گزشتہ دنوں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہونیوالے ایک دہشتگردانہ حملہ میں جامعہ کے نائب مہتمم اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا حامد الحق حقانی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ اس سانحہ¿ جانکاہ نے ان زخموں کو ہرا کر دیا جس سے تقریباً ایک دہائی قبل پاکستان کو سامنا تھا۔ 2001ءمیں امریکہ میں نائن الیون واقعہ کے بعد جب وہ افغان سرزمین پر حملہ آور ہوا تو اس خطہ میں دہشتگردی کا ناسور بھی اپنے ساتھ لایا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت چکائی ہے ۔ 2007ءتا 2016ءہماری قومی تاریخ کے دل دوز سال ہیں‘ یہ وہ دور تھا جب پاک سرزمین پر آئے روز دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے اور ہماری قوم جان ومال کی لازوال قربانیاں دے رہی تھی۔ تاہم پوری قوم اور سکیورٹی نافذ کرنیوالے اداروں نے دہشتگردوں کے سامنے شکست تسلیم نہ کی اور انہیں اتحاد کی قوت سے شکست دی۔ آج ایک بار پھر دہشتگردی کا عفریت سر اٹھا رہا ہے لیکن ہم نے باہمی اتحاد سے اس کا سر کچلنا ہے ‘ اس کیلئے ضروری ہے کہ نفرت اور انتشار کی سیاست کا خاتمہ ہو اور پوری قوم ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو ۔
دہشت گردی نے عصر حاضر کے ایک سنگےن مسئلے کی صورت اختےار کرلی ہے۔ اِس عفرےت نے دنےا بھر کے امن کو تہہ و بالا کرکے رکھ دےا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک مےں شامل رہا ہے جو دہشت گردی سے بہت زےادہ متاثر ہوئے ہےں۔ چند برس قبل ہمارا ایک ہمسایہ افغان سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کر رہا تھا اور وہاں باقاعدہ تربیتی مراکز موجود تھے جہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دی جاتی تھی تاہم طالبان حکومت آنے کے بعد یہ سلسلہ کافی حد تک بند ہو گیا تھا۔ دہشت گردی کے بیرونی عوامل کے تذکرے کے ساتھ ضروری ہے کہ ہم دہشت گردی کی ان وجوہات پر بھی ناقدانہ نگاہ ڈالےں جن کا تعلق ہمارے اندرونی معاملات سے ہے۔ پاکستانی معاشرہ اس وقت طبقاتی کشمکش کا شکار ہے۔ اےک طرف دولت کی رےل پےل سے لطف اندوز ہوتی اشرافےہ ہے تو دوسری طرف زندگی کی بنےادی سہولتوں سے محروم غرےب عوام ہےں جنہےں دو وقت کی روٹی کےلئے بھی شدےد محنت و مشقت سے کام لےنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازےں انہےں بااثر طبقات کے بدترےن استحصال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ملک دشمن عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل سے مایوس نوجوانوں کی برین واشنگ کر کے انہیں ریاست کے خلاف استعمال کریں۔ مزےد برآں بدعنوانی نے ہمارے معاشرے کو اس طرح جکڑ لےا ہے کہ محروم طبقات زندہ درگور ہوچکے ہےں اور کسی نجات دہندہ کے منتظر ہےں کےونکہ موجودہ نظام سے انہےں کوئی امےد دکھائی نہےں دےتی۔ ٹرانسپرنسی انٹرنےشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق بدعنوانی اور اس سے پےدا ہونے والے حالات لوگوں کو دہشت گردی کی طرف راغب کرتے اور اس کے پھےلاﺅ مےں معاون ثابت ہوتے ہےں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دےن اسلام کا اصل رُخ جو سراسر امن و سلامتی کا مظہر ہے‘ دنےا کے سامنے پےش کےا جائے اور نوجوانوں کو انتہا پسندی پر مبنی سوچ سے محفوظ رکھنے کی خاطر دےن متین کی سنہری تعلےمات سے روشناس کراےا جائے۔ اس مقصد کے لئے والدین‘ اساتذہ کرام ‘ علمائے کرام اور ذرائع ابلاغ کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ نوجوانوں کو تخریب کاروں کا آلہ کار بننے سے محفوظ رکھنے کی خاطر ضروری ہے کہ یہ تمام طبقات اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں۔ بالخصوص والدین کی تو یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح اسلامی خطوط پر تربیت کریں اور انہیں سیرت رسول کریم کا بطور خاص مطالعہ کرائیں۔ والدین کے بعد نوجوان اپنے وقت کا خاصا حصہ اپنے اساتذہ¿ کرام کی زیر نگرانی صرف کرتے ہیں۔ اساتذہ کرام کی شخصیت ان کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ خود اپنی شخصیت میں اور طلبا میں اعلیٰ اسلامی اخلاق و کردار کو پروان چڑھائیں تو نوجوانوں کے گمراہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ علمائے کرام پر بھی یہ فرض عائد ہوتاہے کہ وہ عوام الناس بالخصوص نوجوانوں کو رواداری‘ تحمل اور صبر و برداشت کا درس دیں اور انہیں اسوہ¿ حسنہ کی پیروی کی ترغیب دےں۔ ذرائع ابلاغ میں بعض اوقات ایسی شخصیات کو حد سے زیادہ پروجیکشن دی جاتی ہے جن کے نظریات انتہا پسندانہ ہوتے ہیں۔ اس طرز عمل سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے۔ اس کے غلط استعمال کے رجحان میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر کڑی نگاہ رکھے اور انتہا پسندانہ گروہوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے افکار کی ترویج سے روکے۔ بالفاظ دیگر اس وقت پاکستان اپنی تارےخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ فےصلہ ہم نے کرنا ہے کہ اپنی نوجوان نسل کو انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر ہونے کے لئے لاوارث چھوڑ دےا جائے ےا انہےں اپنی خداداد صلاحےتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع بلا امتیاز فراہم کےے جائےں۔
ےہ بات طے ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی عقےدہ۔ وہ صرف خون خرابے پر ےقےن رکھتے ہےں لہٰذا اگر انہےں انسانےت کا دشمن قرار دےا جائے تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ ان کا خاتمہ صرف متاثرہ ممالک ہی کی ذمہ داری نہےں بلکہ ساری عالمی برادری کو ان کی بےخ کنی کے لئے متحد ہونا پڑے گا۔ حکومت پاکستا ن اور افواج پاکستان کا تو دوٹوک مو¿قف ہے کہ وہ وطن عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور پاکستان کے اندر امن و امان کی فضا قائم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ اس سے قبل سکیورٹی اداروں نے 2007ءمیں آپریشن راہِ حق‘ 2009ءمیں آپریشن راہِ راست اور آپریشن راہِ نجات‘2014ءمیں آپریشن ضربِ عضب‘ 2017ءمیں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ ہمیں دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے حکومت اور ریاستی اداروں کا بھرپور ساتھ دینا ہو گا تاکہ پاک سرزمین امن و آشتی کا گہوارہ بنی رہے۔