Wed, September 16, 2026

ٹرمپ اور پوٹن کا ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ، ایران اور یوکرین پر تبادلہ خیال

 ٹرمپ اور پوٹن کا ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ، ایران اور یوکرین پر تبادلہ خیال

ماسکو / واشنگٹن :امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جو تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے متعلق معاملات اور روس-یوکرین تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

روسی صدارتی محل کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اسے مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا۔

گفتگو کے دوران صدر پوٹن نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے، اور امریکی سفارتی ٹیم اس مقصد کے لیے ایرانی حکام سے رابطے کے لیے پرعزم ہے۔

دونوں صدور نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا کہ مستقبل میں فریقین کے درمیان مزید بات چیت ہو سکتی ہے۔

اس دوران ولادیمیر پوٹن نے اپنے امریکی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ روس 22 جون کے بعد یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے روس-یوکرین تنازع کے پرامن حل میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

گفتگو کے اختتام پر روسی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سالگرہ کی مبارکباد بھی پیش کی۔

ٹیگز: