Wed, September 16, 2026

توڑ پھوڑ کے بغیر پی ٹی آئی کی تحریک آر پار کا انجام؟

توڑ پھوڑ کے بغیر پی ٹی آئی کی تحریک آر پار کا انجام؟

پاکستان تحریک انصاف کے علی امین گنڈہ پور نے90روزہ آر یا پار تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان خود پر ہونے والے ظلم کے باوجود فیصلہ سازوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ فیصلہ ساز چاہیں تو کسی کو ساتھ بٹھا لیں گویا موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اس وقت کی اپوزیشن کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے انہوں نے اپنے 44ماہی دور حکمرانی (2019-22) میں اپنے علاوہ کسی کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی انکاری رہے۔ وہ نوازشریف، شہبازشریف اور آصف علی زرداری سے لے کر مولانا فضل الرحمان اور اچکزئی تک ہر لیڈر کو تضحیک کا نشانہ بناتے رہے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کی عمر کے بلاول بھٹو کو بھی نہیں بخشا۔ اس کی نقلیں بھی اتارتے رہے، تضحیک کرتے رہے، بازاری انداز میں مخاطب کرکے اپنے سامعین سے داد وصول کرتے رہے۔ ان کی انکار اور فساد کی سیاست جاری رہی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ عمران خان نے اپنے مربی و محسن شخصیات کیخلاف بھی دشنام طرازی شروع کی جنہیں باپ کا درجہ دیتے تھے، ان کے خلاف بھی ہو گئے۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد بھی ان کی طبیعت اور سوچ ویسی کی ویسی ہی رہی۔ گالم گلوچ، دشنام و انکار کا وتیرہ جاری رہا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عمران خان اپنے علاوہ حکمران اتحاد کو نہیں مانتے، ان کے دور حکمرانی کی اپوزیشن آج اقتدار میں ہے۔ عمران خان انہیں جائز حکمران تسلیم نہیں کرتے ہیں، انہیں ویسے ہی اپنے انکار اور گفتار کی نوک پر رکھتے ہیں وہی بداخلاقی، وہی ڈھٹائی کا طرز فکر و عمل جاری ہے۔ یہ اسی طرز فکر و عمل کا نتیجہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ان کی رہائی کا سردست کہیں بھی امکان نظر نہیں آ رہا ہے کسی قسم کی ڈیل سے ناامید ہونے کے بعد وہ تحریک چلانے کی منصوبہ سازی بھی کر چکے ہیں۔ یہ آرپار والی اور 5اگست والی تحریک کے علاوہ، متحدہ اپوزیشن کی تحریک چلانے کی کاوشیں بھی ہو چکی ہیں۔ اس حوالے سے مولانا فضل الر حمان کے در پر سجدہ ریزی بھی ہو چکی ہے۔ اچکزئی کو اپنا لیڈر بھی مان چکے ہیں، ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی دیکھ لیا ہے لیکن دال کہیں گلتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ خود اکیلے بھی تحریک انصاف تحریک چلا کر دیکھ چکی ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تحریک انصاف ابھی ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوئی تھی، ابھی پنکی پیرنی کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا، ابھی عمران خان کی بہنوں کی پارٹی امور پر گرفت قائم نہیں ہوئی تھی۔ تحریک انصاف نے تو پنکی پیرنی کی قیادت میں بھی تحریک چلا کر دیکھ لیا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔ اب گنڈہ پور آر یا پار تحریک کی قیادت کرتے نظر آ رہے ہیں وہ بظاہر دبنگ قسم کے جواں نظر آتے ہیں، بڑھکیں لگانا، ہٹو بچو کرنا، مرنا مارنا اور ایسے ہی دیگر امور کی انجام دہی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پارٹی میں انہیں پتہ نہیں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن کے پی میں ان کی مخالفت بھی خوب ہے، کارکردگی کا صفحہ سرخ ہے جبکہ کرپشن کا ریکارڈ ہرا ہرا ہے۔ گروپنگ پائی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی سے باہر گنڈہ پور کو ’’اپنا ہی بندہ‘‘ سمجھا جاتا ہے، 90روزہ تحریک کا انجام کیا ہوگا؟ اسے جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس تحریک کے بارے میں پی ٹی آئی کے صدر جنید اکبر نے جو کہا ہے وہ کافی ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 90دن کا پلان کس نے بنایا، ہمیں نہیں پتہ کہاں سے آیا‘‘۔ گنڈہ پور بظاہر عمران خان کے احکامات کی بجا آوری میں سب کچھ کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی کرنیوں کے نتائج بہتر طور پر نہیں نکل رہے ہیں۔ 5اگست کو جو کچھ ہونا تھا، 5اگست تک جو کچھ کرنا تھا، وہ کہاں گیا؟ اس بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔ عمران خان کو بھی کچھ پتہ نہیں ہے کہ ان کی پارٹی کے لونڈے لپاڑے کیا کر رہے ہیں۔ کس کے کہنے پر کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں۔ رواں مہینے کی 21تاریخ کو سینیٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ ایک اہم واقعہ ہے۔ پارلیمانی نظام حکومت میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ پی ٹی آئی کے لئے تو اس کی اور بھی اہمیت ہے۔ گنڈہ پور کے لئے ایک چیلنج ہے کیونکہ اگر گنڈہ پور اپنے ممبران سے اپنے امیدواران کے حق میں ووٹ نہ ڈلوا سکے تو ان کی وزارت اعلیٰ ختم ہو سکتی ہے۔ ویسے تو 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت بھی پی ٹی آئی کی قیادت اپنے ممبران کو سنبھال نہیں سکی تھی۔ پارٹی قیادت کی واضح ہدایات کے باوجود پی ٹی آئی کے کئی ممبران نے رائے شماری میں حصہ لے کر حکومت کی کامیابی کو یقینی بنایا تھا۔ دیکھتے ہیں 21جولائی کو کیا ہوتا ہے، ویسے پی ٹی آئی کے لئے کسی خیر کی خبر کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔ گنڈہ پور کی بڑھکیں جاری رہیں گی اور حکومت اپنا کام کرتی رہے گی۔ 
حکومت بجٹ 2025-26کے بعد مشکلات کا شکار ہے۔ سرکاری ملازمین اور پنشن یافتہ افراد اس سے خوش نہیں ہیں۔ چلو پنشن یافتہ افراد کی تو حکومت کے آگے چلتی ہی نہیں ہے۔ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے ہیں لیکن لاکھوں سرکاری ملازمین جو کار سرکار چلانے اور چلانے ہی رہنے کے ذمہ دار ہیں ان کی ناراضی کار سرکار میں خلل اور کارکردگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ حکومت کے اپنے بیان کردہ پیمانوں کے مطابق بھی نہیں ہے لیکن حکومت کا اصرار ہے کہ جس قدر گنجائش تھی اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے لیکن اگر پارلیمانی ممبران کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ دیکھیں تو پھر گنجائش کہیں آسمان تک پھیلی محسوس ہوتی ہے بہرحال معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ سرکاری ملازمین ناراض ہیں تو ناراض رہیں، حکومت کچھ بھی کرنے والی نہیں ہے۔ کروڑوں عوام بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ حکومت سے ناراض ہیں تو کیا حکومت نے ان کی مشکلات میں کمی کے لئے کچھ کیا ہے ہاں ایک طبقہ ہے جس کی ناراضی پر حکومت کچھ محسوس کرتی ہے اور وہ ہے تاجر و دکاندار طبقہ ویسے ٹیکس دینے کے معاملات میں وہ حکومت کی پروا نہیں کرتے ہیں وہ لاکھوں روپے ٹیکس اہلکاروں اور ذمہ داران کو دے دیتے ہیں لیکن سرکاری خزانے میں ٹیکس جمع نہیں کرتے ہیں۔ تاجروں نے سرکار کی ٹیکس جمع کرنے کی پالیسی اور بینکوں کے لین دین سے متعلق نئے ضوابط کے خلاف 19جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے حوالے سے تاجران کراچی تا خیبر متحد ہیں۔ حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ وزیراعظم بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خزانہ کمیٹی بنانے اور تاجروں سے بات چیت کرنے کے لئے تلے ہوئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

ٹیگز: