اسلام آباد: پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ جنگ بندی کی موجودہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا جائے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ سفارتی تعطل کسی بھی وقت خطے کو نئے بحران سے دوچار کر سکتا ہے، اس لیے بات چیت کا تسلسل برقرار رہنا ضروری ہے۔
پاکستان نے اس حوالے سے درج ذیل اہم نکات پیش کیے ہیں۔ پاکستان دوبارہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاہم مقام کا حتمی فیصلہ فریقین کی رضامندی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پہلے دور میں حتمی معاہدہ نہ ہونا ناکامی نہیں بلکہ ایک عمل کا حصہ ہے، اور اس عمل کو "وقتی کوشش" کے بجائے "جاری عمل" کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ پاکستان خطے کے ایک اہم ملک کے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ٹھوس معاہدے کی منتظر ہے۔ پاکستان کی یہ فعال سفارت کاری خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور امن پسندی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔