انھیں سنتے ہوئے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ ہم نے زبان کی جمالیات پر اتنا کام نہیں کیا جتنا حق اردو ہم پر رکھتی تھی۔ نستعلیق گو شخصیت کی مالک، بات کرتیں تو ایک ایک لفظ اپنی داد وصول کیے بغیر نہ رہتا تھا۔ لہجہ دھیما مگر جان دار، ٹھہراؤ بڑے رکھ رکھاؤ کے ساتھ ظاہر ہوتا تھا۔ اردو سے انھیں سچی محبت تھی۔ ہم نے اکثر جامعات کی تقریبات میں یا کبھی کسی کانووکیشن میں انھیں بات کرتے دیکھا تو اردو ہی میں۔ بات کی تازگی ہمیشہ برقرار رہتی تھی۔ بوسیدہ اور رگیدی ہوئی باتیں کرنے والوں کے درمیان ایسی تازہ گفتگو کہاں سننے کو ملتی ہے۔ ان سے پہلی ملاقات اتفاقاً ہوئی تھی۔ عورت مارچ کا غلغلہ تھا۔ میں اپنے دوست فیصل کے ہمراہ الحمرا پہنچا تو عارفہ سیدہ سے ملاقات ہوئی۔ بلڈنگ کے باہر سیڑھیوں پر وہ چند خواتین ان کے ہمراہ بیٹھی تھیں جنھوں نے کچھ پوسٹرز ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے۔ میں نے سلام کیا انھوں نے بڑی نفاست سے جواب دیا پھر کچھ باتیں ہوئی اور میں اپنے دوست کے ہمراہ کیفیٹریا نکل پڑا۔ میرے دوست کے لیے ان کی موجودگی باعث حیرت تھی۔ اس نے چائے پیتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ عام لوگوں سے بہت مختلف ہیں۔ وہ جو جانتی اور سمجھتی ہیں اپنے دل کی گہرائی سے اس کا عملاً اظہار کرتی ہیں۔ ان کی صداقت ہمیشہ ان کے لہجے سے جھلکتی تھی۔ مجھے یہ باتیں لکھتے ہوئے گلزار کی نظم یاد آ گئی۔
مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر
کہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہے
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔
نشہ آتا ہے اردو بولنے میں
گلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیں
لطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہے
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ہم ڈاکٹر صاحبہ کو بہت سے اداروں میں اپنی کوشش کے باوجود دعوت نہ دے سکے۔ شاید بہت سے لوگ ان کی بے باک اور تخلیقی توانائی سے بھرپور گفتگو کی تاب نہیں لا سکتے تھے۔
نیکی کے روایتی تصور سے بھرے ہوئے لوگ غیر روایتی باتوں کا برا مانتے ہیں۔ عارفہ سیدہ غیر روایتی طور پر روایت پسند تھیں۔ انھوں نے اپنے کلچر سے محبت کی لیکن یہ محبت جذباتی نعروں اور کلچر کے تحفظ کے نام پر ظہور نہیں پاتی تھی بلکہ ان کے ہاں کلچر تعلیم کا اور تخلیق کا استعارہ بن کر نمودار ہوتا ہے۔ وہ تہذیب کی بازیافت سے نئے دور کے رموز کو شناخت دیتی رہیں اور تسخیر کی تمام صورتوں کو اپنے نظریے سے قبول یا مسترد کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ امن کیا ہے اور تہذیب کا علم سے کیا رشتہ ہے، یہ ہم انھی سے سمجھتے تھے۔
ایسے لوگ کہاں ملتے ہیں جو ہر ملاقات میں فکر کے نئے در وا کر دیں۔ ہمیں تو رٹی رٹائی اور گھسی پٹی باتیں کرنے والوں نے سب سے زیادہ اذیت دی ہے۔ اس معاشرے کے جمود کا سبب ایک جیسی، بے کار گھسی پٹی باتیں کرنے والے دماغ ہیں جو اعلیٰ سطح کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی کوئی ایک نئی بات کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے سماج میں فکری ارتقا کا سوال بھی کیسے پیدا ہو سکتا ہے جہاں بیسں بائیس سال نصاب میں ایک ہی طرح سوچنے اور ایک ہی طرح کی باتیں کرنے کی عادت ڈالی جاتی ہو۔ ہر سال ہر موقع پر ایک جیسی باتیں دہرائی جاتی ہوں۔ خوشی اور غم میں بھی رٹے رٹائے فقروں سے گزارا کیا جاتا ہو اور ہر محفل یا تقریب کی سب سے بڑی اور اہم سرگرمی روٹی سالن ہو۔
ہم ایسے معاشرے میں عارفہ سیدہ کو دیکھتے اور سنتے رہے۔ اور یہ سمجھتے رہے کہ آپ روایت کے حسن کو اپنانے کے ساتھ کتنے جدید ہو سکتے ہیں اور خود کو عام تصور کرتے ہوئے کتنے خاص اور مختلف ہو سکتے ہیں۔
عارفہ سیدہ کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ علم کو محض نصابی حدود میں قید نہیں کرتی تھیں۔ وہ اسے زندگی کے تناظر میں دیکھتی رہیں۔ ان کی گفتگو میں معاشرتی شعور کی ایک لہر دوڑتی نظر آتی تھی۔ وہ سماج کے تضادات پر بات کرتی رہیں مگر تلخی کے بغیر۔ وہ اصلاح کی بات کرتی رہیں مگر وعظ کے انداز میں نہیں بلکہ محبت کے پیرائے میں۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کا حصول نہیں بلکہ انسان کو انسان بنانے کا عمل ہے۔
ان کے علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کی شائستگی بھی اْنہیں ممتاز بناتی ہے۔ وہ اپنے خیالات کا اظہار اعتماد کے ساتھ کرتی تھیں مگر احترام کے دائرے سے باہر نہیں جاتی تھیں اگر آپ نفاست پسند ہیں تو ڈاکٹر عارفہ کی گفتگو سنیے ان کے لہجے میں نرم دلی اور استدلال کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انھیں ایک ایسی دانشور بناتے ہیں جس کی بات صرف سنی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔عارفہ سیدہ در اصل اْس نسل کی نمائندہ ہیں جو علم کو ذمہ داری سمجھتی ہے، شہرت کو نھیں۔ انھوں نے اپنے کردار اور کام سے یہ ثابت کیا ہے کہ فکری وقار اور اخلاقی بلندی کسی بھی دور میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکتی ہے۔ آج جب شور اور سطحیت نے گہرے فکر و مطالعے کی جگہ لینا شروع کر دی ہے، وہاں عارفہ سیدہ جیسی شخصیت کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی۔وہ یاد دلاتی رہیں کہ علم اگر کردار سے جڑا ہو تو معاشرہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔