اسلام آباد: سینیٹ کا اجلاس آج منعقد ہوگا جس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ایوانِ بالا میں آرمی ایکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترامیم کے بل بھی پیش کریں گے۔ اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کریں گے۔
تمام متعلقہ بلز گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور ہو چکے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
نئے آرمی ایکٹ کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی چیف کو ’’چیف آف ڈیفنس فورسز‘‘ کے طور پر نیا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، جس سے ان کی مدتِ ملازمت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ بل میں یہ بھی شامل ہے کہ آرمی چیف فوج کے تمام شعبوں کی ازسرِنو تنظیم اور انضمام کی ذمہ داری سنبھالیں گے، جبکہ وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر کریں گے۔ اس عہدے کی مدت تین سال ہوگی جس میں ایک بار مزید تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔
ترمیم کے مطابق 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا، جسے ملک کی عسکری ساخت میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔