واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سیاست کا رخ پاکستان کی طرف موڑتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا اور اہم ترین دور آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر پاکستان میں شروع ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کا جھکاؤ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستان کی طرف زیادہ ہے کیونکہ پاکستان اس معاملے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا "فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاندار کام کر رہے ہیں۔ ان کی بہترین کارکردگی ہی وہ وجہ ہے جس نے ہمیں پاکستان کی میزبانی پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ ہم ایسے کسی ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو؟"
صدر ٹرمپ نے عالمی میڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دو روز پاکستان کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں، اس لیے صحافیوں کو وہاں موجود ہونا چاہیے کیونکہ کچھ بہت بڑا ہونے والا ہے۔برطانیہ کے لیے توانائی کا مشورہ اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے برطانیہ کو توانائی کے بحران سے نکلنے کا نسخہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ناروے سے مہنگا تیل خریدنے کے بجائے اپنے 'شمالی سمندر' کے عظیم ذخائر سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے ونڈ ملز کے منصوبوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر تیل کی ڈرلنگ شروع کرنے پر زور دیا۔
سفارتی ماہرین کی رائے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک بار پھر اہم ترین "ثالث" بن کر ابھر رہا ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک پالیسیوں کو واشنگٹن میں بھی پذیرائی مل رہی ہے۔