گزشتہ چند ہفتوں کے دوران گرمی نے جس طرح اپنا زور دکھایا ہے اس کے اثرات تو ہر پاکستانی نے محسوس کیے ہی ہوں گے۔ صبح سورج نکلتے ہی یوں لگتا تھا جیسے کسی نے آگ کا الا¶ روشن کر دیاہے۔ دوپہر کے وقت گلیاں سنسان ہو جاتی تھیں، سڑکیں تپنے لگتی تھیں اور گھروں کے اندر بھی سکون نہیں ملتا تھا۔ پنکھے گرم ہوا پھینکنے لگتے تھے، اے سی فیل ہو جاتے تھے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ الگ سے اپنا کردار ادا کرتی تھی۔
اس صورتحال سے نمنٹنے کا واحد اور سستا حل یہ ہے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں لیکن افسوس کہ پنجاب حکومت کے علاوہ کسی بھی صوبائی یا وفاقی حکومت میں شجر کاری کے حوالہ سے وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ جس کی ضرورت ہے۔
لوگوں کو مشورہ یا کوئی بھاشن دینے سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ میں کئی سالوں سے سال کم از کم دو مرتبہ بیس درخت ضرور لگاتا ہوں۔ میںایسا کسی تعریف سمیٹنے یا داد وصول کرنے کے لیے نہیں کرتا بلکہ اس احساس کے تحت کہ انسان کو اپنی زمین، اپنے ماحول اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کم از کم اتنا تو ضرور کرنا چاہیے۔ جب میں اپنے لگائے ہوئے درختوں کے پاس سے گزرتا ہوں اور انہیں بڑا ہوتا دیکھتا ہوں تو عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے۔کئی سال پہلے اپنے بیٹے کے جونیئر سکول کے سامنے جو بوہڑ کا پودا لگایا تھا آج وہ ایک تناآور درخت بن چکا ہے اور وہاں سے گزرتے ہوئے جب میں چھوٹے بچوں یا ان کے والدین کو اس کے سایہ میں کھڑے دیکھتا ہوں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔حالیہ گرمی کی لہر نے مجھے ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ درخت صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتے۔ درخت زندگی ہیں۔ درخت ٹھنڈک ہیں۔ درخت بارشوں کا ذریعہ ہیں۔ درخت صاف ہوا کا ذریعہ ہیں۔ درخت ہمارے ماحول کے محافظ ہیں۔ اگر ہم نے درختوں کی اہمیت نہ سمجھی تو آنے والے سالوں میں گرمی کی شدت اور بھی بڑھ سکتی ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں درخت کاٹنے کا کام زیادہ کیا اور لگانے کا کم۔ شہروں کو پھیلانے کے نام پر درخت ختم کیے گئے۔ نئی سڑکوں، نئی عمارتوں اور نئی ہا¶سنگ سکیموں کے لیے سبزہ قربان کیا گیا۔ ترقی اپنی جگہ ضروری ہے لیکن اگر ترقی کی قیمت ماحول کی تباہی ہو تو پھر اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑتے ہیں اور شائد آج ہم انہی نتائج کو بھگت رہے ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ ماہرین کے اندازوں کے مطابق بین الاقوامی ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک میں جب بھی شجرکاری کی بات ہوتی ہے تو کم از کم میں تو اسے ایک سرکاری مہم نہیں بلکہ اسے قومی ضرورت سمجھتا ہوں۔ خوش قسمتی سے پری مون سون اور پھر مون سون کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب نئے پودے لگانے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ بارش کا پانی انہیں بڑھنے میں مدد دیتا ہے اور زندہ رہنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ ہم پودے تو لگانا چاہتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہ کہاں لگائیں۔ تو اس کا جواب بالکل سادہ ہے آپ اپنے گھر ، کام کرنے کی جگہ، سڑکوں، نہروں، نالوں کے کنارے، گرین بیلٹس اور قبرستانوں کے علاوہ کسی بھی کھلی جگہ پردرخت لگا سکتے ہیں ۔ بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ درخت لگانے سے کیا فرق پڑے گا کچھ ہی دن میں یہ لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے خراب ہو جائیں گے یا جانور وغیرہ انہیں برباد کر دیں گے، تو میرا یہ ماننا ہے کہ اگر ہمارے لگائے ہوئے درختوں میں سے آدھے بھی بچ جائیں تو کافی ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ اگر پہلے ایک سال پودے کا تھوڑا بہت خیال رکھا جائے تو اس کے زندہ رہنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے میری ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ اگر آپ بے شک بیس نہیں تو پانچ پودے ہی لگائیں لیکن کسی نہ کسی حد تک ذمہ داری بھی اٹھائیں۔
شجر کاری مہم کا حصہ بنتے ہوئے ہمیں ایسے درختوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو ہمارے ماحول کے لیے موزوں ہوں۔ مقامی اقسام کے درخت یقینا زیادہ فائدہ دیتے ہیں۔ نیم، دھریک، بکائین، پلکن،ٹاہلی، پیپل،شہتوت، برگد، آم، جامن، اور دیگر مقامی درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ پرندوں اور دوسرے جانداروں کے لیے بھی مفید ہیں۔ اگر آپ کے پاس زمین کم ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ گملوں میں بھی بہت سے مفید پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ چھتوں پر باغبانی کی جا سکتی ہے۔ گھروں کے سامنے خالی جگہوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ تو اپنی گلیوں کو بھی سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اصل چیز نیت اور ارادہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بھی اس مہم کا حصہ بنائیں۔ بچوں کو ایک پودا دیں اور کہیں کہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔ جب وہ اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے کو بڑا ہوتا دیکھیں گے تو ان کے اندر فطرت سے محبت پیدا ہوگی۔ یہ محبت انہیں مستقبل میں ماحول کا محافظ بنائے گی۔
ہمارے سکولوں اور کالجوں کو بھی اس معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ صرف تقریری مقابلے اور سیمینار کافی نہیں ہیں۔ طلبہ کو عملی طور پر شجرکاری میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ہر طالب علم کے نام ایک درخت ہونا چاہیے جس کی وہ نگرانی کرے۔اسی طرح مساجد، مدارس، سماجی تنظیمیں اور مقامی کمیونٹیز بھی بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر ہرمحلہ اپنی سطح پر ایک چھوٹی سی شجرکاری مہم شروع کر دے تو نتائج حیران کن ہو سکتے ہیں۔ بلاشبہ حکومتی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ شجرکاری کو مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنائے۔ صرف ایک دن یا ایک ہفتے کی مہم سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر سال لاکھوں مفت پودے شہریوں کو فراہم کیے جائیں۔ نرسریوں کا جال بچھایا جائے۔ دیہاتوں اور شہروں میں اگر مفت نہیں تو ارزاں نرخوں پر پودے دستیاب ہونے چاہئیں۔
ہر ضلعی انتظامیہ کو یہ ہدف دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے علاقے میں شجرکاری کی نگرانی کرے۔ صرف پودے لگانے کی تعداد نہ گنی جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ ایک سال بعد ان میں سے کتنے زندہ ہیں۔ کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ درخت کاٹنے کے رجحان کو بھی روکنا ہوگا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات چند منٹوں میں وہ درخت کاٹ دیا جاتا ہے جسے بڑا ہونے میں کئی سال لگے ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ درخت لگانا صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ درخت زمین کی نمی برقرار رکھتے ہیں، فصلوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، درجہ حرارت کم کرتے ہیں اور شہروں کو زیادہ رہنے کے قابل بناتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سرسبز شہر زیادہ صحت مند اور خوشحال ہوتے ہیں۔
آج جب دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا کر رہی ہے تو پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور غیر متوقع موسم ہماری زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شجرکاری کو ایک قومی ضرورت سمجھیں اور بڑھ چڑھ کر اس کا حصہ بنیں۔