Wed, September 16, 2026

فاتح قوم زندہ آباد

فاتح قوم زندہ آباد

جس طرح اپنے گزشتہ کالم ( جنگ جب لازم ہو جائے) میں عرض کیا تھا کہ اہل نظر فرماتے ہیں کہ قدرت اپنا پروگرام تبدیل نہ کر لے تو پاکستان کو کسی بڑی جنگ میں جاتا نہیں دیکھ رہے ان کے ساتھ میرا تعلق گزشتہ بیس سال سے ہے اب تک انہوں نے جتنی پشین گوئیاں کی ہیں ان میں سے زیادہ تر سچ ثابت ہوئی ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ جس طرح ایک عظیم فاتح قوم کی حیثیت سے پاکستان نے جنگ بندی کی ہے اس سے بڑی عزت افزائی اور کیا ہو سکتی ہے سب سے پہلے اللہ کریم کا لاکھ شکر ہوا کہ ہمیں اس عزت سے نوازا اور اس کے ساتھ افواج پاکستان کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے جرأت مندانہ طریقے سے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیئے اب اللہ کرے کہ ہندوستان بھی اس جنگ بندی معاہدے پر قائم رہے چونکہ ہمارا دشمن انتہائی غلیظ اور مکار ہے اس سے کسی بھی اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن جب بھی ہندوستان کوئی حماقت کرنے کی جسارت کرے گا تو اسے اتنا ہی شدت سے جواب دیا جائے گا ۔
جس طرح پاکستان نے فرانس کے رافیل اسرائیل کے ڈرون اور روس کے ڈیفنس سسٹم کا خانہ خراب کیا ہے یقینا یہ لوگ اب ہندوستان کو کوس رہے ہوں گے اور اس دن کو پچھتا رہے ہوں گے جس دن انہوں نے یہ مشینیں ہندوستان کے حوالے کی تھیں اللہ کریم کی کرم نوازی سے پاکستان صرف تین گھنٹوں میں تین بڑے ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوا سب سے پہلے دنیا کا پہلا ملک بن گیا جنہوں نے دور حاضر کی جدید ترین ففتھ جنریشن مشین رافیل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا دوسرا ریکارڈ پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے اسرائیلی ڈرون تباہ کیے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے روسی ساختہ جدید ترین ڈیفنس سسٹم ایس 400 کو تباہ کیا جس کو نیٹو کے ترقی یافتہ ترین ممالک مل کر بھی یوکرین جنگ میں شکست نہیں دے سکے ۔
اس جیت اور کامیابی کے جشن میں ان تین افراد کو خراج تحسین پیش نہ کرنا صحافتی ناانصافی سمجھتا ہوں سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد رکھی پھر سلام پیش کرتا ہوں جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو جنہوں نے وطن عزیز کو ایٹمی طاقت بنایا پھر سلام پیش کرتا ہوں جناب میاں محمد نواز شریف کو جنہوں نے ایٹمی دھماکے کر کے وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا اور اس کے ساتھ ضروری ہے کہ پوری قوم سلام پیش کرے چین، ترکیہ، بنگلہ دیش، آذربائیجان ایران ،سعودی عرب کے حکمرانوں اور عوام کو جو ہر پل ہمارے ساتھ رہے ہمیں مکمل سپورٹ دی اللہ کریم انہیں رہتی دنیا تک سلامت اور قائم و دائم رکھے۔
اس چند روزہ جنگ میں مودی صاحب پاکستان کو بڑا جانی اور مالی نقصان پہنچانا چاہ رہے تھے تاکہ وہ ستائیس مئی کو ہونے والی آر ایس ایس کی سو سالہ تقریبات میں سر پر تاج سجائے دو تلواریں لٹکائے ایک فاتح سلطان کی طرح شرکت کریں اور اپنی تقریب میں مکے لہرا لہرا کر اپنی قوم کو بتائے کہ میں نے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا لیکن اس کی قسمت میں یہ تقریر نہیں تھی اب اگر یہ تقریب میں شرکت کرتا ہے تو ایک شکست خوردہ لیڈر کی حیثیت سے کرے گا اور اس کے پاس اپنے عوام کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوگی کیونکہ ہندوستانی عوام آر ایس ایس اور فوج کے سخت خلاف ہو چکے ہیں ۔
پاکستان کی طرف سے کیے گئے اس اپریشن نے تین گھنٹوں میں جس طرح ہندوستان کو دھول چٹوائی جس طرح ہمارے شاہینوں نے ہندوستان میں تباہی اور بربادی کی جو داستانیں رقم کی ہیں ہندوستان ہندو تواء اور ان کی فوج کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ
 تختہ و تخت میں سے ایک چنا کرتے ہیں 
ہم عجب شان سے دنیا میں جیا کرتے ہیں
 ہم کو اس وقت سے ملتا ہے شہادت کا سبق 
ماں کی گود میں جب دودھ پیا کرتے ہیں 
ہمارے شاہینوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ کریم کی کرم نوازی شامل حال ہو تو میرے شیر دل جوان اپنے سے دس گنا بڑے ملک دنیا کی پانچویں بڑی معیشت جو سمجھتے تھے کہ ہم دنیا میں ٹیکنالوجی، ڈیفنس، جدید فضائیہ اور جدید ترین میزائل سسٹم کے مالک ہیں تین گھنٹوں کی اس کارروائی میں ذلیل و خوار ہو گئے جو پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے خواب دیکھ رہے تھے انہیں بارود کی بارش میں نہلا دیا اور ان شاء اللہ جب بھی یہ وطن عزیز کے خلاف کارروائی کرنے کا سوچیں گے انہیں ایسے ہی عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا انہوں نے اپنی نااہلی کی وجہ سے جو نقصان روس، اسرائیل اور فرانس کو پہنچایا ہے وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں ان چند دنوں میں رافیل کی شیئر مارکیٹ بری طرح گر چکی ہے انہیں چاہیے کہ اگر یہ اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر پچاس رافیل پاکستان کو تحفے کے طور پر بھیج دیں اور پھر دنیا کو بتا دیں کہ ہماری مشینوں کا قصور نہیں تھا انہیں چلانے والے نا اہل اور ناکارہ لوگ تھے اسی طرح پاکستان پہلے ہی ڈرون ٹیکنالوجی میں دنیا میں ایک بڑا مقام رکھتا ہے اب اسرائیلی ٹیکنالوجی ان کے ہاتھ آ گئی ہے اب اگر اس میں کچھ ضروری تبدیلیاں کر کے اسرائیل جو ڈرون دنیا کو دس ہزار ڈالر میں فروخت کر رہا ہے پاکستان مقامی سطح پر تیار کر کے دنیا کو دو تین ہزار ڈالر میں فروخت کرنا شروع کر دے تو ایک بڑی مارکیٹ کو ٹارگٹ کر سکتا ہے ۔
بہرحال جنگ جیسی بھی ہو بہت بری چیز ہے کبھی جنگ کی خواہش نہ کریں لیکن اگر کوئی گھر پر حملہ آور ہو جائے تو اسے واپس نہ جانے دیں اب جتنی بری ہندوستان کے ساتھ ہو گئی ہے امید ہے کہ آئندہ پانچ چھ سال سکون کے مل جائیں گے اور یہ پاکستان کے پاس اپنی معیشت کو بہتر کرنے کا گولڈن ٹائم ہوگا۔

ٹیگز: