Wed, September 16, 2026

قومی اسمبلی سے منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

قومی اسمبلی سے منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد: قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کا نیا مسودہ آج سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا، جس میں 56 مختلف شقوں میں ترمیم کی گئی ہے۔ ترمیمی بل میں کچھ شقوں کو حذف کیا گیا ہے جبکہ دیگر میں نئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

اس بل میں خاص طور پر آرٹیکل 255، آرٹیکل 214 اور آرٹیکل 168 کی شق دو سمیت کئی اہم شقوں میں تبدیلیاں شامل کی گئی ہیں۔ سینیٹ میں اس بل کی پیشی پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، اور نعرے بازی کرتے ہوئے ڈیسک بجائے۔ ان تبدیلیوں میں کچھ ترامیم کو واپس لے لیا گیا ہے، جب کہ بعض میں اضافے کیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی نے اس ترمیم میں آٹھ اضافی ترامیم منظور کی ہیں، جن میں آرٹیکل 6 کی شق 2A اور آرٹیکل 10 کی شق 2A میں کی جانے والی تبدیلیاں نمایاں ہیں۔ ان ترامیم میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی وضاحت اور آئینی عدالتوں کے کردار کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں اس ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد سینیٹ میں اس کی منظوری کا عمل جاری ہے۔ تاہم، جے یو آئی ف نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

اب اس ترمیمی بل کو سینیٹ سے منظور کرانے کی کارروائی کی جائے گی، اور اس کے بعد وفاقی کابینہ آئینی ترامیم کے تحت مختلف قوانین میں تبدیلیاں کرے گی۔

ٹیگز: