیت ”دلیری“ ہے، ایک خصوصیت بٹوں یا کشمیریوں میں اُن کی خوبصورتی بھی ہے، ایک بار ہماری گلوکارہ نصیبو لعل بیٹوں کی ایک شادی میں اپنا مشہور و معروف گانا ”وے بٹ سوہنیا“ گا رہی تھی، اچانک ایک بپھرے ہوئے بٹ صاحب سٹیج پر چڑھ کے اُسے بُرا بھلا کہنے لگے ”جدوں بٹ ہوندے ای سوہنے نے فیر بٹ دے نال سوہنا کہن دی کی لوڑ اے؟، سوہنا اضافی اے، صرف بٹ ای کافی اے“، گوجرانوالہ کے توفیق بٹ کئی بار رُکن صوبائی اسمبلی بھی رہے، وزیر شاید اس لیے نہیں بنے حد سے زیادہ خوشامدی نہیں ہیں جو وزیر وغیرہ بننے کے لیے آج کل ”اضافی قابلیت“ ہے، اگلے روز میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا اُن کا ایک کلپ دیکھ رہا تھا جس میں ایک اجلاس میں وہ ”تاحیات کمشنر گوجرانوالہ“ کے سامنے شہریوں کے اس وقت سب سے بڑے مسئلے کو بڑے دلیرانہ انداز میں بیان فرما رہے تھے جو ماس ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے پورے شہر کی اُکھاڑ پچھاڑ کا ہے، مستقبل میں اس منصوبے کا شہریوں کو کوئی فائدہ ہو گا یا صرف چند افسران کی ”غُربت“ ہی اس سے دُور ہو گی؟ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے، مگر فی الحال اس منصوبے کی وجہ سے شہر میں ہونے والی توڑ پھوڑ نے شہریوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے، اس اجلاس میں تاحیات کمشنر گوجرانوالہ کے ساتھ ایک واہیات سابق چیف سیکرٹری بھی موجود تھے، میرا خیال تھا ریٹائرمنٹ کے بعد وہ شاید فوت ہو گئے ہوئے ہیں، ہمارے جو افسران اپنی سروس میں سیاسی و اصلی حکمرانوں کو خوش رکھنے کی ہر گھٹیا کوشش کرتے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کسی نہ کسی مراعاتی عہدے پر اُنہیں لگا دیا جاتا ہے، اس ”اضافی بوجھ“ نے بھی معاشی و مالی طور پر مُلک کا کباڑہ کیا ہوا ہے، کبھی ایسے نہیں ہوا کسی شہر کے عوام نے اپنے شہر کے کسی تعمیراتی منصوبے کو رد کیا ہو، گوجرانوالہ کا ماس ٹرانزٹ منصوبہ ایسا بدقسمت اور منحوس منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے پہلے ہی لوگ اسے اس مضبوط مو¿قف کے ساتھ رد کر رہے ہیں کہ اربوں روپے کے اس منصوبے کی گوجرانوالہ کو کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، یہ منصوبہ صرف کچھ سیاسی و مالی مقاصد کے حصول کے لیے شروع کیا گیا ہے، حقیقت کیا ہے؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، مگر گوجرانوالہ کے شہریوں کا اپنی حالیہ تکالیف پر ماتم کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہونا، نہ توفیق بٹ کی چیخ و پُکار کا ہونا ہے، ہمارے حکمرانوں اور اعلیٰ افسروں کے پاس عوام کے مسائل کا واحد حل یہ ہے پہلے جان بوجھ کر عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر کے بعد میں تھوڑی کمی کر دی جائے۔