(پہلی قسط)
وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابہ میں بجٹ 2025-26ءمنظور کرالیا۔ حسبِ دستور بجٹ منظوری سے قبل حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ باقاعدہ مشاورت کی اور متعدد اُمور طے کیے۔ کسی بھی ملک کی معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے اہداف میں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم موجودہ بجٹ میں حکومت کی توجہ صرف افراط زر(یعنی)inflation کو کنٹرول کرنے تک محدود ہے، جبکہ حکومتی دعووں کے برعکس غربت اور بے روزگاری جیسے بنیادی عوامی مسائل حکومتی اہداف کا حصہ نہیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا بجٹ 2025-26ءکے اہداف میں خطِ غربت سے نیچے چلے جانے والے اوسطاً 40 فیصد پاکستانیوں کے مسائل حل ہونگے؟ کیا مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان سے عوام کی جان چھوٹے گی؟ کیا ملک کے نوجوانوں بالخصوص اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کےلیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے؟ کیا زراعت اور صنعت کی ترقی کے ذریعے ملک کو معاشی استحکام کی پٹڑی پر ڈالا جائے گا؟ کیا تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے ملکی برآمدات میں اضافے اور کرپشن اور کمیشن حاصل کرنے کے لیے گندم، چینی جیسی بنیادی اشیاءکو پہلے ملک سے برآمد اور پھر مہنگے داموں درآمد جیسے دھندے کو لگام دی جائے گی؟ کیا بیوروکریسی کی کرپشن اور اشرافیہ کی لُوٹ مار اور شاہ خرچیوں میں کمی کرکے ملکی خزانے کو بےدردی سے لوٹنے سے بچایا جائے گا؟ آئیے اِن تمام سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے بجٹ 2025-26 ءاور اس کے اہداف کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔
وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2025-26ءکے کل حجم کا تخمینہ 17,573 بلین روپے ہے، جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 1304 بلین کم ہے۔ موجودہ بجٹ کی کل رقم میں سے 16286 بلین روپے (93 فیصد کرنٹ یا جاری اخراجات کے لیے ہیں اور محض 1287 بلین روپے (7 فیصد ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ جاری اخراجات کی بڑی مدات میں سُود کی ادائیگی کی مد سب سے بڑی ہے، جس کے لیے کل بجٹ کا 47 فیصد یا 8207 بلین روپے خرچ ہونگے۔ سُود کی یہ رقم گذشتہ چار سالوں میں چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت کی جانب سے صحت اور تعلیم پر خرچ ہونے والی کل رقم سے879 بلین روپے زیادہ ہے۔ سُود کی اس کل رقم کا تقریباً 88% ملکی قرضوں پر جبکہ بقیہ 12% غیرملکی قرضوں کے سُود کی ادائیگی کے لیے رکھا گیا ہے۔
سُود کے بعد دوسری بڑی مد دفاعی اخراجات کی ہے جو کہ کُل بجٹ کا 15 فیصد یعنی 2550 ارب روپے ہیں۔ بھارت کے پاکستان پر حالیہ حملے اور مودی کے جنگی جنون کے مقابلہ، نیز اسرائیل کے ایران پر حملے کے تناظر اور مستقبل کے خطرات کے پیشِ نظر دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا پڑا۔ تیسری بڑی مد گرانٹ اور ٹرانسفر کی ہے جس کی مد میں مختص کی جانی والی رقم 1928بلین روپے یا کُل بجٹ کا 11 فیصد ہے، اس رقم کا بڑا حصہ سماجی تحفظ کے شعبے کے لیے رکھا گیا ہے جس میں722بلین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر خرچ کیے جائیں گے، جو کہ گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہیں۔
بجٹ کے اخراجات میں اگلی بڑی مد سبسڈی کی ہے، جس کے لیے مختص کی جانی والی رقم 1186 بلین روپے ہے جو کہ کل بجٹ کا 7 فیصد بنتی ہے۔ جبکہ اس سبسڈی کا تقریباً 87 فیصد یعنی 1032 بلین روپے پاور سیکٹر کو سبسڈی کی مد میں دیے جائیں گے، جس میں سے کراچی الیکٹرک کے لیے 125 بلین روپے ٹیرف کے فرق (Tariff Differential)کے نام پر رکھے گئے ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف پاور سیکٹر کو ”عوامی مفاد“کے لیبل تلے اتنی بھاری سبسڈی تو دوسری طرف عام شہریوں کے زیراستعمال سولر پینل پر18 فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ، جس کی وجہ سے عوام جو سستی بجلی پیدا کرکے اپنے اخراجات کو کم کرنے میں کام یاب ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے لیے شمسی توانائی سے متعلقہ آلات کی خریداری مزید مشکل ہوجائے گی، اگرچہ اس ٹیکس سے حکومت محض 20 ارب روپے ہی کمائے گی۔
وفاقی حکومت کے اخراجات کی مد میں پانچویں بڑی مد پنشن کی ہے جس کے لیے مختص کی جانی والی رقم 1055بلین روپے ہے جو کہ کل بجٹ کا 6 فیصد بنتی ہے۔ اس میں سے ملٹری پنشن 70 فیصد اور سویلن کی پینشن 23فیصد ہے اور باقی انتظامی اخراجات ہیں۔ اس کے بعد اگلی مد وفاقی حکومت کے اخراجات کی ہے، جس کے لیے مختص کی جانی والی رقم 971 بلین روپے ہے جو کہ کل بجٹ کا 5.5 فیصد بنتی ہے۔ غیرترقیاتی اخراجات کی آخری مد ناگہانی آفات اور ایمرجنسی صورتِ حال سے نمٹنے کی ہے، جس کے لیے مختص کی جانی والی رقم 389 بلین ہے جو کہ کل بجٹ کا 2.2فیصد بنتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے محض1287بلین روپے رکھے گئے ہیں جو کہ کل بجٹ کا 7 فیصد بنتا ہے، جس میں سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے 1000بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے سُکڑتا ہوا ترقیاتی بجٹ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور امسال بھی ترقیاتی اخراجات کےلئے مختص کردہ اس مایوس کُن فگر سے واضح ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے حکومتی اخراجات کم کرنے کی جو شرط عائد کی تھی اس کا اطلاق صرف اور صرف ترقیاتی اخراجات پر ہی ہوا ہے۔
اخراجات کے بعد اگر آمدنی کے ذرائع کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس محصولات (Taxes)کی مد میں متوقع آمدنی 14131بلین روپے ہے اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی 5147 بلین روپے ہے، جس میں سے 8206 بلین روپے صوبوں کو ٹرانسفر کردیے جائیں گے اور وفاقی حکومت کے پاس ملکی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے صوبوں کا حصہ نکال کر بچ جانے والی خالص رقم 11072بلین روپے ہوگی۔ محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں تقریباً 48.8 فیصد براہ راست ٹیکس (Direct Taxes)ہیں اور 51.2 فیصد بالواسطہ ٹیکس (Indirect Taxes) کا ہے۔(جاری ہے)