دوستی اور باہمی مفادات کے لیے کسی دوسری ریاست پر اعتماد سے آگے جاکر مکمل انحصار کرلینا سالمیت یا دفاع کی گارنٹی کبھی نہیں ہوتا ۔تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی پیسوں کے عوض اپنا دفاع یا سکیورٹی کا اختیار دوسرے ملک کو دیا موقع آنے پر وہ ملک کبھی وقت پر نہیں آیا۔گزرے ہفتے ہمارے سامنے نیپال اورقطر میں پیش آئے واقعات ہیں۔نیپال میں جوکچھ ہوا اس کے پیچھے وجوہات بہت سی ہوسکتی ہیں ۔ویسے ہمارے انقلابی تو مانتے ہی ان باقی وجوہات کو ہیں کہ نیپال میں بھی پاکستان ایسے ہی حالات تھے بس پھر آگیا انقلاب،ایک بات یاد رہے میری رائے ہے کہ یہ انقلاب نہیں بلوہ ہے۔ایسے تمام واقعات بلوہ ہیں ،ہم بہت جلد دوسروں سے متاثر ہوجاتے ہیں بلکہ دوسروں سے ہی متاثررہتے ہیں اپنے آپ،اپنی ریاست اور حکومت سے تو ہمیشہ شاکی ہی دیکھے گئے ہیں۔
سری لنکا میں لوگوں نے ایوان صدر کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لیں تو ہمیں یہاں بیٹھ کر مزہ آنے لگا کہ بس وہ د ن دور نہیں جب ہم بھی اسی طرح ایوان صدر میں گھس جائیں گے لیکن اس ایک لمحے کو انجوائے کرنے کے بعد کیا ہوا؟ کیا کسی نے مطالعہ کیا کہ سری لنکا میں آئے انقلاب نے ملک کو تبدیل کیا یا اس ملک کا نقصان کیا؟ دوسال تک عبوری معاملات چلانے سے کیا ملک میں کوئی بہتری آئی یا پھر دوسال بعد اسی نظا م کو اسی طرح الیکشن کرواکر دوبارہ واپس لانا پڑا؟ بنگلہ دیش میں تو قیمتی جانیں بھی بہت گئیں وہاں کیا ملک معاشی طورپر آگے بڑھ گیا یا دوسال بعد پھر اسی سوچ بچار میں ہیں سب کہ کس طرح دوبارہ الیکشن کی طرف جایا جائے ؟ اب نیپال میں جو ہوا کیا وہ اس جنریشن زی کے لیے کوئی خوشحالی لائے گا؟کیااب نیپال کی یہ جنریشن زی دودھ میں نہائے گی ؟اتنے نوجوان مرواکر حاصل کیا کیا ؟ اقتدا فوج کے پاس چلا گیا۔ سسٹم سارے کا سارا وہی ہے۔بیوروکریسی جو اصل میں ملک چلاتی ہے خراب یا درست کرتی ہے اس پر کسی کی نظر نہیں جاتی جب بھی انقلاب لانا ہوتا ہے ملک کا وزیراعظم یا صدر عتاب میں آتا ہے ۔ملک سے بھاگ جاتا ہے تو غصے سے پاگل لوگ فتح ڈکلئیر کردیتے ہیں اور جب ہوش آتا ہے تو اپنے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجاچکے ہوتے ہیں۔اس انفراسٹرکچر کی بحالی پر پیسہ لگایاجاتا ہے حالانکہ لڑائی یہی ہوتی ہے کہ غربت ہے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
خیر نیپال میں جب اس ’’انقلاب ‘‘کے نتیجے میں جنریشن زی کو روٹی سستی اور نوکری وافر ملے گی تو بات کریں گے لیکن اصل مدعا یہ ہے کہ نیپال نے برسوں سے خود کو ہندوستان کے سپرد کررکھا تھا۔سکیورٹی سے لے کر دال سبزی اور معیشت کے باقی معاملات تک مکمل انحصار ہندوستان پر۔ ہندوستان سے ہی معاہدے۔ اس ملک کے ساتھ کوئی بارڈر باقاعدہ نہیں۔ آنے جانے کے لیے کوئی ویزہ نہیں ۔ہندوستان نیپال کو اپنی ایک کالونی ہی تو سمجھتا تھا۔جب نیپال نے پوزیشن بدلنا چاہی۔اپنا انحصار ہندوستان سے کم کرکے چین کے ساتھ ہاتھ ملایا تویہی بات ہندوستان کو بہت ناگوار گزری اور پھر ملک کے وہ حالات جن کا کہیں نہ کہیں ذمہ دار خود ہندوستان بھی تھا انہی محرومیوں کو ہوا دے کر جنریشن زی کا سوشل میڈیا بحالی مشن شروع کروادیا گیا ۔مقابلے میں نیپال کے پاس ایسی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی بندوبست ہی نہیں تھا تو آگیا انقلاب۔
دوسری طرف قطر ہے جس کے پاس دولت بہت ہے اس نے بھی دفاعی معاملے میں اپنے سارے انڈے امریکی ٹوکری میں رکھ چھوڑے ہیں۔اپنا پورا ملک امریکی فورس کے حوالے کردیا کہ یہاں چاہو جیسے چاہو رہو ۔اڈے بناؤ جہاز لاؤ اسلحہ رکھو بس ہماری حفاظت کرو اس کے بدلے ہم آپ کا خیال رکھیں گے ۔لیکن ثابت یہی ہوا کہ دوسرے ملک پرحد سے زیاہ نہ معاشی انحصار اچھا۔ اور دفاعی یا سکیورٹی انحصارتو سرا سر گھاٹے کا سودا۔ایران اسرائیل جنگ میں امریکا کے باون بی ون بمبار طیارے امریکا سے اڑکر آئے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے قریب بم گرائے اور واپس ہولیے تو ایران نے کہا کہ امریکی اڈے تو قطر میں ہیں ہم ان پر حملہ کریں گے تو ایران کو فیس سیونگ کا پورا موقع دونوںممالک امریکا اور قطر نے برابر دے دیا ۔لیکن اسرائیل نے کام فیس سیونگ کے لیے تو نہیں کیا ۔نہ ہی قطرنے اسرائیل پرکوئی حملہ کیا تھا اور نہ ہی امریکا فلسطین کی طرف سے لڑرہا ہے تو پھر اسرائیل نے حملہ کیوں کیا اور قطر کے دفاع میں ا مریکا کیوں کھسیانہ ہوا بیٹھا ہے اور سب سے بڑا سوال کہ قطر کے پا س آپشن کیا ہے؟
قطر جی سی سی کا بہت ہی اہم ملک ہے اور سعودی عرب کے عرب ممالک کے جن دوملکوں سے سب سے زیادہ اچھے تعلقات ہیں ان میں قطر پہلے نمبر پر ہے ۔قطر کے جواب کا مطلب ہے کہ سعودی عرب بھی الگ نہیں رہ سکتا اور اگر سعودی عرب اسرائیل پر حملے میں ساتھ جائے گا تو عرب امارات بھی کیسے پیچھے رہ سکتا ہے؟پھر ایسی صورت میں قطر تو خود پہلے ہی امریکی نرغے میں ہے کہ پورے ملک میں امریکا ہی کے تو فوجی اڈے ہیں ایسے میں یہ تو ہونے سے رہا کہ امریکا اسرائیل کیخلاف ہوجائے اور قطر کا ساتھ دے یا مکمل خاموش رہے؟ اسرائیلی حملے پر امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام بیانات مکمل ڈرامہ اور جھوٹ ہیں۔اس لیے کوئی جوابی حملہ تو مشکل ہے ایسا کرنے سے ایک اور عرب اسرائیل جنگ لگے گی جو اس وقت کوئی بھی عرب ملک نہیں کرنا نہیں چاہتا۔لیکن لگتا یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جلد یا بدیر یہ جنگ اسلامی ممالک کو لڑنی تو پڑے گی ۔
اب پھر حل کیا ہے آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے ۔جو راستہ مجھے نظر آتا ہے وہ ہے کہ قطر ہو یا کوئی دوسراعرب یا سلامی ملک اپنا دفاعی انحصار امریکا اور مغرب سے ختم کرکے اسلامی ممالک نیٹو کی طرز پر ایک فوج کھڑی کرلیں ۔اسلامی اتحاد بنائیں اور جس طرح نیٹو کام کرتی ہے اسی طرح یہ فوج کام کرے ۔معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔ پاکستان کے پاس مضبوط فوج تربیت کا بہترین نظام اور جنگی حکمت ہے اور قطر سمیت عرب ممالک کے پاس مضبوط معیشت ہے یہ دونوں کو آپس میں بانٹنا ہوگا ۔عرب پاکستان کی معیشت سنبھالے اور پاکستان عربوںکا دفاع ۔اس میں ترکیہ کو بھی شامل رکھیں بلکہ تمام اسلامی ممالک اس اسلامی دفاعی فورس کا حصہ ہوں ۔فوری طورپر یہ فورس اسرائیل سے جنگ نہ بھی کرے پھر بھی ایک دفاعی میکنزم موجود ہو تاکہ ایسے گماشتے اسلامی ممالک پر حملے سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ جواب میں کیا ملے گا۔
دوسرا قطر ہو یا سعودی عرب ،یا پھر متحدہ عرب امارات ہوں ان تمام ممالک کے شاہی خاندانوں کی امریکا میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہے اسرائیل کی قطر پر اس جارحیت کے احتجا ج میں یہ ممالک اپنی سرمایہ کاری میں واضح کمی کا اعلان کردیں تاکہ امریکا کو بھی احساس ہو کہ جن اقوام کو وہ بے وقوف بنارہا ہے ان کو سب خبر ہے کہ کہ ان کے ساتھ آپ نے کیا کیا ہے کیونکہ کوئی بھی یہ ماننے کو تیا ر نہیں ہے کہ اسرائیل نے جو کیا اس کا امریکا کو پتہ نہیں تھا یا اسرائیل امریکا کے کہنے سے باہر ہوگیا ہے ۔کیا عرب یہ کرسکتے ہیں ؟ یہی اصل امتحان ہے۔