Wed, September 16, 2026

ہم زندہ قوم ہیں

ہم زندہ قوم ہیں

پہلگام حملہ کو بہانہ بنا کر بھارت نے پاکستان کی پرامن رہنے کی پالیسی کے باوجود ہم پر جنگ مسلط کر دی تا ہم پاک فوج کے جری جوانوں اور افسروں نے بھارت کی ہر جارحیت کا نہ صرف دندان شکن جواب دیا بلکہ میزائلوں کے تابڑ توڑ جوابی حملوں سے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ،نتیجے میں بھارت کھسیانی بلی بن کر کھمبا نوچنے لگا اور آخر کار امریکہ اور سعودیہ سمیت جیسے باہمی دوست ممالک کی کوششوں سے سیز فائر ہو گیا ، پاکستان بھی دوست ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کیلئے مشروط راضی ہوا مگر ثالثی قوتوں پر واضح کر دیا کہ وہ بھی جنگ نہیں چاہتاپہل بھارت نے کی ہم نے صرف جواب دیا،اب بھی اگر بھارت کی طرف سے کوئی جارحیت ہوئی تو پاکستان اپنے دفاع میں ہر ممکن حد تک کوشش برئے کار لائے گا۔
بھارت نے اندرونی سیاست میں مفادات کیلئے ہمیشہ پاکستان کیخلاف جنگ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا،یہ الگ بات کہ بھارت کو کبھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی نہیں ملی،مگر 71میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر بھارت اندرون خانہ سازشوں اور قوم کی تقسیم کے باعث پاکستان کو زک پہنچانے میں کامیاب رہا،قوم مجتمع اور متحد ہو کر پاک فوج کی پشت پناہی کرتی تو ممکن نہ تھا کہ ملک دو لخت ہوتا،آج بھی کچھ عناصر ارض مقدس اور پاک فوج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ناپسندیدہ پوسٹس کے ذریعے قوم کو تقسیم کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں مگر اللہ رب العزت کی کرم نوازی سے قوم کی غالب اکثریت پاک فوج کی پشت پر ہے اور بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی حامی ہے۔
بھارتی جارحیت کے بعد قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی،آپسی اختلافات کو تج کر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی،یہ زندہ قوم ہونے کا ثبوت ہے،نتیجے میں پاک فوج قوم کی توقعات پر پورا اتری اور بھارت کو ہر میدان میں خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا،بھارتی حملوں کے جواب میں پاک فضائیہ نے ملک کی زمینی اور فضائی سرحدوں کی حفاظت میں پوری ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، امریکی ساختہ رافیل سمیت پانچ لڑاکا طیارے اور 77ڈرون تباہ کر کے 6 مئی کورات گئے کئے جانے والے بھارت کے بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیا، بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل سمیت 5 جنگی طیارے مارے گرائے جبکہ ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کیا گیا، 8 مئی کو بھارت نے جدید اسرائیلی ڈرونز سے دراندازی کی کوشش کی تاہم پاک فوج نے بے شمار ڈرون مار گرائے۔
پہلگام واقعہ کی آڑ میں بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر بزدلانہ حملہ کر کیا جس کے نتیجے میں 8 پاکستانی شہری شہید اور 35 زخمی جبکہ 2 لاپتہ ہیں،پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے 6 مقامات پر 24 حملے کئے گئے ،احمد پور شرقیہ میں مسجد سبحان کو نشانہ بنایا، اس حملے میں 3 سال کی بچی سمیت 5 افراد شہید اور 31 زخمی ہوئے، مظفرآباد میں شاہی والی محلہ میں مسجد بلال کو نشانہ بنایا گیا جس میں مسجد شہید ہوئی اور بچی زخمی ہوئی جبکہ کوٹلی میں مسجد عباس کو نشانہ بنایا گیا،ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ مریدکے میں مسجد ام القریٰ کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک شہری شہید اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ سیالکوٹ اور شکر گڑھ میں بھی حملے کئے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بزدل دشمن بھارت نے احمد شرقیہ، کوٹلی اور مظفر آباد ،مرید کے میں مساجد کو نشانہ بنایا،انہوں نے بھارت پر واضح کیا کہ پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر اس گھناؤنی اشتعال انگیزی کا جواب دیگا۔
بھارتی حکومت نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بزدلانہ حملے کی تصدیق کی اور کہا کچھ دیر قبل بھارتی مسلح افواج نے آپریشن ’’سیندور‘ ‘کا آغاز کیا اور پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا اس نے الزام عائد کیا ہے کہ انہی مقامات سے بھارت کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایت جاری کی گئی تھی،بھارتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے اقدامات مرکوز، نپے تلے اور غیر جارحانہ تھے ، کسی بھی پاکستانی فوجی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا،بھارت نے اہداف کے انتخاب اور عملدرآمد کے طریقہ کار میں کافی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے،پاک مسلح افواج نے بھارتی حملہ آروں کو زمین چٹواکر ان کی مانگ میں مٹی کا ’’سیندور‘‘ بھرا،اور بھارتی افواج کو اپنی مانگ تلاش کرنا مشکل ہو گئی۔
پاک بھارت کشیدگی میں چین کا رویہ دوستانہ ہے اور وہ ہر ممکن تکنیکی امداد فراہم کر رہا ہے،چینی ساختہ طیاروں نے بھی اس جنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،امریکہ نے اس جھنجھٹ میں مداخلت سے بظاہر انکار کیا اور اسے دونوں ممالک کا اندرونی معاملہ قرار دیکر پلہ جھاڑ لیا لیکن جنگ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امریکی حکام دونوں ممالک کی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے،سودی عرب بھی جنگ بندی کیلئے مسلسل کوشش کرتا رہا،البتہ برطانیہ نے دونوں ملکوں کو ثالثی کی پیشکش کی،اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی ذمہ دار بھی عالمی طاقتیں ہیں جنہوں نے دانستہ طور پر ان ممالک کے درمیان سلگتے مسائل سے نظریں چرائیںجس کے نتیجے میںدونوں ملکوں میں چار باقاعدہ جنگیں ہو چکی ہیں اور اب روایتی نہیں بلکہ دو ایٹمی ممالک میں ٹکرائو ہے،برطانیہ اگر تقسیم ہند کے فوری بعد کشمیر کا مسئلہ حل کرا دیتا جو اس کی اخلاقی ہی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بھی تھی تو پاکستان اور بھارت دو پر امن ہمسائے ہوتے،71ء کی جنگ میں امریکہ کا چھٹا بحری بیڑہ بر وقت پہنچ جاتا تو اتنی خوں ریزی ہوتی نہ ملک دو لخت ہوتا،مگر عالمی طاقتوں کی غیر جانبداری نے بھارت کے مذموم عزائم کو ہوادی اور وہ ابتداء سے ہی پاکستان کی سلامتی کے در پے رہا۔
76ء سال بعد بھی بھارت نے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا،وہ معاہدہ بھی برتر حیثیت میں کرنا چاہتا ہے،خطے میں بھارت کو غنڈہ بنانے کا خواب جواہر لال نہرو نے دیکھا تھا،اس کی بیٹی اندرا گاندھی نے پاکستان کو دولخت کر کے بڑے فخر سے کہا آج ہم نے دو قومی نظریہ بحر ہند میں بہاد یا،یعنی قائد اعظم نے ہندو مسلم دو قوموں کا جو نظریہ پیش کیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا اور مسلمانوں کو ہندوستان میں شناخت ملی تھی اس نظریہ کواس نے باطل قرار دیدیا،مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا مگر بعد میں کچھ نادانوں نے اسے مسلمانوں کی ریاست ثابت کرنے کی کوشش کی،جس سے ملک میں شیرازہ بندی ہونے لگی،اور اتفاق میں نفاق آنے لگا،جنگ اگر چہ تباہی و بربادی لاتی ہے مگر بعض اوقات جنگیں کسی قوم کی وحدت کا سبب بھی بنتی ہیں، حالیہ بھارتی جارحیت نے ثابت کیاکہ ارض پاکستان کے باسی دراصل متحد و مجتمع ہیں، ہرپاکستانی خواہ اس کا تعلق کسی صوبے،زبان،رنگ ،نسل سے ہے خالص پاکستانی بن کر پاک فوج کا پشتیبان بن گیا،نتیجے میں بھارت کو جنگ بندی کیلئے گھٹنے ٹیکنا پڑے، بھارتی مانگ کا ’’سیندور‘‘ خاک میں بکھر کررہ گیا،پاکستان پائندہ باد،پاک فوج زندہ باد۔

ٹیگز: