Wed, September 16, 2026

مصر کی نئی جنگ بندی تجویز، حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

مصر کی نئی جنگ بندی تجویز، حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

قاہرہ: مصر نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے فلسطینی تنظیم حماس کو ایک نئی تجویز دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہ ہتھیار ڈال دیں۔ عرب میڈیا کے مطابق، حماس نے اس شرط پر شدید حیرت اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حماس کے ایک رہنما کے مطابق، مصر نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیل صرف اسی صورت میں جنگ بندی پر تیار ہوگا جب مزاحمتی گروہ غیر مسلح ہو جائیں گے۔ حماس کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ان کے لیے ناقابل قبول ہے، کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کی بنیاد اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ہونا چاہیے۔

مصر کی تجویز میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کا ذکر بھی شامل ہے، جس دوران غزہ میں امدادی سامان جیسے خوراک اور پناہ گاہوں کا سامان داخل کیا جا سکے گا۔ لیکن حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی صرف اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیل اپنی جارحیت روکے۔

یاد رہے کہ مارچ سے اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر پابندی لگا رکھی ہے، جس کے بعد وہاں شدید غذائی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اب تک 50 ہزار سے زائد فلسطینی اس جنگ میں شہید ہو چکے ہیں، جس سے اس بحران کی سنگینی اور فوری حل کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے۔

ٹیگز: