Wed, September 16, 2026

اسلام آباد: سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم منظور کر لیں

اسلام آباد: سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم منظور کر لیں

اسلام آباد: سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم میں شامل نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کی، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم کا نیا متن پیش کیا۔ اس ترمیم کو شق وار منظوری دی گئی، جس کے دوران اپوزیشن نے احتجاج بھی کیا۔

اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے "عدلیہ کی تباہی نامنظور" کے نعرے لگائے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے انہیں احتجاج ختم کرنے کی ہدایت کی۔ پی ٹی آئی کے ارکان نے اس موقع پر ووٹنگ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا اور چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا۔ جے یو آئی ف کے چار ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔

ترمیم کے حق میں 64 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔ اس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے ترمیم کی منظوری کا اعلان کیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ اس ترمیم کے مطابق آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں جو جج سینئر ہو گا، وہ چیف جسٹس پاکستان کہلائے گا۔ مزید یہ کہ صدر کا حلف اور الیکشن کمیشن کا حلف بھی چیف جسٹس پاکستان لیں گے۔

اس ترمیم کو قومی اسمبلی میں بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر ڈائس کے سامنے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

نئی ترامیم میں سنگین غداری کے کیسز سے متعلق بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کے تحت ان مقدمات کو کسی عدالت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ آئینی عدالت کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت کو بھی اس نوعیت کے مقدمات کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہوگا۔آئینی ترمیم کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں ان ترامیم کی بنیاد پر قانونی تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔

ٹیگز: