سفارتی میدان میں وعدوں کی پاسداری کسی بھی ملک کی ساکھ اور اعتماد کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب ریاستیں اپنے کیے گئے معاہدوں اور یقین دہانیوں پر عمل نہیں کرتیں تو بین الاقوامی نظام میں ان کی ساکھ مجروح ہوتی ہے اور سفارتی تنہائی جنم لیتی ہے۔ کامیاب سفارتکاری اسی وقت ممکن ہے جب الفاظ اور عمل میں مطابقت ہو اور وعدے وقتی مصلحت کے بجائے دیرپا اعتماد کی علامت بنیں۔افغانستان ایک بار پھر عالمی ضمیر کے سامنے سوال بن کر کھڑا ہے۔ کیا دنیا کو طالبان کے وعدوں پر مزید اعتبار کرنا چاہیے؟ دوحہ معاہدہ ہو یا حالیہ سہ فریقی معاہدے، طالبان حکومت نے بارہا اپنے قول سے انحراف کیا ہے۔ ان کے اقدامات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔
2020 ء کا دوحہ معاہدہ طالبان اور امریکہ کے درمیان ایک اہم سنگِ میل سمجھا گیا۔ اس معاہدے میں طالبان نے دو بنیادی وعدے کیے تھے، پہلابین الافغانی مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنا جبکہ دوسراافغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا۔ ان وعدوں کے بدلے میں طالبان کو بین الاقوامی سطح پر جائز حیثیت، مالی امداد اور سفارتی نرم رویہ ملا۔ مگر جیسے ہی غیر ملکی افواج افغانستان سے نکلیں، طالبان نے طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ کرلیا۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی لگائی، اور معاشرتی آزادیوں کا گلا گھونٹ دیا۔ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ امن کا نیا دور شروع ہوگا، لیکن ان میں سے بیشتر دوبارہ جنگ میں شامل ہو گئے۔ طالبان کی حکومت نے عملی طور پر وہی پرانی انتہا پسندی، مذہبی تنگ نظری اور نسلی بالادستی برقرار رکھی۔یوں افغانستان کی جانب سے وعدوں کی دھند چھائی رہی مگر حقیقت کا سایہ بھی کہیں نظر نہ آیا۔
افغانستان کا معاشرہ متنوع ہے۔ پشتون، تاجک، ازبک، ہزارہ، بلوچ، نورستانی ، سب اس سرزمین کا حصہ ہیںمگر طالبان حکومت مکمل طور پر پشتون اکثریت کے زیرِ اثر ہے۔ 49 رکنی کابینہ میں غیر پشتون نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کلیدی وزارتیں، گورنریاں اور شوریٰ سب ایک ہی گروہ کے ہاتھ میں ہیں۔ قندھار شوریٰ، جو طالبان کی اصل طاقت ہے، مکمل طور پر پشتون عسکری کمانڈروں پر مشتمل ہے۔ یہ ساخت ظاہر کرتی ہے کہ طالبان ’’اسلامی امارت‘‘ کے نام پر دراصل ایک نسلی اقتدار کو مستحکم کر رہے ہیں۔دوسری جانب طالبان نے دوحہ معاہدے میں یہ عہد کیا تھا کہ وہ افغانستان کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے مگر حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ 2022 ء میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو کابل کے وسط میں ایک امریکی ڈرون نے ہلاک کیا۔ایک سال بعد جب طالبان مکمل کنٹرول حاصل کر چکے تھے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس، امریکی ادارہ SIGAR اور مختلف خفیہ رپورٹس مسلسل یہ بتا رہی ہیں کہ القاعدہ، داعش خراسان اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کو افغانستان میں کھلی چھوٹ حاصل ہے۔
رپورٹس کے مطابق طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی GDI نے نہ صرف ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو رہائش فراہم کی بلکہ انہیں نقل و حرکت کی اجازت، اسلحہ لائسنس اور گرفتاری سے استثنا بھی دیا۔ یہ تمام شواہد اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ طالبان حکومت دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ’’نظریاتی بھائیوں‘‘ کے طور پر تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ افسوس اس بات کا رہا کہ افغانستان میں جاری دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان بن رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے جنگجو بارہا سرحد پار حملے کرتے ہیں۔ 2025 ء کے ابتدائی نو مہینوں میں پاکستانی فورسز نے 135 افغان جنگجوؤں کو ہلاک کیا جبکہ مجموعی طور پر 267 افغان شہری دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہو کر مارے گئے۔ شمالی وزیرستان اور ژوب کے علاقوں میں ہونے والے بڑے آپریشنز کے بعد طالبان حکومت نے ان دہشت گردوں کی لاشوں کی واپسی کی درخواست کی ، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ حملہ آور افغان سرزمین سے آئے تھے۔پاکستان نے طالبان کو بارہا سمجھایا کہ وہ ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) جیسے گروہوں کی حمایت ترک کرے۔ 2021 ء سے اب تک درجنوں سفارتی رابطے، وزارتی سطح کے دورے، مشترکہ کمیٹیوں کے اجلاس اور درجنوں احتجاجی نوٹس دیے گئے، مگر طالبان کا رویہ نہیں بدلا۔2024ء میں پاکستان، متحدہ عرب امارات اور طالبان کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدہ طے پایا۔ طالبان نے وعدہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو سرحدی علاقوں سے دور منتقل کریں گے اور ان کی پاکستان میں دراندازی روکی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے یو اے ای نے مالی امداد فراہم کی، مگر طالبان نے محض چند سو افراد کو وقتی طور پر ہٹایا، اور ان کی نگرانی کا کوئی نظام قائم نہیں کیا اور نہ ہی فہرستیں دی گئیں نہ ضمانتیں۔ اس کے برعکس وہی دہشت گرد دوبارہ سرحدی علاقوں میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔
یہ ایک المیہ ہے کہ طالبان حکومت اپنی تمام زیادتیوں کے باوجود مالی امداد حاصل کر رہی ہے۔ امریکہ سے ماہانہ 80 ملین ڈالر، اور اقوامِ متحدہ کے اداروں سے مختلف منصوبوں کی مد میں لاکھوں ڈالر طالبان کے ہاتھ لگ رہے ہیں۔ مگر ان رقوم کا بڑا حصہ عوامی فلاح کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی پر خرچ ہو رہا ہے۔طالبان حکومت نے افغانستان کو بین الاقوامی تنہائی سے نکالنے کے بجائے اسے دوبارہ دہشت گردی کے مرکز میں بدل دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری ان وعدوں کی عدم تکمیل پر طالبان حکومت کو جوابدہ ٹھہرائے۔ محض بیانات، قراردادیں یا امدادی پیکجوں سے بات نہیں بنے گی۔ اگر طالبان اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتے، تو اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو سیاسی، مالی اور سفارتی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔
طالبان کا مسئلہ صرف افغانستان کا نہیں بلکہ یہ پورے خطے کوچیلنج ہے۔ اگر عالمی برادری نے اب بھی چشم پوشی اختیار کی، تو ِ دہشت گردی کی نئی لہردنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ طالبان حکومت کو اس کے اپنے کیے گئے وعدوں کے آئینے میں دکھایا جائے، تاکہ دنیا جان سکے کہ امن کے نام پر کیسی سیاست ہو رہی ہے، اور کس طرح "اسلامی امارت" کے پردے میں دہشت گردی کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔