یہ کالم اس فکری گمراہی، فتنہ پروری اور خونی سازش کے متعلق ہے جس نے آج پاکستان کی قومی سلامتی اور اس کی متفقہ اسلامی شناخت کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ جس گروہ کو عرف عام میں "فاک" (FAK) یعنی فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت اسلامی تاریخ کے اس قدیم ترین فتنہ، "خوارج" کا ایک جدید، سفاک اور مکروہ عکس ہے، جو ہر دور میں مسلمانوں کی صفوں میں انتشار، تکفیر اور قتل و غارت گری کا موجب بنا ہے۔
خوارج کا فتنہ اپنی اصل میں یہ ہے کہ وہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے سے بغاوت کرتے ہیں، مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر، انسانی جان کی حرمت کو پامال کرنے کو عین 'دین' سمجھتے ہیں۔ ہمارے پاکستان میں سرگرم یہ دہشت گرد عناصر بعینہ یہی فلسفہ اپنائے ہوئے ہیں۔
جیسا کہ حالیہ سانحات کی گواہی ہے، کرم کے جو درہ خارکی گاوں میں ایک بے قصور گھر پر مارٹر گولے داغنے کا عمل، جس نے ایک جان لے لی اور دوسرا فرد زخمی ہوا، یہ محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہے؛ یہ معصوم شہریوں پر اعلانِ جنگ ہے! خیبر پختونخوا میں آئی ای ڈیز اور خودکش دھماکوں کے ذریعے نہتی جانوں کی ہلاکتوں کا تسلسل دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر اور اخلاقی حدود سے مکمل طور پر منحرف ہو چکا ہے۔ ان کی وراثت میں صرف ظلم، بے رحمی اور خون آشامی ہے، جو اسلامی شریعت کی ہر کسوٹی پر مردود ہے۔
کرم، وزیرستان، یا باجوڑ میں ہونے والے حملے جہاں بچوں، عورتوں، اور نمازیوں کو شہید کیا گیا یہ سب اسی فتنے کی جدید شکل ہیں۔ فتنہ خوارج آج FAK جیسے دہشتگرد گروہوں میں مجسم نظر آتا ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ قتل اور تباہی دین کی خدمت ہے، مگر قرآن کہتا ہے:
جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔( سورہ المائدہ: 32)
یہ خوارج دراصل اسلام کے دشمنوں کے آلہ کار ہیں۔ انہیں مالی مدد، اسلحہ، اور نظریاتی تربیت بیرونی قوتوں سے ملتی ہے۔ وہ جہاد کے نام پر فتنہ پھیلاتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے۔ ان کی اصل خدمت دراصل کفار کے ایجنڈے کی تکمیل ہے نہ کہ دین کی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ آج کے یہ خوارج بھی اسی گمراہی کا شکار ہیں؛ ان کی ہر کارروائی غارت گری کی عکاس ہے، جس کا مقصد مذہبی تقدس کی آڑ میں اپنی جبری بالادستی قائم کرنا ہے۔ یہ ہر طبقے کو نشانہ بناتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک صرف وہ خود 'حق' پر ہیں اور باقی سب 'باطل'۔
اس فتنے نے خاص طور پر پشتونولی (Pashtunwali) کی اعلیٰ روایات کو نشانہ بنایا ہے۔ پشتون معاشرت کی بنیادی اکائی، جِرگہ (قبائلی پنچائت)، امن، مشاورت اور انصاف کی علامت رہا ہے۔ یہ دہشت گرد ان جِرگوں کو، اور قبائلی بزرگوں کو، جو حکمت اور اتحاد کے ستون ہیں، لہو لہان کرتے ہیں تاکہ پشتونوں کی تاریخی یکجہتی کو پارہ پارہ کر سکیں۔ مگر انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پشتونوں کا عزم اور ان کی روایات کا جذبہ ان کی دہشت گردی کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرا اور مضبوط ہے، آپسی اختلاف اپنی جگہ مگر جب بات پاکستان کی آئے تو پختون بھائی سیسہ پلائی دیوار بن کر سامنے آئے۔
فتنہ الخوارج کی یہ کارروائیاں صرف مقامی سطح کی نہیں ہیں۔ یہ ایک بڑے کھیل کا حصہ ہیں، جس کے تانے بانے غیر ملکی طاقتوں اور خفیہ ایجنسیوں سے جڑے ہیں۔ ان کی دہشت گردی کا ایندھن نہ ایمان ہے نہ عقیدہ، بلکہ بیرونی مالیاتی پشت پناہی اور اقتدار کی ہوس ہے۔ مساجد، تعلیمی ادارے، معاشی مراکز اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد واضح ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، ترقی کی رفتار کو سست کرنا اور قومی وحدت کو تار تار کرنا۔ ان کا عمل کسی بھی طرح اسلامی جہاد کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ خالصتا فساد فی الارض (زمین پر فساد پھیلانا) ہے، جس کی سزا اسلامی شریعت میں سخت ترین ہے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستانی قوم، ریاستی ادارے، اور مسلح افواج نے اس عصرِ حاضر کے خوارج کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف بندوق کی جنگ نہیں، بلکہ بیانیے اور نظریے کی جنگ ہے۔ پاکستان کا اسلامی بیانیہ، جو اعتدال، رواداری اور حب الوطنی پر مبنی ہے، وہ اس خوارجی فکر کے باطل عقیدے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور پائیدار ہے۔
ہماری افواج کی قربانیاں، ہمارے عوام کا صبر اور قبائلی علاقوں کے لوگوں کا دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا، یہ سب ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے مستقبل کی خود محافظ ہے۔
یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم قومی سطح پر اپنی صفوں میں مکمل اتحاد رکھیں، بیرونی سازشوں اور اندرونی فتنہ پروری کو مسترد کریں، اور ان تمام عناصر کے خلاف سیاسی، عسکری اور نظریاتی جنگ جاری رکھیں جو پاکستان کے آئین، اس کی سلامتی اور اس کے عوام کے امن کے خلاف ہیں۔
پاکستان آج فتنہ الخوارج کے آخری حملے کا سامنا کر رہا ہے۔ ہماری بقا اس بات میں ہے کہ ہم اس باطل عقیدے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ ہماری کامیابی صرف ان دہشت گردوں کے خاتمے میں نہیں، بلکہ یہ بات یقینی بنانے میں ہے کہ ان کا گمراہ کن نظریہ کسی نوجوان کے ذہن میں دوبارہ پنپنے نہ پائے۔ پاکستان کا مستقبل، رواداری، امن اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر ہی قائم ہو گا، نہ کہ خوارجی دہشت گردی اور تکفیر کی بنیاد پر۔