Wed, September 16, 2026

آرمی ایکٹ میں سویلینز کا ذکر نہ ہونے پر سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

آرمی ایکٹ میں سویلینز کا ذکر نہ ہونے پر سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آرمی ایکٹ میں سویلینز کو شامل کرنا ہوتا، تو اس کا واضح ذکر کیا جاتا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آرمی ایکٹ خاص طور پر فوجیوں کے لیے ہے، اور سویلینز کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ 1973 کا آئین مضبوط اور مکمل دستاویز ہے، جو فوجی قوانین کے آئینی حیثیت کو طے کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملٹری قانون آئین سے متصادم ہو سکتا ہے، تاہم، آئین میں فوجی عدالتوں کے بارے میں مخصوص ہدایات موجود ہیں۔

وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کورٹ مارشل آئینی طور پر تسلیم شدہ ہے، اور یہ صرف جنگ کے دوران نہیں بلکہ امن کے وقت بھی نافذ ہو سکتا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 28 اپریل کو مقرر کر دی، جہاں اٹارنی جنرل اپنے دلائل پیش کریں گے۔

ٹیگز: