Wed, September 16, 2026

پاک بیلا روس تعلقات و تجارت

پاک بیلا روس تعلقات و تجارت

طویل افغان جنگ کے نتیجے میں روس ٹکڑے ٹکڑے ہوا تو بیلا روس بھی دیگر ریاستوں کی طرح اس سے الگ ہو گیا لیکن پیوٹن کے برسراقتدار آنے کے بعد سے روس اور بیلا روس میں قربتیں بڑھی ہیں۔ بیلا روس کے سربراہ حکومت پیوٹن کے نو رتنوں میں شمار ہوتے ہیںاور دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے وہ بیلا روس کی حکومت کے سربراہ ہیں۔ دونوں ممالک میں اب اسی قسم کے تعلقات قائم ہیں جس طرح امریکہ یورپ اور اب ان کی دیکھا دیکھی ترقی پذیر ممالک میں میاں بیوی میں علیحدگی ہو جانے، دونوں کی دوسری جگہ شادی ہو جانے کے بعد بھی استوار رہتے ہیں۔ دونوں کبھی کبھار اکٹھے ویک اینڈ گزارتے ہیں۔ خاوند اپنی نئی بیوی کو لے کر پرانی بیوی کے نئے گھر چلا جاتا ہے۔ پرانی بیوی اپنے نئے شوہر کو لے کر پرانے شوہر کے گھر ڈنر کرنے آجاتی ہے۔ دونوں کے بچے کبھی اپنے نئے ابا کے یہاں پرانی امی سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح وہاں چند روز گزارنے کے بعد وہ اپنے پرانے ابا اور نئی امی کے گھر لوٹ آتے ہیں۔ معاشرہ ان تعلقات کو ناجائز تعلقات کے نام سے پکارتا ہے لیکن بین الاقوامی دنیا دو علیحدہ ہو جانے والے ممالک کے ان تعلقات کو سفارتی تعلقات کا نام دیتی ہے، جیسے مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی الگ ہو گئے۔ درمیان میں دیوار برلن بھی کھینچ دی گئی لیکن سفارتی تعلقات موجود رہے۔ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا، کچھ عرصہ کشیدگی رہی پھر سفارتی تعلقات استوار ہو گئے۔ بھارت کے ساتھ متعدد جنگوں کے بعد تعلقات میں تعطل آیا لیکن پھر سفارتی تعلقات بحال ہوگئے۔
بیلاروس کی روس کے نزدیک بہت اہمیت ہے اور یوکرین کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ بیلاروس میں سواکی کیمپ نامی علاقے میں روس کی دو ڈویژن تازہ دم فوج اپنی تمام تر جنگی ضروریات کے ساتھ عرصہ دراز سے موجود ہے۔ آپ اسے اسٹرائیک فورس کہہ سکتے ہیں، جسے فضائی دستوں کا کور حاصل ہے، اس کے آرمڈ بریگیڈ، ڈرون، بھاری توپ خانہ اور انفنٹری کے دستے امریکہ کی طرف سے کسی فتنہ انگیزی کے پردے میں یو این افواج کے دستوں کے روس کے قریب بارڈر پر پہنچنے کی صورت میں سواکی کیمپ میں موجود روسی دستے نہایت سرعت سے الائیڈ فورسز پر جھپٹ سکتے ہیں، یہی ان کا اصل ٹاسک ہے اور اسی مقصد کے لئے انہیں یہاں رکھا گیا ہے۔ دونوں ملکوں میں قربت کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔
بیلاروس کے سربراہ حکومت الیگزینڈر لوکاشنکا گزشتہ برس پاکستان کے دورے پر آئے تو ان کے ساتھ ایک بھاری بھرکم وفد بھی تھا۔ بتایا گیا کہ بیلاروس پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اور پاکستان بھی مختلف شعبوں میں اس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنی تجارت کو تین گنا کرنا چاہتا ہے۔ بیلاروس کی طرف سے فروری 2025ء میں ایک وزارتی مشن بھی پاکستان کا دورہ کر چکا ہے جس نے مختلف حوالوں سے پاکستانی حکام کے ساتھ اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے حوالے سے بات چیت کی، درجن بھر ایم او یوز تو اس سے قبل ہی سائن ہو چکے تھے جس کے بعد اب پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں ایک کثیر رکنی اعلیٰ وفد نے بیلاروس کا دورہ کیا ہے جس میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے علاوہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ، وفاقی وزیر علیم خان، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی صاحبزادی شامل ہیں۔ 
الیگزینڈر لوکاشنکا جب پاکستان آئے تو وزیراعظم پاکستان نے ائیرپورٹ پر ان کا اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ الیگزینڈر کو ٹریک سوٹ میں طیارے سے باہرآتے دیکھ کر دنیا حیران ہوئی۔ ایک لمحے کیلئے استقبال کرنے والے اس سوچ میں ڈوب گئے کہ بیلاروس کے صدر شاید ان کے بعد جہاز سے باہر آئیں گے۔ پاکستان کا اعلیٰ ترین وفد بیلاروس پہنچا تو الیگزینڈر سوٹ ٹائی میں نظر آئے۔ انہوں نے پاکستانی قائدین کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے نواز شریف دونوں بانہیں پھیلائے ان کی طرف بڑھے اور بغل گیر ہوئے۔ اسی طرح الیگزینڈر نے شہباز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار کے بعد مریم نواز کی صاحبزادی سے پرجوش مصافحہ کیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے الیگزینڈر کو بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے۔
سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ حالات بدلتے ہیں تو تعلقات کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم نے اپنے زمانہ اقتدار میں روس کا دورہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک میں کھلبلی مچ گئی۔ امریکہ نے اس دورے کو کچھ اچھی نظر سے نہ دیکھا کیونکہ اس وقت امریکہ اور روس کے مابین تعلقات کچھ اچھے نہ تھے پھر وزیراعظم پاکستان کے دورہ روس کے اگلے ہی روز روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔
آج امریکہ اور روس اپنے تمام تر اختلافات کو پس پشت رکھ کر ایک دوسرے کے قدرے قریب ہیں لہٰذا خطے کے دادا ابا یعنی امریکہ کو روس کے چہیتے بیلاروس کے ہمارے دورے پر کوئی تحفظات نہیں ہیں۔
حکومت پاکستان اس کی وزارت خارجہ اور اسٹیبلشمنٹ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ کامیابی ہے، دیکھنا باقی ہے ہم اس کے ثمرات کو کس قدر سمیٹ سکتے ہیں۔ بیلاروس بہت زیادہ امیر ملک نہیں ہے۔ وہ ہمیں اربوں ڈالر سالانہ کا بزنس نہیںدے سکتا لیکن وہ زرعی مشینری کی صنعت میں خاصا ترقی کر چکا ہے۔ پاکستان میں اول اول جو ٹریکٹر آیا وہ بیلاروس کا تھا بعدازاں امریکہ کا تیار کردہ فورڈ ٹریکٹر ہم نے استعمال کیا جو بیلاروس کی نسبت مہنگا تھا اور اس قدر پائیدار نہ تھا۔
پاکستانی وفد نے ٹریکٹر بنانے والے کارخانے کے علاوہ اور متعدد اہم فیکٹریوں کا دورہ کیا ہے۔ ماضی میں بیلاروس ٹریکٹر سالانہ پانچ ہزار ٹریکٹر بنایا کرتا ہے۔ آج اس کی استعداد پچاس ہزار ٹریکٹر سالانہ ہے۔ وہ آدھی دنیا کو اپنے ٹریکٹر اور زرعی آلات فروخت کر رہا ہے۔
بیلاروس پاکستانی منرلز، دفاعی سازوسامان، آئی ٹی مصنوعات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ہم انہیں کیا اور کس قدر بیچتے ہیں اور وہ ہم سے کیا اور کس قدر خریدتے ہیں۔ باہمی تجارت کا حجم آئندہ تین ماہ میں واضح ہو جائے گا۔ حکومت مخالف حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ بیلاروس کے دورے پر جانے والے ایک وزیر کے علاوہ دیگر تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ کیا بہتر ہوتا کہ بیلاروس کے وفد کی طرح پاکستان سے بھی ایک بڑا تجارتی وفد وہاں جاتا اور ان کی تاجر برادری سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتا۔ خبر تو یہ بھی گرم ہے کہ پاکستان سے افرادی قوت بیلاروس میں ا ہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن ہماری افرادی قوت نے دنیا میں جو گل کھلائے ہیں وہ دنیا کے سامنے ہیں لہٰذا ہمیں خوابوں کی دنیا سے باہر آنا ہو گا، بذریعہ بیلاروس ہم روس کے قریب ہو سکتے ہیں۔

ٹیگز: