Wed, September 16, 2026

جشن آزادی کا اصلی مزا

جشن آزادی کا اصلی مزا

جشن آزادی منانے کا جو لطف اس بار ہے، اب سے پہلے ایسا لطف کبھی نہیں آیا۔ فاتح ہونے کا احساس ہی سرشار کر دینے والا ہے۔ دل فتح کے شادیانے بجا رہا ہے اور بدن کا رواں رواں خوشی اور سرمستی سے جھوم رہا ہے۔ جی چاہتا ہے ارضِ وطن کے چپے چپے پر منظر کچھ ایسا ہو:
جیسے پنچھی خوشی مناتے ہیں
ہر کوئی یوں منائے چودہ اگست
گنگنائیں تمام اہل وطن
کوئی نغمہ برائے چودہ اگست
فاتح کیا بلا ہوتا ہے اور فتح کا احساس کیسی سرشار کر دینے والی چیز ہے۔ یہ ہمیں پہلی بار پتا چلا ہے اور اس برس ہم اسی احساس کے ساتھ جشن آزادی منا رہے ہیں۔ آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کو ذلت سے دوچار تو ہماری بہادر افواج نے کیا لیکن فخر سے سر پوری قوم کا بلند ہوا۔ پوری دنیا میں پاکستان کی عزت و توقیر کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ حکمرانوں سے لے کر عام آدمی تک جو بھی کسی غیر ملک کا سفر کرتا ہے، اس کا خیر مقدم دیکھنے والا ہوتا ہے۔
معرکہ حق میں بھارت کو شکست دینے کے بعد ہمارے وزیر اعظم، وزرا اور فوجی سربراہان جہاں جہاں بھی گئے، ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف جنگ کے فوراً بعد وفود کے ہمراہ جب ایران، ترکی، آذر بائیجان اور ترکمانستان کے دوروں پر گئے تو انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جب امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکی صدر نے انہیں جو عزت و تکریم دی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب بھارتی جارحیت بے نقاب کرنے کے مشن پر مختلف ممالک کے دورے پر گئے تو انہیں بھی بہت پذیرائی ملی۔ جب پاک فضائیہ کے ترجمان نے بھارتی طیارے مار گرانے کی تفصیل بتائی تو انہیں صرف یہ بتانے پر ہی دنیا بھر میں ہیرو کی حیثیت مل گئی بلکہ یہاں تک کہ کچھ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں پاکستانی عمرہ زائرین کو دیکھ کر خانہ کعبہ میں سکیورٹی پر مامور اہلکار پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے دیکھے گئے۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں کی گونج تو ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایرانی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کو جتنی عزت اس فتح کے بعد ملی، وہ اپنی مثال آپ ہے اور تو اور پاکستانی پاسپورٹ کی قدر بڑھ گئی ہے۔
دوسری طرف بھارت ہے جو ہم سے شکست کھانے کے بعد پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہا ہے۔ پہلے اسے ان تین رافیل طیاروں کے تباہ ہونے پر دنیا بھر میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا جن پر اسے بڑا ناز تھا۔ پھر پہلگام فالز فلیگ کا جھوٹ بے نقاب ہونے پر وہ اقوام عالم کی نظروں میں مزید گرا اور پھر جنگ بندی میں امریکی صدر کا کردار نہ مان کر وہ مزید ذلیل ہوا بلکہ صدر ٹرمپ تو بھارتی وزیر اعظم نرییند مودی کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس کے علاوہ بھارتی وفود دنیا میں جہاں جہاں بھی گئے، ان کا ویسے استقبال نہیں ہوا جیسے پاکستان کا ہوا۔ بھارتی ذلت میں جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی تھی وہ بھارت کے ایئر چیف نے جنگ کے تین ماہ بعد یہ اعلان کر کے پوری کر دی بھارت نے پاکستان کے چھ طیارے تباہ کیے ہیں۔ دنیا بھر میں بھارت کی اس درفنطنی کا مذاق اڑایا گیا بلکہ ایسا لگا کہ پوری دنیا پاکستان کی ترجمان بن گئی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے تو وقت ضائع کیے بغیر بھارتی ایئر چیف کے اس بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا۔ پاکستان سے عبرتناک شکست کے بعد بھارت عالمی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
چنانچہ جشن آزادی منانے کا جو مزا اس بار آ رہا ہے، اب سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اس برس ہر چہرے پر اعتماد اور ہر دل میں احساس تفاخر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں قابلِ ذکر لمحے تو پہلے بھی کئی آئے لیکن ایک فاتح کے احساس کے ساتھ آزادی کا جشن منانے کا یہ پہلا موقع ہے۔ ہم نے ایک ایسی قوم کا غرور توڑا ہے جو خود کو پاکستان سے بہت بہتر سمجھنے کے زعم میں مبتلا تھی اور جس نے ہمیشہ ہمیں ایک کمتر قوم سمجھا۔
جشن آزادی منانے کا سلسلہ باقاعدہ طور پر جنرل ضیاالحق کے دور صدارت میں شروع ہوا تھا۔ ابتدائی برسوں میں یہ جشن صرف جھنڈوں اور جھنڈیوں تک محدود تھا البتہ منایا بہت جوش و خروش سے جاتا تھا اور ہر گھر پر چودہ اگست کے دن ایک جھنڈا ضرور ایستادہ ہوتا تھا جبکہ جھنڈیوں کی بہت سی لڑیاں بھی درو دیوار سے لٹکتی نظر آتی تھیں۔ ان دنوں میں لوگ بازار سے دھاگا اور جھنڈیاں خرید لاتے اور گھر میں آٹے کی لئی بنا کر خود لڑیاں تیار کرتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اس میں اور چیزوں کا بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بیجز، قومی پرچم کے رنگوں والے ملبوسات، باجے اور طرح طرح کی سجاوٹی چیزیں اس جشن کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ کچھ منچلوں نے فائرنگ کو بھی اس جشن میں شامل کر لیا۔ جیسے ہی تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب گھڑی کی سوئیاں بارہ کی گھنٹی بجاتی ہیں، فضا گولیوں کی تڑہڑاہٹ سے لرز اٹھتی ہے۔
اب تو جشن آزادی کی شکل یہ بن گئی ہے کہ رات کو فضا گولیاں چلنے کی آوازوں سے گونجتی رہتی ہے اور دن بھر بچے اور نوجوان باجے بجا بجا کر لوگوں کے ناک میں دم کیے رکھتے ہیں۔ اس بار چونکہ ہم ایک فاتح قوم کی حیثیت سے یوم آزادی منا رہے ہیں تو اسی نسبت سے ہمیں اس بار اور آئندہ کے لیے بھی جش منانے کے انداز کو بھی بدلنا چاہیے۔ وہ انداز ایسا ہونا چاہیے جو ماضی کے انداز سے مختلف اور زیادہ باوقار ہو۔ اس ضمن میں راقم الحروف کی تجویز کچھ یوں ہے:
کیوں نہ اس بار اک نئی دھج سے
سارے مل کر منائیں آزادی
توڑ کر نفرتوں کی زنجیریں
خود کو ان سے دلائیں آزادی

ٹیگز: