Wed, September 16, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں نئے اتحاد کی دستک؛ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے درمیان 'چار فریقی تعاون' کا حتمی خاکہ تیار

مشرقِ وسطیٰ میں نئے اتحاد کی دستک؛ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے درمیان 'چار فریقی تعاون' کا حتمی خاکہ تیار

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے اور جیو پولیٹیکل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے ایک منظم اور مستقل 'چار فریقی ڈھانچے' کی جانب بڑی پیش رفت کی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ان چاروں ممالک کے حکام نے تعاون کے نئے فریم ورک کے لیے ٹھوس تجاویز کو حتمی شکل دے دی ہے۔

اس نئے گروپ کی تشکیل کے لیے سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی رفتار سے جاری ہیں ۔ وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اجلاس 19 مارچ کو ریاض میں ہوا، جس کے بعد اب اسلام آباد میں ماہرین کی سطح پر مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔انطالیہ ڈپلومیسی فورم: 17 اپریل کو ترکیہ میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ان تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔سفارتی ماہرین کے مطابق یہ اشتراک محض ایک مشاورتی فورم نہیں بلکہ ایک مضبوط بلاک کی صورت اختیار کر رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی تناؤ کے بعد ان چاروں ممالک نے محسوس کیا ہے کہ روایتی سفارت کاری اب کافی نہیں، لہٰذا ایک مربوط علاقائی حکمتِ عملی وقت کی ضرورت ہے۔ اس تعاون کے ڈھانچے کا بنیادی محور تنازعات کی روک تھام، اقتصادی ہم آہنگی، اور توانائی کی سلامتی جیسے کلیدی مسائل پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔
وفود سے ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس تعاون کو "ادارہ جاتی شکل" دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ برادر ممالک کے درمیان یہ قریبی ہم آہنگی خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

ٹیگز: