’’جموں سے مہاجرین کا قافلہ بسوں میں روانہ ہوا تو جموں شہر میں بہنے والے دریائے توی کے کنارے ہندوئوں اور سکھوں نے اس قافلے پر بہت بڑا حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں کئی مسلمان شہید ہو گئے ۔ہندو اور سکھ مسلمانوں کی نعشیں دریائے توی میں پھینکتے جاتے اور کہتے تھے کہ جائو اپنے پاکستان۔ اس بربریت کو دیکھ کر کئی لوگوں نے اپنی جوان بیٹیوں اور بہنوں کو دریائے توی میں ڈبو دیا۔ دریائے توی مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو گیا تھا۔ میرا چھوٹا بھائی بس میں پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ ہندوئوں نے اسے کہا ’’ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ پاکستان کون سا راستہ جاتا ہے ہم تمہیں آگے دریا میں پھینک دیں گے وہاں سے تم خود ہی پاکستان پہنچ جائو گے‘‘۔ بھائی ڈر کر دادا کے پاس اگلی سیٹ پر آ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے رئیس اعظم، ریاست میں پہلے سند یافتہ مسلمان ڈاکٹر، سری نگر کے پہلے مسلمان میونسپل کمشنر اور انجمن حمایت اسلام سری نگر کے فعال رکن ڈاکٹر عبدالواحد کی سب سے بڑی پوتی ڈاکٹر فرخ سعیدہ قیام پاکستان کے وقت سری نگر میں تھیں۔ قیام پاکستان کے وقت جموں اور سری نگر اور وہاں سے پاکستان ہجرت کے حالات کے بارے میں ان سے بالمشافہ گفتگو سے کشمیری مسلمانوں پر سکھوں اور ہندوؤں کے مظالم کے بارے میں تفصیلات سے آگہی ہوئی۔ کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ہجرت کے حالات سے قارئین کوآگاہ کرنے کے لیے راقم نے اس کالم میں ان کی یادیں سمونے کی کوشش کی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد بھارت نے مقبوضہ ریاست کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑنا شروع کیے وہ آج بھی جاری ہیں۔ ڈاکٹر فرخ سعیدہ نے بتایا ’’قیام پاکستان کا اعلان ہمارے لیے خوشیاں لے کر آیا والدہ نے زردہ بنایا تھا۔ والد ریشم کے کارخانے میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے وہ دفتر سے واپسی پر مٹھائی لے کر آئے تھے۔ ہم نے گھر میں رکھے ہوئے کپڑوں سے جھنڈا بنا کر اپنے گھر اور باغ میں لہرایا۔ سری نگر میں پاکستان کا جھنڈا سب سے پہلے ہمارے گھر پر لہرایا گیا۔ میں چرچ مشن گرلز ہائی سکول فتح کدل میں پڑھتی تھی۔ ہم جھیل ڈل سے کشتی میں سکول جاتے تھے۔ اس کشتی میں ہندو اور سکھ لڑکیاں بھی ہوتی تھیں۔ ہمارے گھر کے راستے میں سری نگر کا ہوائی اڈہ ایروڈروم آتا تھا۔ وہاں ریاست کے راجہ ہری سنگھ کے فوجی جہاز آتے جاتے رہتے تھے۔ بھارتی فوجی قریبی گائوں میں جا کر پاکستان سے آئے ہوئے قبائلیوں کی تلاش میں فائرنگ کیا کرتے تھے۔ بھارتی فوجی وہاں سے گزرنے والے لوگوں خاص کر مسلمانو ں کی سختی سے چیکنگ کرتے۔ سکول میں ہم مسلمان لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھ کر پاکستان کی باتیں کیا کرتی تھیں۔ سکول میں ہندو پنڈتوں کی متعصب بیٹیاں اکثر پاکستان اور اسلام کے خلاف زہر اگلا کرتیں۔
قیام پاکستان کے وقت کشمیر کے حالات کے بارے میں ڈاکٹر فرخ سعیدہ نے بتایا تھا ’’پاکستان بننے کے بعد برصغیر کے مسلمان ہندوئوں کے تسلط سے آزاد ہو چکے تھے۔ یہ بات ہندوئوں اور سکھوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ انہوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے ان کا قتل عام شروع کر دیا اور ان کی جائیدادیں اور املاک لوٹ لی گئیں۔ کٹے پھٹے اور لٹے ہوئے کشمیر کی حکومت نے ایک حکم نامے میں جموں میں رہنے والے مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کے لیے کیمپ میں جمع ہونے کا حکم دیا۔ سری نگر میں اسّی فیصد مسلمان رہتے تھے اس لیے ہندوئوں نے انتقاماً مہورہ کے پاور ہائوس سے سری نگر کی بجلی بند کر دی تھی۔
مسلمان جموں سے ہجرت کر کے سری نگر کے پناہ گزیںکیمپوں میں آئے۔ ہمارے سکول میں لڑکیوں سے ان مہاجرین کے لیے امدادی کام کرنے کا کہا گیا۔ میری والدہ نے ان کے لیے سویٹر بنائیں، ہم مہاجرین کے لیے سویٹر اور کھانا بنا کر لے جاتے تھے۔ ہماری ایک استانی پنجاب گئی ہوئی تھیں۔ پاکستان بننے کے بعد وہ سری نگر واپس آئیں تو انہوں نے راستے میں دیکھے جانے والے قتل و خون کے درد ناک واقعات سب کو بتائے۔ اس وقت راولپنڈی کا راستہ کھلا ہوا تھا جس کے ذریعے پاکستان اور کشمیر میں لوگوں کی آمد و رفت ہوتی تھی بعد میں یہ راستہ بند کر دیا گیا تھا۔ ہمارے ایک چچا عبدالحمید جموں میں پاور ہاؤس بنوا رہے تھے، ان کی فیملی ہمارے ساتھ سری نگر میں رہتی تھی اس لیے وہ سری نگر آنے کے لیے جموں کے کیمپ میں آ گئے۔ اتفاق سے اس کیمپ میں ان کی ملاقات ایک عزیز سے ہوئی جو پرنس ویلز کالج میں پروفیسر تھے ان کی فیملی پاکستان میں تھی۔ میرے چچا نے ان سے کہا کہ میری فیملی سری نگر میں ہے میں یہاں سے کسی طرح سری نگر جانے کی کوشش کروں گا، آپ اپنی فیملی کے پاس پاکستان چلے جائیں۔ یہ قافلہ بسوں میں روانہ ہوا تو جموں شہر میں بہنے والے دریائے توی کے کنارے ہندوئوں اور سکھوں نے اس قافلے پر بہت بڑا حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں یہ پروفیسر بھی شہید ہو گئے۔
ہمارے سکول کی انگریز پرنسپل مس میلنسن میرے دادا کے حوالے سے مجھے جانتی تھیں۔ ایک دن ان کے پاس انگریز آئے تو انہوں نے مجھے بھی اپنے آفس میں بلایا۔ میں چھوٹی تھی اس لیے ڈرتے ڈرتے ان کے پاس گئی تو انہوں نے مجھے ایک سکہ دیتے ہوئے کہا ’’یہ پاکستان کا پہلا سکہ ہے، یہ اپنے دادا جان اور سب گھر والوں کو دکھا کر مجھے واپس کر دینا‘‘ میں نے یہ سکہ اپنی قمیض کی جیب میں چھپا لیا اور گھر آ کر سب کو دکھایا تو سب گھر والے پاکستان کا پہلا سکہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ پاکستان بننے کے ایک سال کے بعد عید کے موقع پر پاکستانی حکومت کی جانب سے جہازوں سے عید کارڈ پھینکے گئے۔ ان میں سے ایک کارڈ ہمارے ایک قریبی عزیز نے گوجرانوالہ سے ہمیں سری نگر بھیجا جو ہم نے بہت سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔
فرخ سعیدہ کے دادا ڈاکٹر عبدالواحد سیاست میں خفیہ طور پر حصہ لیتے تھے۔ وہ قائد اعظم ؒسے ملاقات کر کے انہیں کشمیر کے حالات سے آگاہ کرنے کیلئے پاکستان آتے رہتے تھے۔ سری نگر میں ان کے گھر اور باغات تھے۔ دادا اور والد سمیت سب چچائوں کا کاروبار بھی سیٹ تھا۔ یہ لوگ ہجرت کر کے پاکستان نہیں آنا چاہتے تھے۔ 1953ء میں ڈاکٹر عبدالواحد کو اپنے کسی ضروری کام کے سلسلے میں لاہور آنا تھا۔ پاکستان بن چکا تھا جواب دوسرا ملک تھا۔ اس وقت پاکستان آنے کیلئے حکومت سے ویزہ لینا پڑتا تھا اور پاکستان آنے والوںکے نام عدالت میں درج ہوتے تھے۔ پاکستان آنے کیلئے انہیں دو مہینے کا ویزہ ملا۔ ڈاکٹر فرخ سعیدہ نے بتایا کہ ان کے رشتہ دار لاہور میں رہتے تھے اس لیے میری دادی، والدہ اور ہم بہن بھائی دادا کے ساتھ رشتے داروں کو ملنے لاہور آئے۔ اس وقت تک مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر سے آمد و رفت کیلئے راولپنڈی کا راستہ بند ہو چکا تھا اور سری نگر سے براستہ جموں، جالندھر، امرتسر اور واہگہ بارڈر لاہور آنا پڑتا تھا۔ ہم بھی اسی راستے سے پاکستان آنے کیلئے سری نگر سے بس میں روانہ ہوئے۔ بس میں سوار ہندوؤں اور سکھوں کو پتہ چل گیا کہ یہ مسلمان ہیں اور پاکستان جا رہے ہیں۔ خطرے کو محسوس کر کے میری والدہ اور دوسری مسلمان خواتین نے برقع اتار کر چادر اوڑھ لی۔ ہم نے واہگہ کا بارڈر کراس کر کے پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھا تو فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ہم نے پاک سر زمین پر سجدہ اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ ڈاکٹر فرخ سعیدہ سری نگر اپنے گھر واپس جانے کی خواہش لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔