Wed, September 16, 2026

بجٹ 2026-27،بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اور عوامی مشکلات

بجٹ 2026-27،بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اور عوامی مشکلات

وفاقی بجٹ 2026-27 ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا جب ملک پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، کمزور معاشی سرگرمیوں اور بڑھتی ہوئی غربت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ حکومت نے اس بجٹ کو معاشی استحکام اور محصولات میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا، مگر بجٹ کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ عام شہریوں پر ڈال دیا گیا ہے، جبکہ صاحبِ حیثیت طبقے کو کئی شعبوں میں ریلیف بھی فراہم کیا گیا ہے۔ یہی پہلو اس بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو تقریباً 153 کھرب روپے کے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف دیا ہے۔ اگرچہ یہ ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی حالات میں اس قدر بڑی وصولی ممکن ہے؟ گزشتہ مالی سال میں بھی مقررہ ہدف حاصل نہ ہو سکا اور محصولات میں کمی سامنے آئی۔ اس تجربے کو دیکھتے ہوئے نئے ہدف کے حقیقت پسندانہ ہونے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حکومت نے براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار مزید بڑھا دیا ہے۔ بالواسطہ ٹیکس وہ ہوتے ہیں جو اشیائے ضروریہ اور روزمرہ استعمال کی چیزوں پر عائد کیے جاتے ہیں۔ ان کا اثر امیر اور غریب دونوں پر یکساں ہوتا ہے، لیکن چونکہ غریب کی آمدنی محدود ہوتی ہے، اس لیے اس پر ان ٹیکسوں کا بوجھ کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ایسے ٹیکسوں کو نسبتاً غیر منصفانہ تصور کیا جاتا ہے۔پاکستان میں سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جیسے ذرائع سے حکومت کو سب سے زیادہ آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انکم ٹیکس کے اندر بھی بڑی مقدار میں ودہولڈنگ ٹیکس شامل ہے، جو درحقیقت خرید و فروخت اور مختلف خدمات پر وصول کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مجموعی ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ براہِ راست آمدنی پر نہیں بلکہ اشیائے صرف اور کاروباری سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔اس بجٹ میں حکومت نے متعدد نئی اشیاءپر سیلز ٹیکس عائد یا اس کے دائرہ کار میں اضافہ کیا ہے۔ خوردنی تیل، دودھ سے بنی بعض مصنوعات، مٹھائیاں، زرعی ادویات اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاءپر اضافی ٹیکس کا مطلب یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ پہلے ہی مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے، ایسے میں نئے ٹیکس عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔دوسری جانب حکومت نے بعض ایسے شعبوں کو نمایاں ریلیف دیا ہے جن سے زیادہ فائدہ نسبتاً خوشحال طبقے کو پہنچے گا۔ جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، سپر ٹیکس میں نرمی اور بعض دیگر مراعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سرمایہ کاروں اور بڑے کاروباری حلقوں کو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر یہی رعایتیں چھوٹے کاروبار، زراعت، تعلیم یا صحت جیسے شعبوں کو دی جاتیں تو ان کے مثبت اثرات زیادہ وسیع ہوتے۔غربت کے خاتمے کے لیے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بجلی کی سبسڈی کو اپنی اہم سماجی پالیسی قرار دیا ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں یہ امداد ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ جب روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جائے تو محدود مالی امداد سے عوام کی مشکلات مکمل طور پر کم نہیں کی جا سکتیں۔معاشی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری روکنے اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ اگر زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد، بڑے تاجروں اور ایسے شعبوں کو مو¿ثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اب بھی مناسب ٹیکس ادا نہیں کرتے، تو حکومت کو بالواسطہ ٹیکسوں پر اس قدر انحصار کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کے تحت محصولات میں اضافہ اپنی جگہ ضروری ہو سکتا ہے، لیکن کسی بھی معاشی پالیسی کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس کا بوجھ کس طبقے پر پڑ رہا ہے۔ اگر معاشی استحکام کی قیمت صرف عام شہری ادا کرے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ ریلیف حاصل کرتا رہے تو معاشرتی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ بجٹ کی منظوری کے دوران اس بنیادی مسئلے پر سنجیدہ پارلیمانی بحث دیکھنے میں نہیں آئی۔ عوامی نمائندوں کو چاہیے تھا کہ وہ غریب اور متوسط طبقے پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیتے اور ایسی تجاویز پیش کرتے جن سے محصولات بھی بڑھتے اور سماجی انصاف بھی برقرار رہتا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صرف ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ ایک ایسا منصفانہ ٹیکس نظام بھی ضروری ہے جس میں ہر شہری اپنی مالی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالے۔ جب تک براہِ راست ٹیکسوں کا دائرہ وسیع نہیں ہوگا اور بالواسطہ ٹیکسوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار ختم نہیں کیا جائے گا، تب تک مہنگائی، غربت اور معاشی بے چینی میں کمی لانا ایک مشکل ہدف ہی رہے گا۔ ایک پائیدار اور عوام دوست معاشی نظام وہی ہو سکتا ہے جو محصولات کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف، مساوی مواقع اور کمزور طبقات کے تحفظ کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائے۔

ٹیگز: